Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2011

¾اكستان Ù

59 - 65
ہوا اَور آپ  ۖ نے بطورِ اِمتحان اُن سے کہا کہ: ''جاؤ اپنے والد کو قتلکر  ڈالو'' وہ صحابی فورًا حکم کی تعمیل کے لیے چل پڑے۔ آپ  ۖ نے اُنہیں پھر واپس بلایا اَور فرمایا کہ: ''اپنے اِرادہ سے باز آؤ مجھے قطع رحمی کا حکم دے کر نہیں بھیجا گیا ہے'' (یعنی یہ تو محض آزمائش کے طور پر تم سے کہا گیا تھا اَور تم نے تعمیل کا اِرادہ ظاہر کرکے اِمتحان میں کامیابی حاصل کرلی ہے) پھر چند دِن کے بعد یہی حضرت طلحہ ص بیمار ہوئے، پیغمبر علیہ السلام اِن کی عیادت کے لیے تشریف لائے جبکہ موسم بارش اَور سردی کا تھا۔ اِن کے پاس سے باہر آکر آپ  ۖ نے گھر والوں سے کہا کہ: ''مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ طلحہ کی وفات کا وقت قریب ہے لہٰذا اَگر ایسا حادثہ پیش آجائے تو مجھے اِطلاع دے دینا تاکہ میں اِن کے جنازہ اَور نماز میں شریک ہوسکوں اَور اِس میں جلدی کرنا'' اِس کے بعد آ پ  ۖ واپس تشریف لے چلے۔
اَبھی آ پ  ۖ  قبیلۂ بنو سالم ہی میں پہنچے تھے کہ حضرت طلحہ بن البراء ص کی وفات ہوگئی لیکن چونکہ رات ہوچکی تھی موسم خراب تھا اَور وفات سے قبل حضرت طلحہص نے گھر والوں کو تاکید کردی تھی کہ میری وفات کی خبر پیغمبر علیہ السلام کو مت دینا اَور رات ہی میںمجھے دفن کردینا کیونکہ مجھے خطرہ ہے کہ رات میں نبیٔ کریم  ۖ کے تشریف لانے پر یہودی دُشمن آپ   ۖ  کو نقصان پہنچاسکتے ہیں اِس لیے گھر والوں نے پیغمبر علیہ السلام کو اِطلاع نہیں دی اَور اُن کی وصیت کے مطابق اُنہیں رات ہی میں دفن کردیا گیا۔
نبیٔ کریم  ۖ کو جب اَگلے دِن حادثہ کا علم ہوا تو قبر پر تشریف لاکر ہاتھ اُٹھاکر یہ دُعا فرمائی : اَللّٰہُمَّ اَلْقِ طَلْحَةَ تَضْحَکُ ِلَیْہِ وَیَضْحَکُ ِلَیْکَ۔ ''اے اللہ! آپ طلحہ سے ہنستے ہوئے مِلیے اَور اِنہیں بھی اپنے سے ہنس کر مِلنے کی سعادت سے نوازیے''۔ (حیاة الصحابہ ٢٩٩٢، الاصابہ٤٢٦٣)  ( جاری ہے)  
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 4 1
3 درس حديث 7 1
4 تلاوت روزے اپنی مرضی سے نہیں سنت کے مطابق رکھنے ہوتے ہیں : 8 3
5 لفظ ِ ''جوانی'' کے بجائے ''صحت'' فرمانے کی حکمت : 9 3
6 دُوسری نعمت ''فراغت '' : 10 3
7 دِلچسپی بھی آخرت بھی : 11 3
8 شوق و تفریح کا خیال فرمانا : 11 3
9 حضرت عائشہ کے ساتھ دَوڑ لگانا : 12 3
10 خوش طبعی فطری حق ہے : 12 3
11 علمی مضامین سلسلہ نمبر٤٦ 14 1
12 مرد کی دِیت کامل اَور عورت کی نصف ہو گی 14 11
13 اِس کی حکمت ؟ 14 11
14 مساوات : 16 11
15 تعامل نہیں بلکہ اِجماع : 20 11
16 روایات ِ ائمہ کرام : 20 11
17 اَقوال و فتاوٰی اَئمہ کرام : 24 11
18 اَنفَاسِ قدسیہ 27 1
19 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمدصاحب مدنی کی خصوصیات 27 1
20 صبر و تحمل ١ : 27 19
21 ایک واقعہ 33 19
22 قسط : ٢ ،آخری 35 1
23 ڈاکٹر ذاکر نائیک کے بارے میں 35 22
24 (3) اَحادیث ِنبویہ سے ناواقفیت : 35 22
25 (الف) عورتوں کے لیے حالت ِحیض میں قرآن پڑھنے کاجواز 35 22
26 (ب) خون سے وضو ٹوٹنے پراَحناف کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے : 35 22
27 (ج) مردوعورت کی نماز میں فرق کرنا جائز نہیں : 37 22
28 سوادِ اَعظم کی راہ سے نمایاں اِنحراف 38 22
29 (الف) بِلاوضو قرآن چھونا جائز ہے : 38 22
30 (ب) خطبہ ٔجمعہ عربی زبان کے بجائے مقامی زبان میں ہوناچاہیے : 39 22
31 (ج) تین طلاق سے ایک ہی طلاق ہونی چاہیے : 40 22
32 (د) پوری دُنیامیں عیدایک دِن ہو : 43 22
33 قسط : ٣ پردہ کے اَحکام 46 1
34 پردہ کے ضروری ہونے کی عقلی و عرفی دَلیل : 46 33
35 پردہ کے ضروری ہونے کی لُغوی دَلیل : 47 33
36 پردہ کے ضروری ہونے کی تمدنی شرعی دَلیل : 47 33
37 پردہ کے ضروری ہونے کی معاشرتی دَلیل : 48 33
38 پردہ کے ضروری ہونے کی ایک اَور عقلی دَلیل : 48 33
39 قسط : ٣صحابہث کی زِندگی اَور ہمارا عمل 49 1
40 حضرات ِصحابہث کی قابلِ تقلید اِمتیازی صفات 49 39
41 (٢) علمی گیرائی : 49 39
42 (الف) تعلیمی حلقے : 49 39
43 صحابہ ث معیارِ حق ہیں : 50 39
44 (ب) بدعات سے اِجتناب : 51 39
45 بدعت کا سبب جہالت ہے یا شرارت : 54 39
46 موجودہ زمانہ کاحال : 55 39
47 ''بدعت'' دین کی توہین کا سبب ہے : 56 39
48 بدعات کا خاتمہ کیسے ہو؟ : 57 39
49 (ج) پیغمبر علیہ السلام پر وَالہانہ وَارفتگی : 58 39
50 دینی مسائل ( متفرق مسائل ) 60 1
51 دین سے پھرجانا : 60 50
52 وفیات 61 50
53 63 1
54 اَخبار الجامعہ 63 1
55 بقیہ : دینی مسائل 64 50
Flag Counter