ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2010 |
¾اكستان Ù |
|
تو اِس پر ایک اَور حدیث آتی ہے اُس میں ہے اَحَقُّ مَا اَخَذْتُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا کِتَابُ اللّٰہِ ١ اَوْکَمَا قَالَ عَلَیْہِ السَّلَامُ سب سے زیادہ اِس بات کا حق کہ تم اُس پر اُجرت لو وہ کتاب اللہ ہے کیونکہ عقلًا یہ ہے کہ کتاب اللہ قیمتی چیز ہے اُس کے اُوپر جو بھی کچھ تم لے لو وہ درُست ہوگا وہ کم قیمت ہی ہوگی اُس کی پوری قیمت تو کوئی دے ہی نہیں سکتا ہے۔ تو اِس وجہ سے ہمارے یہاں جوغیر مقلد لوگ ہیں وہ بھی تعویذ دیتے ہیں جھاڑپھونک کرتے ہیں عملیات کرتے ہیں کوئی اُس میں وہ عیب نہیں سمجھتے ۔ خود آپ ۖ نے مدفون جادُو کو نکال کر بے اَثر کیا : پھر خود آقائے نامدار ۖ پر جب جادُو ہوا ہے تو اُس وقت وہ آیتیں اُتریں دو سورتیں اُتریں قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اَور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ رسولِ کریم علیہ الصلٰوة والتسلیم تشریف لے گئے بتایا گیا کہ فلاں جگہ وہ چیزیں مدفون ہیں وہاں سے وہ چیزیں نکالی گئیں اُس میں یہ بھی سمجھ میں آتا ہے اِس سے کہ جادُو کی جو چیزیں مدفون ہوتی ہیں وہ نکالنی پڑتی ہیںاُن کو بے اَثر کرنا بڑا ضروری ہے پھر وہ اَثرات ختم ہوجاتے ہیں وہ کسی بھی طرح بے اَثر ہوجائیں ۔ جادُو کو جادُوگر پر پَلٹ دینا : اَور دُوسرا طریقہ جو ہے وہ ہے لَوٹ دینے کا۔ اُس حدیث میں یہ بھی آتا ہے کہ حضرتِ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا اَفَلَا تَنَشَّرْتَ کیا آپ نے نُشْرَةْ نہیں کیا مطلب ہے دفاع نہیں کیا مدافعت نہیں کی مدافعت کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ اُدھر سے وہ، اِدھر سے اُس کے مقابلے میں زور لگایا جائے اَورلَوٹ دیا جائے عمل ۔تو رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ اَمَّا اللّٰہُ فَقَدْ شَفَانِیْ اللہ تعالیٰ نے مجھے تو شفاء دے دی وَکَرِھْتُ اَنْ اُثِیْرَ عَلَی النَّاسِ شَرًّا یہ میں نے پسند نہیں کیا کہ لوگوں پر ایک شر پیدا کروں اَور لوٹنے میں یہ بھی ہوسکتا تھا کہ وہ کہتے کہ اِنہوں نے جادُو کیا ہے یا اَور کوئی چیز اِس قسم کی پیدا ہوجاتی یا اُس کا نام واضح ہو جاتا تو اُس سے ایک طرح کی خرابی پیدا ہوسکتی تھی تو بہر حال اللہ تعالیٰ نے مجھے تو شفاء دے دی ۔ ١ بخاری شریف ص ٨٥٤