ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2011 |
¾اكستان Ù |
|
ہوا اَور آپ ۖ نے بطورِ اِمتحان اُن سے کہا کہ: ''جاؤ اپنے والد کو قتلکر ڈالو'' وہ صحابی فورًا حکم کی تعمیل کے لیے چل پڑے۔ آپ ۖ نے اُنہیں پھر واپس بلایا اَور فرمایا کہ: ''اپنے اِرادہ سے باز آؤ مجھے قطع رحمی کا حکم دے کر نہیں بھیجا گیا ہے'' (یعنی یہ تو محض آزمائش کے طور پر تم سے کہا گیا تھا اَور تم نے تعمیل کا اِرادہ ظاہر کرکے اِمتحان میں کامیابی حاصل کرلی ہے) پھر چند دِن کے بعد یہی حضرت طلحہ ص بیمار ہوئے، پیغمبر علیہ السلام اِن کی عیادت کے لیے تشریف لائے جبکہ موسم بارش اَور سردی کا تھا۔ اِن کے پاس سے باہر آکر آپ ۖ نے گھر والوں سے کہا کہ: ''مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ طلحہ کی وفات کا وقت قریب ہے لہٰذا اَگر ایسا حادثہ پیش آجائے تو مجھے اِطلاع دے دینا تاکہ میں اِن کے جنازہ اَور نماز میں شریک ہوسکوں اَور اِس میں جلدی کرنا'' اِس کے بعد آ پ ۖ واپس تشریف لے چلے۔ اَبھی آ پ ۖ قبیلۂ بنو سالم ہی میں پہنچے تھے کہ حضرت طلحہ بن البراء ص کی وفات ہوگئی لیکن چونکہ رات ہوچکی تھی موسم خراب تھا اَور وفات سے قبل حضرت طلحہص نے گھر والوں کو تاکید کردی تھی کہ میری وفات کی خبر پیغمبر علیہ السلام کو مت دینا اَور رات ہی میںمجھے دفن کردینا کیونکہ مجھے خطرہ ہے کہ رات میں نبیٔ کریم ۖ کے تشریف لانے پر یہودی دُشمن آپ ۖ کو نقصان پہنچاسکتے ہیں اِس لیے گھر والوں نے پیغمبر علیہ السلام کو اِطلاع نہیں دی اَور اُن کی وصیت کے مطابق اُنہیں رات ہی میں دفن کردیا گیا۔ نبیٔ کریم ۖ کو جب اَگلے دِن حادثہ کا علم ہوا تو قبر پر تشریف لاکر ہاتھ اُٹھاکر یہ دُعا فرمائی : اَللّٰہُمَّ اَلْقِ طَلْحَةَ تَضْحَکُ ِلَیْہِ وَیَضْحَکُ ِلَیْکَ۔ ''اے اللہ! آپ طلحہ سے ہنستے ہوئے مِلیے اَور اِنہیں بھی اپنے سے ہنس کر مِلنے کی سعادت سے نوازیے''۔ (حیاة الصحابہ ٢٩٩٢، الاصابہ٤٢٦٣) ( جاری ہے)