ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2011 |
¾اكستان Ù |
|
جب جناب رسول اللہ ۖ مدینہ منورہ ہجرت فرما کر تشریف لائے اَور آپ نے زِنا کے کیس میں رجم کی سزا دی توبنوقریظہ نے اپنے ایک قتل کے کیس میں بھی آپ سے فیصلہ چاہا۔ آپ نے یہ فیصلہ دیا کہ قرظی شخص کا خون نضیری کے خون کے برابر ہے۔ یہ سن کر بنو نضیر بگڑ گئے، کہنے لگے کہ ہم آپ کی بات نہیں مانیں گے ہم اپنا قاعدہ ہی قائم رکھیں گے۔ اِس پر یہ آیت مذکورہ بالا اُتری اَور یہ آیت بھی کہ اَفَحُکْمَ الْجَاھِلِیَّةِ یَبْغُوْنَ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰہِ حُکْمًا لِّقَوْمٍ یُّوقِنُوْنَ ۔(پارہ ٦ سُورة المائدہ آیت نمبر ٥٠ ) ''کیا زمانہ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں اَور یقین کرنے والوں کے واسطے اللہ سے بہتر حکم کرنے والا کون ہے۔ '' آپ یہ سارارکوع آیت نمبر ٤٤ سے آیت نمبر ٥٠ تک پڑھیں توحکم جاہلیت کی مراد واضح طرح سمجھ میں آجائے گی اُن لوگوں کے اِس رواج کا ثبوت تاریخ میں بھی ہے اَور تفسیر کی کتابوں میں بھی۔ اِمام شافعی فرماتے ہیں وَرُبَمَا لَمْ یَرْضَوْا اِلَّا بِعَدَدٍ یَّقْتُلُوْنَہ کبھی کبھی کئی کئی آدمیوں کے قتل پر راضی ہوا کرتے تھے۔ (احکام القرآن جلد ١ ص ٢٦٩) نیز ملاحظہ ہو تفسیر دُر منثور (ص٢٨٨ج ٢ و ص ٢٩٠ ج ٢ ) للامام السیوطی تفسیر رُوح المعانی ص ١٥٦ ج ٦ تفسیر قرطبی ص ١٨٧ ج ٦ و ص ١٩٢ ج ٦ و ص ٢١٤ وغیرہ کیونکہ یہی مضمون تفسیر کی ہر کتاب میںموجود ہے لہٰذا ''اَلنَّفْسَ بِالنَّفْسِ'' کو عام قرار دے کر یہ اِستدلال کرنا کہ عورت مرد کی دیت برابر ہے اَور یہ کہنا کہ زمانہ جاہلیت میں عورت کی دیت آدھی ہوتی تھی خلافِ واقع اَور تفسیر بالرائے ہے۔ اَور ''اَلنَّفْسَ بِالنَّفْسِ'' کو عام معنٰی پر ہی میں اگر آپ سمجھتے ہیں تو اِس میں مسلمان اَور کافر بھی برابر ماننے پڑیں گے کیونکہ جیسے مسلمان نفس ہے ویسے کافر بھی نفس ہے۔ لیکن ایسا کر نہیں سکتے لامحالہ اِس عموم میں تخصیص واِستثناء لائیں گے۔ لہٰذا یہی کہا جائے گا کہ اگر کوئی کافر دارُالحرب سے (مثلاً لڑائی کے دِنوں میں یا سفارتخانے بند ہوجانے کے بعد) کوئی ہندو پاکستان میں داخل ہوگا توچونکہ وہ بغیر اِجازت واَمان (ویزا) لیے داخل ہو اَور اُسے مسلمان سپاہی گولی مار کر ہلاک کردے تو کسی عالم اَور اِمام کے نزدیک کوئی جرمانہ نہ ہوگا لیکن آپ کے قاعدہ ''اَلنَّفْسَ بِالنَّفْسِ'' کے تحت اِس مسلمان سپاہی کو مار دینا آپ کے طرز فکر وقیاس کی رُو سے