ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2010 |
اكستان |
|
(٢٢) جناب ِ رسول اللہ ۖ نے اِرشادفرمایا : جن والدین کے تین بچے مرجائیں تو وہ بچے ماں باپ کے درمیان اَور دوزخ کے درمیان دِیوار بن جائیں گے، پھر دو بچوں کے لیے بھی یہی فرمایا، پھر ایک بچہ کے لیے بھی اَیسا ہی فرمایا۔ (٢٣) اِس گوشۂ نشینی میں بفضلہ تعالیٰ بہت خیرات و مبرات ہیں۔ (٢٤) صدر بازاردہلی متصل پُل بنگش زیر صدارت مولانا نور الدین صاحب جلسہ کیا گیا ، اِس میں اہلِ محلہ کی طرف سے اَیڈریس پیش کیا گیا اَور اُس میں میری ملّی اَور وطنی خدمات کو سراہاگیاجلسہ و عظ و نصیحت کا نہ تھا اَور نہ اِسلامی تعلیمات کے بیان کرنے کا، اِسی روز صبح کو مذہبی جلسہ ہوچکا تھامولانا نور الدین صاحب نے تین یا چار برس میں ترجمہ قرآن شریف ختم کیا تھا اَور اُس کی خوشی میں جلسہ ہوچکا تھا، اِس میں مذہبی تقریر فضائل ِ قرآن اَور اُس کی تعلیمات کے متعلق تقریبًا دو گھنٹہ ہوچکی تھی نیز جامع مسجد میں تبلیغ کے متعلق مذہبی وعظ اِس سے پہلے اِسی دِن ہوچکا تھا۔شب کے جلسہ کے اعلان میں یہ طبع کیا جا چکا تھا کہ حسین احمد کو اَیڈریس پیش کیا جائے گا اَیڈریس کے جلسہ سے لیگیوں بالخصوص مولوی مظہر الدین صاحب اَور اُن کے ہمنواؤں میں اِنتہائی غصہ پھیلا ہوا تھا ،کوشش کی جارہی تھی کہ جلسہ کو درہم برہم کیاجائے جس کو اِحساس کر کے جناب ِ صدر نے اپنی صدارتی تقریر میں کہہ دیا تھا کہ اِس جلسہ میں کانگریس اَور مسلم لیگ کے متعلق کوئی تقریر نہ ہوگی۔ اِس کے بعد میں اَیڈریس کا جواب دینے کے لیے کھڑا ہوا (صدارتی تقریر کے بعد اَیڈریس پیش کیا گیا تھا) میں نے بعض ضروری مضامین کے بعد ملک کی حالت، بیرونی ممالک اَور غیر اقوام، نیز اَندرونِ ملک میں آزادی کا تمہیدی مضمون شروع کیا تو کہا کہ موجودہ زمانہ میں قومیں اَوطان سے بنتی ہیں، نسل یا مذہب سے نہیں بنتی ہیں۔ دیکھو! اِنگلستان میں بسنے والے سب ایک قوم شمار کیے جاتے ہیں حالانکہ اُن میں یہودی بھی ہیں نصرانی بھی، پروٹسٹنٹ بھی ہیںکیتھولک بھی، یہی حال امریکہ جاپان و غیرہ کا ہے الخ ۔جو لوگ جلسہ کو درہم برہم کرنے آئے تھے اُنہوں نے شور مچانا شروع کیا، میں اُس وقت نہ سمجھ سکا کہ شور کی وجہ کیاہے؟ جلسہ جاری رکھنے والے لوگ اَور وہ چند آدمی جو شور و غوغا چاہتے تھے سوال جواب دیتے رہے اَور ''چپ ہو'' کے اِلفاظ سنائے دِیے، اَگلے روز ''الامان'' و غیرہ میں چھپا کہ حسین احمد نے تقریر میں کہا کہ قومیت وطن سے ہوتی ہے مذہب سے نہیں ہوتی ، اَور اِس میں شور و غوغا ہوا، اِس کے بعد اِس میں اَور دیگر