ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2010 |
اكستان |
|
لڑکے میں دو بکرے اَور لڑکی میں ایک بکرا ہونے کی حکمت : ٭ آنحضرت ۖ اِرشاد فرماتے ہیں : عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ وَعَنِ الْجَارِیَةِ شَاة یعنی لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اَور لڑکی کی طرف سے ایک بکری عقیقہ میں دینی چاہیے۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ لوگوں کے نزدیک لڑکیوں کی بہ نسبت لڑکوں کا نفع زیادہ ہے لہٰذا (لڑکے کے لیے) دو کا ذبح کرنا زیادتی اور اُس کی عظمت کے مناسب ہے۔ ابن ِ قیم لکھتے ہیں کہ لڑکے کے لیے دو اَور لڑکی کے لیے ایک بکری سے عقیقہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ لڑکے کو لڑکی پر فضیلت ہے اَور جب لڑکے کے وجود سے والد پر نعمت کا کمال اَور سرور و خوشی زیادہ ہوتی ہے تو اِس پر مزید شکر واجب ہے کیونکہ جب نعمت زیادہ ملتی ہے تو زیادہ شکر کرنا لازم ہے۔ (المصالح العقلیہ ص ٢٥٠) مسئلہ : لڑکے کے لیے دو بکریاں اَور لڑکی کے لیے ایک۔ اَور اگر بڑے جانور میں حصّہ لے تو لڑکے کے لیے دو حصے اَور لڑکی کے لیے ایک حصّہ لے۔ اگر کسی کو زیادہ توفیق نہیں اِس لیے اُس نے لڑکے کی طرف سے ایک ہی بکری ذبح کی تو بھی جائز ہے۔ (اصلاح الرسوم) بچہ کے سر کے بال کے برابر چاندی صدقہ کرنا : آنحضرت ۖ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا کہ اے فاطمہ اِس کے سر کے بالوں کو منڈوادو اَور ہم وزن اِس کے بالوں کے (یعنی بالوں کے وزن کے مطابق) چاندی خیرات کردو۔ چاندی خیرات کرنے کی وجہ یہ ہے کہ بچہ کا حالت ِ جنین سے منتقل ہوکر طفولیت کی طرف آنا (یعنی ماں کے پیٹ سے باہر آکر دُودھ پینے والا بچہ ہوجانا) اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے تو اِس پر شکر کرنا واجب ہے۔ اَور بہترین شکر یہ ہے کہ اِس کے بدلہ میں کچھ دیا جائے اَور جنین (وہ بچہ جو ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے ) کے بال جنین کا بقیہ نشان تھے ،اِن (بالوں) کا دُور ہونا دُودھ پیتے بچہ کے نشان کے استقبال کی نشانی ہے اِس لیے واجب ہوا کہ اِن کے بدلہ میں چاندی دی جائے اَور چاندی کی خصوصیت اِس وجہ سے ہے کہ سونا بہت گراں ہوتا ہے مالداروں کے سوا اَور کسی کو بھی دستیاب نہیں ہوتا اَور دُوسری چیزیں بہت کم قیمت کی ہیں چاندی درمیانی ہے اِس لیے چاندی صدقہ کرنے کا حکم ہوا۔ (اغلاط العوام)