ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2010 |
اكستان |
|
کا طریقہ یہ ہے کہ جس دِن بچہ پیدا ہو اُس سے ایک دِن پہلے عقیقہ کردے یعنی اگر جُمعہ ہو تو جمعرات کو عقیقہ کر دے اَور اگر جمعرات کو پیدا ہو تو بدھ کو کرے چاہے جب کرے حساب سے وہ ساتواں دِن پڑے گا۔ ٭ جس جانور کی قربانی جائز نہیں اُس کا عقیقہ بھی درُست نہیں اَور جس جانور کی قربانی درُست ہے اُس کا عقیقہ بھی درُست ہے۔ ٭ عقیقہ کا گوشت چاہے کچا تقسیم کردے چاہے پکاکر بانٹے چاہے دَعوت کرکے کھلادے سب درُست ہے اَور عقیقہ کا گوشت باپ، دادا، نانا،نانی وغیرہ سب کو کھلانا درُست ہے۔ (بہشتی زیور ٣/١٦٤ ) عقیقہ کی مشروعیت اَور اُس کی حکمت : اہل ِ عرب اپنی اَولاد کا عقیقہ کیا کرتے تھے۔ عقیقہ میں بہت سب مصلحتیں تھیں اِس لیے آنحضرت ۖ نے اِس کو برقرار رکھا خود بھی اِس پر عمل کیا اور دُوسروں کو بھی اِس کی ترغیب دی۔ ٭ عقیقہ کی مصلحتوں میں سے ایک مصلحت یہ ہے کہ اَولاد کے نسب کی اشاعت ہوتی ہے۔ ٭ نیز اِس میں سخاوت کے معنٰی پائے جاتے ہیں۔ ٭ نصرانیوں میں جب کسی کے بچہ ہوتا تھا تو زَرد پانی سے رَنگا کرتے تھے کہ اِس کی وجہ سے بچہ نصرانی ہوجاتا ہے۔ پس مناسب معلوم ہوا کہ ملت ِ حنیفیہ یعنی دین ِ محمدی میں اُن کے اِس فعل کے مقابلہ میں کوئی فعل پایا جائے جس سے اِس لڑکے کا حنیفی اَور ملت ِ ابراہیمی کا تابع ہونا معلوم ہو۔ (المصالح العقلیہ) ساتویں رَوز سے پہلے عقیقہ نہ ہونے کی وجہ : عقیقہ ساتویں روز کی تخصیص اِس لیے ہے کہ وِلادت اَور عقیقہ میں کچھ فاصلہ ہونا ضروری ہے کیونکہ پورا خاندان زچہ بچہ کی خبرگیری میں مصروف رہتے ہیں۔ پس ایسے وقت میں یہ مناسب نہیں ہے کہ اُن کو عقیقہ کا حکم دیکر اُن کا کام اَور زیادہ کردیا جائے۔ نیز بہت سے لوگوں کو اُسی وقت بکرے دستیاب نہیں ہو سکتے بلکہ تلاش کرنے کی حاجت ہوتی ہے اگر پہلے ہی روز عقیقہ مسنون کیا جائے تو لوگوں کو دِقت (پریشانی) ہو۔ لہٰذا سات روز کا فاصلہ ایک کافی مدت ہے اَور ساتویں روز نام رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ اِس سے پہلے لڑکے کا نام رکھنے کی کیا ضرورت ہے بلکہ نام رکھنے میں بھی مہلت چاہیے تاکہ خوب غور و فکر کے بعد اچھا نام رکھا جائے ایسا نہ ہو کہ عجلت کی وجہ سے کوئی خراب نام مقرر کردیں۔ (المصالح العقلیہ ص ٢/٢٤٨)