Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 2 - یونیکوڈ

421 - 457
]١٦٤٦[(١٠) وان مات ابوہ وخلَّف ابنا وخنثی فالمال بینھما عند ابی حنیفة علی ثلاثة اسھم للابن سھمان وللخنثی سھم وہوانثٰی عند ابی حنیفة رحمہ اللہ تعالی فی المیراث الا ان یثبت غیر ذلک]١٦٤٧[(١١) وقالا للخنثی نصف میراث الذکر ونصف میراث الانثی وھو قول الشعبی]١٦٤٨[(١٢) واختلفا فی قیاس قولہ فقال ابو یوسف رحمہ اللہ 

]١٦٤٦[(١٠)اگر خنثی کے والد کا انتقال ہو جائے اور ایک لڑکا اور ایک خنثی چھوڑے تو مال دونوں کے درمیان امام ابو حنیفہ کے نزدیک سہام پر ہوگا۔لڑکے کے لئے دو سہام اور خنثی کے لئے ایک سہام۔اور وہ خنثی مؤنث ہے امام ابو حنیفہ کے نزدیک میراث میں مگر یہ کہ اس کے سوا کچھ اور ثابت ہو جائے۔  
تشریح  حضرت امام ابو حنیفہ کے نزدیک میراث کے سلسلے میں خنثی مؤنث کے حکم میں ہے۔اس لئے باپ مرا اور ایک لڑکا اور خنثی چھوڑا تو لڑکے کو پورے مال کے دو حصے ملیں گے اور خنثی کو ایک حصہ ملے گا۔اور مال تین حصوں پر تقسیم کیا جائے گا۔  
وجہ  خنثی عورت ہو یہ کم درجہ ہے اور یقینی ہے اس لئے اسی پر فیصلہ کیا جائے گا۔
]١٦٤٧[(١١)اور صاحبین نے فرمایا خنثی کے لئے مذکر کی میراث کا آدھا اور مؤنث کی میراث کا آدھا ہوگا۔اور یہی قول ہے شعبی کا۔  
تشریح  صاحبین کے نزدیک خنثی کو میراث میں بھی مذکر اور مؤنث کے درمیان رکھیںگے۔ اس لئے مؤنث سے آگے اور مذکر کے حصے سے کم ملے گا۔ اور اس کا حساب اس طرح کیا جائے گا کہ مذکر کو جتنا حصہ ملے گا اس کا آدھا کیا جائے اور مؤنث کو جتنا حصہ ملے گا اس کا آدھا کیا جائے اور دونوں حصوں کو ملا کر خنثی کو دیا جائے۔جس سے مؤنث سے آگے اور مذکر سے کم ہو جائے گا۔ اور دونوں کے درمیان میں جو حصہ ہوگا وہ مل جائے گا۔
]١٦٤٨[(١٢)اور اختلاف کیا ان کے قول کے قیاس میں ۔پس امام ابو یوسف نے فرمایا مال دونوں کے درمیان سات حصوں پر ہوگا ۔بیٹے کے لئے چار اور خنثی کے لئے تین۔  
تشریح  یہ حضرت امام شعبی کے قول کی تشریح ہے کہ خنثی کو مذکر اور مؤنث کے درمیان رکھا جائے ۔اور مثال مذکور میں باپ کا انتقال ہوا اور ایک لڑکا اور ایک خنثی چھوڑا تو مسئلہ سات حصوں سے بنائیںگے۔امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ باپ مرنے کے بعد تنہا خنثی موجود ہوتا تو اس کو کس طرح حصہ ملتا۔اس اعتبار سے سہام کی تقسیم کی جائے گی۔ جبکہ امام محمد کے نزدیک لڑکا اور خنثی دونوں ایک ساتھ موجود ہو تو کس طرح ان کو حصے ملیں گے اس کا اعتبار کیا ہے۔ 
مسئلہ کی تشریح اس طرح ہے کہ ایک لڑکا ہوتو اس کو پورا مال ملتا ہے ۔اور پہلے گزر چکا ہے کہ خنثی کو لڑکے کا آدھا ملے گا اور لڑکی کا بھی آدھا ملے گا۔ اور دونوں حصوں کو ملاکر جو ہوگا وہ خنثی کو دیا جائے گا۔ اس لئے پورے مال کے چار حصے بنائیں تو خنثی کو پورے چار حصے کا آدھا دو حصے ملیں گے۔اور ایک لڑکی ہو تو پورے مال کا آدھا ملے گا یعنی چار حصوں کا آدھا دو حصے ملیں گے ۔اور خنثی کو لڑکی کے حصوں کا بھی آدھا ملنا ہے ۔ اس 

Flag Counter