وان کان المشتری شرط البراء ة منہ]١٢٩٩[ (٦٥) واذا ابتاع بثمن مؤجل فالشفیع بالخیار ان شاء اخذھا بثمن حال وان شاء صبر حتی ینقضی الاجل ثم یأخذھا]١٣٠٠[ (٦٦) واذا اقتسم الشرکاء العقار فلا شفعة لجارھم بالقسمة]١٣٠١[ (٦٧) واذا اشتری دارا فسلم الشفیع الشفعة ثم ردھا المشتری بخیار رؤیة وشرط او بعیب بقضاء
]١٢٩٩[(٦٥) اگر مشتری نے ادھار قیمت سے خریدا تو شفیع کو اختیار ہے اگر چاہے تو اس کو نقد قیمت سے لے لے اور اگر چاہے تو صبر کرے یہاں تک کہ مدت ختم ہو جائے پھر گھر کو لے۔
تشریح مثلا مشتری نے بائع سے گھر خریدا اور قیمت بعد میں دینے کی شرط کی۔اب شفیع اس گھر کو خریدنا چاہتا ہے تو اس کو گھر کی قمیت نقد دینی ہوگی۔مشتری کو ادھار کی سہولت ملنے کی وجہ سے شفیع کو ادھار کی سہولت نہیں ملے گی۔یا پھر ابھی شفعہ کا دعوی کرے اور ادھار کی مدت ختم ہو جائے تو اس وقت نقد قیمت دے کر مشتری سے خرید لے۔
وجہ مشتری کے مانگنے کی وجہ سے بائع نے مشتری پر اعتماد کرکے ادھار کی سہولت دی تھی۔اس لئے اس کا تعلق بیع سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق بائع کے اعتماد سے ہے۔بیع کا عام قاعدہ نقد ہی ادا کرنے کا ہے۔اور یہ نئی بیع مشتری اور شفیع کے درمیان ہو رہی ہے اس لئے یہاں بیع کے عام قاعدے سے نقد قیمت ہی دینی ہوگی۔کوئی ضروری نہیں ہے کہ مشتری بھی شفیع پر اعتماد کرے اور ادھار دے۔اس لئے شفیع پر نقد قیمت دینا واجب ہوگا۔
نوٹ مشتری اپنی مرضی سے شفیع کو ادھار دے تو دے سکتا ہے۔
اصول یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ ادھار لینے یا دینے کا معاملہ بائع اور مشتری کے اعتماد اور رضامندی پر ہے۔اصل بیع میں شامل نہیں ہے۔اصل بیع تو نقد قیمت پر ہی واقع ہوگی۔ ایک ہاتھ سے لو اور دوسرے ہاتھ سے دو۔اس پر دلائل گزر چکے ہیں۔
لغت ینقضی : مدت ختم ہوجائے۔ الاجل : مدت۔
]١٣٠٠[(٦٦)اگر شرکاء زمین تقسیم کریں تو تقسیم کرنے کی وجہ سے ان کے پڑوسی کو حق شفعہ نہیں ہوگا۔
وجہ حق شفعہ ہوتا ہے زمین فروخت ہونے کی وجہ سے اور مبادلة المال بالمال پائے جانے کی وجہ سے ۔اور یہاں بیع نہیں پائی گئی ہے بلکہ اپنا اپنا حصہ الگ الگ کیا گیا ہے۔اس لئے پڑوسی کو حق شفعہ نہیں ہوگا (٢) حدیث اور آثار گزر چکے ہیں۔
]١٣٠١[(٦٧)اگرگھر خریدا،پس شفیع نے شفعہ چھوڑ دیا۔پھر گھر کو مشتری نے خیار رویت یا خیار شرط یا خیار عیب کے ماتحت قضاء قاضی سے واپس کیا تو شفیع کو دو بارہ شفعہ نہیں ہے۔
تشریح مشتری نے گھر خریدا،اس وقت شفیع نے حق شفعہ چھوڑ دیا۔مشتری نے قضاء قاضی کے ذریعہ خیار رویت ، یا خیار شرط یا خیار عیب کے ماتحت گھر واپس کیا تو اس واپس کرنے کی وجہ سے دوسری مرتبہ شفیع کو حق شفعہ نہیں ملے گا۔