ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2010 |
¾اكستان Ù |
|
لینے سے اِس پستی میں بلندی آجاتی ہے۔ محلہ اَور پڑوس کے ''جولاہے'' آپ کے خیال میں پست واَدنیٰ لیکن کپڑا بُننے والے اگر لنکا شائر کے ہیں تو اُن کی بابت بھی آپ کا یہی خیال ہے؟ ''بزاز'' گز ہاتھ میں لیے اَور سر پر گٹھڑی اُٹھائے شہر میں پھیری کرتے پھرتے ہیں تو اُن کی کوئی عزت و وقعت نگاہ میں نہیں لیکن وہی کپڑا بیچنے والے اگر مانچسٹر کے باشندے ہیں تو معزز اَور بلند ہیں۔ بزرگوں کی سالانہ فاتحہ دِلانا دلیل حمق اَور علامت ِ وہم پرستی لیکن فلاں کالج کے احاطے میں ''فاؤنڈرس ڈے'' یا ''یوم ِ تاسیس'' دُھوم دھام سے منانا دلیلِ دانش و برہان اَور روشن خیالی! لکھنؤ کے چوک یا دہلی کے چاؤڑی کی پیشہ ور کا نام آپ بے تکلف اَور آزادی کے ساتھ ہر گز اپنے کسی بزرگ کے سامنے نہ لیں گے نہ کسی کا ناچ دیکھنے کھلم کھلا تشریف لے جائیں گے لیکن ڈرائنگ رُوم میں گھر کے سب مردوں اَور عورتوں اَور لڑکوں اَور لڑکیوںکے سامنے ٹی وی پر بے تکلف فلاںبائی جی اَور فلاں ''جان'' کے نغموں اَور ٹھمریوں سے لطف اُٹھائیں گے اَور جو فلمی آرٹسٹ آپ کے دِل میں جگہ کر لے پوری بیبا کی سے آپ اُس کے چرچے ہر چھوٹے بڑے کے سامنے کریں گے۔ کوئی کہاں تک گنائے اَور ناموں اَور لفظوں کی کتنی لمبی فہرست تیار کرے۔ نمونے کے لیے یہ کافی بلکہ کافی سے کچھ زائد ہی ہیں۔اپنی واقفیت کی دُنیا میں خود نظر دَوڑائیے اَور دیکھ لیجیے کہ زندگی کے ہر شعبہ میں معاشرت و معاملات کے ہر گوشے میں فرنگیت کا کتنا رُعب ہم پر اَور آپ پر چھایا ہے۔ حقیقت ایک، معنٰی و مفہوم متحد لیکن جو لفظ اَورجو نام فرنگیت اَور ''صاحب '' کے رشتے سے آپ کے کانوں تک پہنچے ہیں اُن سے کتنی زیادہ عظمت، کتنی زیادہ اہمیت، کتنی زیادہ بلندی ہمارے دلوں اَور دماغوں نے غیر محسوس طور پر قبول کر لی ہے! اَگلوں نے بہت کیا تو یہی کیا کہ ملک فتح کر لیے، قلعے تعمیر کر لیے، قلعے سَر کر ڈالے، فوجوں کو میدانِ جنگ میں شکست دے دی۔اِس سے زیادہ نہ چنگیز سے کچھ بن پڑا نہ ہلاکو سے، نہ دارا سے، نہ اسکندر سے، یہ شرف مخصوص اُسی دور کے لیے ہے کہ جسم کے ساتھ ساتھ دل و دماغ بھی فتح کر لیے جاتے ہیں اَور ہاتھوں پیروں کے علاوہ عقلوں دماغوں اَوربصیرتوں سے بھی خط ِغلامی لکھو الیا جاتا ہے یہاں تک کہ غریب محکموں کے پاس ''خیر و شر'' حسن و قبح، ہنر و عیب کا معیار لے دے کے بس یہی ایک رہ جاتا ہے کہ ''صاحب'' کی چشم ِالتفات کدھر ہے؟ عزت بھی ''صاحب'' کی دِی ہوئی اَور دولت بھی سَر کار کی مرحمت کی ہوئی، دین بھی وہیں کا عطیہ