Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2011

¾اكستان Ù

17 - 65
جب جناب رسول اللہ  ۖ  مدینہ منورہ ہجرت فرما کر تشریف لائے اَور آپ نے زِنا کے کیس میں رجم کی سزا دی توبنوقریظہ نے اپنے ایک قتل کے کیس میں بھی آپ سے فیصلہ چاہا۔ آپ نے یہ فیصلہ دیا کہ قرظی شخص کا خون نضیری کے خون کے برابر ہے۔ یہ سن کر بنو نضیر بگڑ گئے، کہنے لگے کہ ہم آپ کی بات نہیں مانیں  گے ہم اپنا قاعدہ ہی قائم رکھیں گے۔ اِس پر یہ آیت مذکورہ بالا اُتری اَور یہ آیت بھی کہ 
اَفَحُکْمَ الْجَاھِلِیَّةِ یَبْغُوْنَ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰہِ حُکْمًا لِّقَوْمٍ یُّوقِنُوْنَ ۔(پارہ ٦ سُورة المائدہ  آیت نمبر ٥٠ )
''کیا زمانہ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں اَور یقین کرنے والوں کے واسطے اللہ سے بہتر  حکم کرنے والا کون ہے۔ ''
آپ یہ سارارکوع آیت نمبر ٤٤ سے آیت نمبر ٥٠ تک پڑھیں توحکم جاہلیت کی مراد واضح طرح سمجھ میں آجائے گی اُن لوگوں کے اِس رواج کا ثبوت تاریخ میں بھی ہے اَور تفسیر کی کتابوں میں بھی۔ اِمام شافعی فرماتے ہیں  وَرُبَمَا لَمْ یَرْضَوْا اِلَّا بِعَدَدٍ یَّقْتُلُوْنَہ  کبھی کبھی کئی کئی آدمیوں کے قتل پر راضی ہوا کرتے  تھے۔ (احکام القرآن  جلد ١  ص ٢٦٩) 
نیز ملاحظہ ہو تفسیر دُر منثور (ص٢٨٨ج ٢  و  ص ٢٩٠ ج ٢ ) للامام السیوطی   تفسیر رُوح المعانی     ص ١٥٦ ج ٦ تفسیر قرطبی ص ١٨٧ ج ٦ و ص ١٩٢ ج ٦  و  ص ٢١٤ وغیرہ کیونکہ یہی مضمون تفسیر کی ہر کتاب میںموجود ہے لہٰذا ''اَلنَّفْسَ بِالنَّفْسِ'' کو عام قرار دے کر یہ اِستدلال کرنا کہ عورت مرد کی دیت برابر ہے اَور یہ کہنا کہ زمانہ جاہلیت میں عورت کی دیت آدھی ہوتی تھی خلافِ واقع اَور تفسیر بالرائے ہے۔ 
اَور ''اَلنَّفْسَ بِالنَّفْسِ'' کو عام معنٰی پر ہی میں اگر آپ سمجھتے ہیں تو اِس میں مسلمان اَور کافر بھی برابر ماننے پڑیں گے کیونکہ جیسے مسلمان نفس ہے ویسے کافر بھی نفس ہے۔ لیکن ایسا کر نہیں سکتے لامحالہ اِس عموم میں تخصیص واِستثناء لائیں گے۔ لہٰذا یہی کہا جائے گا کہ اگر کوئی کافر دارُالحرب سے (مثلاً لڑائی کے دِنوں میں یا سفارتخانے بند ہوجانے کے بعد) کوئی ہندو پاکستان میں داخل ہوگا توچونکہ وہ بغیر اِجازت واَمان (ویزا) لیے داخل ہو اَور اُسے مسلمان سپاہی گولی مار کر ہلاک کردے تو کسی عالم اَور اِمام کے نزدیک کوئی جرمانہ نہ ہوگا لیکن آپ کے قاعدہ ''اَلنَّفْسَ بِالنَّفْسِ'' کے تحت اِس مسلمان سپاہی کو مار دینا آپ کے طرز فکر وقیاس کی رُو سے
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 4 1
3 درس حديث 7 1
4 تلاوت روزے اپنی مرضی سے نہیں سنت کے مطابق رکھنے ہوتے ہیں : 8 3
5 لفظ ِ ''جوانی'' کے بجائے ''صحت'' فرمانے کی حکمت : 9 3
6 دُوسری نعمت ''فراغت '' : 10 3
7 دِلچسپی بھی آخرت بھی : 11 3
8 شوق و تفریح کا خیال فرمانا : 11 3
9 حضرت عائشہ کے ساتھ دَوڑ لگانا : 12 3
10 خوش طبعی فطری حق ہے : 12 3
11 علمی مضامین سلسلہ نمبر٤٦ 14 1
12 مرد کی دِیت کامل اَور عورت کی نصف ہو گی 14 11
13 اِس کی حکمت ؟ 14 11
14 مساوات : 16 11
15 تعامل نہیں بلکہ اِجماع : 20 11
16 روایات ِ ائمہ کرام : 20 11
17 اَقوال و فتاوٰی اَئمہ کرام : 24 11
18 اَنفَاسِ قدسیہ 27 1
19 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمدصاحب مدنی کی خصوصیات 27 1
20 صبر و تحمل ١ : 27 19
21 ایک واقعہ 33 19
22 قسط : ٢ ،آخری 35 1
23 ڈاکٹر ذاکر نائیک کے بارے میں 35 22
24 (3) اَحادیث ِنبویہ سے ناواقفیت : 35 22
25 (الف) عورتوں کے لیے حالت ِحیض میں قرآن پڑھنے کاجواز 35 22
26 (ب) خون سے وضو ٹوٹنے پراَحناف کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے : 35 22
27 (ج) مردوعورت کی نماز میں فرق کرنا جائز نہیں : 37 22
28 سوادِ اَعظم کی راہ سے نمایاں اِنحراف 38 22
29 (الف) بِلاوضو قرآن چھونا جائز ہے : 38 22
30 (ب) خطبہ ٔجمعہ عربی زبان کے بجائے مقامی زبان میں ہوناچاہیے : 39 22
31 (ج) تین طلاق سے ایک ہی طلاق ہونی چاہیے : 40 22
32 (د) پوری دُنیامیں عیدایک دِن ہو : 43 22
33 قسط : ٣ پردہ کے اَحکام 46 1
34 پردہ کے ضروری ہونے کی عقلی و عرفی دَلیل : 46 33
35 پردہ کے ضروری ہونے کی لُغوی دَلیل : 47 33
36 پردہ کے ضروری ہونے کی تمدنی شرعی دَلیل : 47 33
37 پردہ کے ضروری ہونے کی معاشرتی دَلیل : 48 33
38 پردہ کے ضروری ہونے کی ایک اَور عقلی دَلیل : 48 33
39 قسط : ٣صحابہث کی زِندگی اَور ہمارا عمل 49 1
40 حضرات ِصحابہث کی قابلِ تقلید اِمتیازی صفات 49 39
41 (٢) علمی گیرائی : 49 39
42 (الف) تعلیمی حلقے : 49 39
43 صحابہ ث معیارِ حق ہیں : 50 39
44 (ب) بدعات سے اِجتناب : 51 39
45 بدعت کا سبب جہالت ہے یا شرارت : 54 39
46 موجودہ زمانہ کاحال : 55 39
47 ''بدعت'' دین کی توہین کا سبب ہے : 56 39
48 بدعات کا خاتمہ کیسے ہو؟ : 57 39
49 (ج) پیغمبر علیہ السلام پر وَالہانہ وَارفتگی : 58 39
50 دینی مسائل ( متفرق مسائل ) 60 1
51 دین سے پھرجانا : 60 50
52 وفیات 61 50
53 63 1
54 اَخبار الجامعہ 63 1
55 بقیہ : دینی مسائل 64 50
Flag Counter