ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2010 |
¾اكستان Ù |
|
اَور دُنیا بھی وہیں کی بخشش، اَب نہ ہندو ہندوہے، نہ مسلمان مسلمان، سب ''رعایائے سرکار'' اَب نہ کوئی اللہ دین ہے نہ رام دین بلکہ سب کے سب چَھٹ چَھٹا کر ''صاحب ِدین۔'' عام الفاظ کو چھوڑیے ستم یہ ہے کہ اَعلام و اسماء معرفہ تک یورپ زدگی کی وبا سے محفوظ نہیں۔ میاں ''کلو'' کو آپ نے اپنے یہاں جب دیکھا اِکہ دربانی ہی کرتے پایا لیکن میجر بلیک آپ کے شہر کے سول سرجن ہیں۔ ''کلو امہتر'' آپ کے محلہ ہی میں رہتا ہے لیکن پروفیسر ''بلیکی'' یونیورسٹی کے ایک ممتاز پروفیسر ہیں۔ ''لالہ گھاسی رام'' بیچارے ''کانجی ہاؤس'' کی محرری سے آگے عمر بھر نہ بڑھ سکے لیکن بریگیڈیئر جزل ''ہے'' (Hay) برطانوی فوج کے ایک مشہور و معروف اَفسر ہیں۔ ''میاں رمضانی'' اَور ''میاں شبراتی'' کی ساری عمر خدمت گاری میں گزری لیکن ''مسٹر مے'' اَور ''ڈاکٹر فرائڈے'' پارلیمان کے نامور رُکن ہیں، ''مٹھوا کہار''(May) اَور ''طوطا کلوار'' آپ کی بستی ہی میں اپنی زندگی کے دن پورے کر رہے ہیں لیکن ''سرجان پار ٹرج '' (Partridge) آپ کے صوبے کے گور نر تھے، مسٹر''کاک'' (Cock) اِس وقت آپ کے ضلع کے کلکٹر ہیں اَور ''سوان'' (Swan) صاحب ابھی تبدیل ہوکر کمشنری پر گئے ہیں۔ آپ کی ماما کا لڑکا ''شیرا'' بیچارا اَب تک چپڑاسی کی جگہ خدمت گزاری کر رہا ہے لیکن ''بُل'' (Bull) صاحب ترقی پاکر کمشنر ہو گئے ہیں اَور مسٹر لیمب (Lamb) اَور مسٹر ''کِڈ'' (Kid )آپ ہی کے ضلع میں حاکم بندوبست اَور جوائنٹ مجسٹریٹ ہیں۔ ''دریاؤسنگھ'' غریب کو لائن جمعداری سے آگے بڑھنا نصیب نہ ہوا مگر سرجان لیک (Lake) دیکھتے ہی دیکھتے ای آئی آر کے ایجنٹ ہوگئے۔ ''لالہ لوہاری مل'' کے چلائے عرائض نویسی کا کام بھی نہ چلا لیکن جسٹس اسمتھ (Smith) حکومت ِ ہند کے ہوم ممبر ہیں۔جنگلی گھسیارہ بیچارہ عمر بھر گھاس ہی چھیلتا گیا مگرسرجان فاسٹر (Forester) سنا ہے کہ امریکہ میں برطانیہ کے کونسل جنرل ہوگئے۔ (بشکریہ : ماہنامہ وفاق المدارس ملتان ، جنوری ٢٠١٠ئ)