ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2010 |
¾اكستان Ù |
|
لگادے تو وہی ناگوار کام آپ کے لیے خوشگوار و پسند دیدہ بن جائے۔ عدالت کاپیادہ جب تک ''چپڑاسی'' یا ''مذکوری '' ہے حقیر و ذلیل ہے لیکن وہی پیادہ اگر ''بیلف'' کہہ کر پکارا جائے تو معزز ہے اَور آپ کی زبان پر محض بیلف نہیں بلکہ ''بیلف صاحب'' آنے لگے گا۔کوئی چمار یاموچی اِس قابل کب ہوتا ہے کہ آپ اُسے منہ لگائیں لیکن وہی رذیل اگر کسی ٹینری کا مالک کہلانے لگے تو معًا اُس کی رذالت آپ کی نگاہ میں عزت و شرافت سے بدل جاتی ہے اَور دُنیا کے سب سے بڑے موچی، باٹا کی قوم سے تعلق رکھنا تو عین دلیل ِاعزاز ہے۔ بستی کا ساہوکار یا مہاجن کتنا ہی بڑے سے بڑا ہو آپ کی نظر میں محض ''بنیا'' ہے لیکن وہی بنیا اگر بینک کا منیجر ہوجائے یا اپنے کوبینکر کہلانے لگے تو دیکھیے اِس کا مرتبہ دم بھر میں کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے۔ کسی رئیس کا ''مصاحب'' آپ کی نظر میں اَخلاقی حیثیت سے بے عملی، خوشامد، چاپلوسی اَور خود فروشی کا مجسمہ ہے لیکن صاحب کے ''پرائیویٹ سیکریٹری'' اَور ''اے ڈی سی'' کا نام اِدھر آیا اَور اُدھر معًا آپ کی نظروں میں کار گردگی و مستعدی، رُعب و دبدبہ کی تصویرپھر گئی! پنجایت کا نام آیا اَور آپ کے ذہن نے نیچ قوموں کا تصور شروع کردیا لیکن اِدھر پنجایت کے بجائے پارلیمنٹ اَور اسمبلی، کونسل اَور کار پوریشن کے الفاظ بولے گئے اَور آپ کا ذہن اُن فرنگی پنجایتوں کی بلندیوں پر رشک کرنے لگا۔کوئی مولوی غریب اگر عالمگیری اَور شامی کے جزئیاتِ فقہی کا حافظ ہے تو غبی، کودن، کندہ ناتراش اَور محض مُلّانا ہے لیکن اگر کسی ایڈوکیٹ یا بیرسٹر صاحب کو ہائی کورٹ اَور سریم کورٹ کے نظائر اَز بر ہیں تو اُن کی قابلیت، خوش دماغی اَور ذہانت کے اعتراف میں سب سے آگے آپ ہی ہیں۔ فسانہ عجائب اَور طلسم ہو شرُبا کے نام آج مجال ہے کہ کوئی زبان پر لا سکے لیکن لندن اَور برلن ،پیرس اَور نیویارک سے کتنے ہی نئے نئے عجائب، اَفسانے اَور کتنے ہی ہوشرُ با طلسمات، رُومانی و جاسوسی افسانے اَور ناوِل خدا معلوم کن کن ناموں سے ہر سال ہر ہفتہ اور ہر روز شائع ہوتے ہیں اَور اُن سے باخبر رہنا، پوری دلچسپی و اِنہماک کے ساتھ اُن کے نشرو اشاعت میں، اُن کے پڑھنے پڑھانے میں لگے رہنا علم و روشن خیالی کی دلیل اَور مہذب و تعلیم یافتہ ہونے کی سند ہے۔ کوئی آپ کو صلاح دے کہ ''لوہار'' کا پیشہ اِختیار کیجیے تو آپ اُسے گالی سے کچھ ہی کم سمجھیں گے لیکن مکینکل انجینئری کے عہدے کی طرف آپ خود لپک لپک کر بڑھ رہے ہیں۔ ''جراح'' کے لفظ سے جو تخیل آپ کے ذہن مین پیدا ہوتا ہے وہ کس درجہ پست ہے لیکن ''سرجن '' کا نام