Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2011

اكستان

53 - 65
اِنَّ اللّٰہَ حَجَبَ التَّوْبَةَ عَنْ صَاحِبِ کُلِّ بِدْعَةٍ۔ (شعب الایمان ٦٠٧)
''بے شک اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہر بدعتی شخص کو توبہ کی توفیق سے محروم کر دیا ہے۔''
اِن اِرشاداتِ عالیہ کی بنیاد پر حضرات صحابہ ث  حد درجہ محتاط ہوگئے تھے اَور اُن میں کا ہر شخص ہر معاملہ میں اِس بات پر گہری نظر رکھتا تھا کہ کہیں اُمت میں کوئی بدعت جاری نہ ہوجائے چنانچہ ایک مرتبہ  حضرت عبد اللہ بن مسعود صمسجد نبوی میں تشریف لائے تو دیکھا کہ وہاں ایک جماعت بیٹھی ہوئی ہے جن میں ایک شخص پکار کر کہتا ہے کہ سو مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ  پڑھو تو سب لوگ زور زور سے تکبیر کہنے لگتے ہیں پھر وہ شخص پکارتا ہے کہ لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ  پڑھو تو سب لوگ  لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ  پڑھنے لگتے ہیں اِسی طرح وہ درود پڑھنے کو کہتاہے   تو سب لوگ درود پڑھنے لگتے ہیں، یہ کیفیت دیکھ کر حضرت عبد اللہ بن مسعود ص نے فرمایا کہ کیا تم لوگ نبی اَکرم  ۖاَور اُن کے صحابہث سے زیادہ ہدایت یافتہ ہو؟ دَر اصل تم ایک بڑی بدعت کے مرتکب ہورہے ہو  کیا تم حضرات ِصحابہث کے علم پر فضیلت رکھتے ہو؟ (اَحکام الاحکام ٥٢١ بحوالہ راہِ سنت ص١٢٤)
یعنی اِس طرح مسجد میں مل کر تکبیر وتہلیل کے نام پر شور مچانے کا عمل دَورِ نبوت اَور دَورِ صحابہ ث سے ثابت نہیں ہے اِس پر نکیر کی وجہ یہی تھی کہ کہیں یہ مخصوص ہیئت ہی بعد میں خصوصیت کے ساتھ موجب ِثواب نہ سمجھ لی جائے۔
 اِسی طرح حضرت عبد اللہ بن مسعودصنے جب یہ دیکھا کہ اَکثر ائمہ نماز کے بعد عموماً دائیں طرف رُخ کرکے بیٹھنے کا اہتمام کرتے ہیں تو آپ نے محسوس کیا کہ کہیں یہ عمل بعد میں لازم نہ سمجھ لیا جائے اِس لیے آپ نے اِرشاد فرمایا  :
لَایَجْعَلْ أَحَدُکُمْ لِلشَّیْطَانِ شَیْئًا مِّنْ صَلَا تِہ یَرٰی أَنَّ حَقًّا عَلَیْہِ أَنْ لاَ یَنْصَرِفَ ِلَّا عَنْ یَّمِیْنِہ، لَقَدْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ا کَثِیْرًا یَنْصَرِفُ عَنْ یَسَارِہ۔ 
''تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز کا کچھ حصہ شیطان کے حوالہ نہ کرے یعنی یہ نہ سمجھے کہ اِس پر دائیں طرف رُخ کرکے بیٹھنا لازم ہے اِس لیے کہ میں نے پیغمبر علیہ الصلوة والسلام  کو بہت مرتبہ بائیں طرف کو رُخ کرتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔''
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 4 1
3 درس حديث 7 1
4 تلاوت روزے اپنی مرضی سے نہیں سنت کے مطابق رکھنے ہوتے ہیں : 8 3
5 لفظ ِ ''جوانی'' کے بجائے ''صحت'' فرمانے کی حکمت : 9 3
6 دُوسری نعمت ''فراغت '' : 10 3
7 دِلچسپی بھی آخرت بھی : 11 3
8 شوق و تفریح کا خیال فرمانا : 11 3
9 حضرت عائشہ کے ساتھ دَوڑ لگانا : 12 3
10 خوش طبعی فطری حق ہے : 12 3
11 علمی مضامین سلسلہ نمبر٤٦ 14 1
12 مرد کی دِیت کامل اَور عورت کی نصف ہو گی 14 11
13 اِس کی حکمت ؟ 14 11
14 مساوات : 16 11
15 تعامل نہیں بلکہ اِجماع : 20 11
16 روایات ِ ائمہ کرام : 20 11
17 اَقوال و فتاوٰی اَئمہ کرام : 24 11
18 اَنفَاسِ قدسیہ 27 1
19 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمدصاحب مدنی کی خصوصیات 27 1
20 صبر و تحمل ١ : 27 19
21 ایک واقعہ 33 19
22 قسط : ٢ ،آخری 35 1
23 ڈاکٹر ذاکر نائیک کے بارے میں 35 22
24 (3) اَحادیث ِنبویہ سے ناواقفیت : 35 22
25 (الف) عورتوں کے لیے حالت ِحیض میں قرآن پڑھنے کاجواز 35 22
26 (ب) خون سے وضو ٹوٹنے پراَحناف کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے : 35 22
27 (ج) مردوعورت کی نماز میں فرق کرنا جائز نہیں : 37 22
28 سوادِ اَعظم کی راہ سے نمایاں اِنحراف 38 22
29 (الف) بِلاوضو قرآن چھونا جائز ہے : 38 22
30 (ب) خطبہ ٔجمعہ عربی زبان کے بجائے مقامی زبان میں ہوناچاہیے : 39 22
31 (ج) تین طلاق سے ایک ہی طلاق ہونی چاہیے : 40 22
32 (د) پوری دُنیامیں عیدایک دِن ہو : 43 22
33 قسط : ٣ پردہ کے اَحکام 46 1
34 پردہ کے ضروری ہونے کی عقلی و عرفی دَلیل : 46 33
35 پردہ کے ضروری ہونے کی لُغوی دَلیل : 47 33
36 پردہ کے ضروری ہونے کی تمدنی شرعی دَلیل : 47 33
37 پردہ کے ضروری ہونے کی معاشرتی دَلیل : 48 33
38 پردہ کے ضروری ہونے کی ایک اَور عقلی دَلیل : 48 33
39 قسط : ٣صحابہث کی زِندگی اَور ہمارا عمل 49 1
40 حضرات ِصحابہث کی قابلِ تقلید اِمتیازی صفات 49 39
41 (٢) علمی گیرائی : 49 39
42 (الف) تعلیمی حلقے : 49 39
43 صحابہ ث معیارِ حق ہیں : 50 39
44 (ب) بدعات سے اِجتناب : 51 39
45 بدعت کا سبب جہالت ہے یا شرارت : 54 39
46 موجودہ زمانہ کاحال : 55 39
47 ''بدعت'' دین کی توہین کا سبب ہے : 56 39
48 بدعات کا خاتمہ کیسے ہو؟ : 57 39
49 (ج) پیغمبر علیہ السلام پر وَالہانہ وَارفتگی : 58 39
50 دینی مسائل ( متفرق مسائل ) 60 1
51 دین سے پھرجانا : 60 50
52 وفیات 61 50
53 63 1
54 اَخبار الجامعہ 63 1
55 بقیہ : دینی مسائل 64 50
Flag Counter