ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2010 |
¾اكستان Ù |
|
جب علامہ عثمانی کے سامنے مع فوائد مسلم لیگ کا یہ فارمولا آیا تو اُس وقت مولانا مدنی اور اَکابر جمعیة علماء ِہند سب گرفتار تھے اِس لیے نقشۂ پاکستان پر جو اُس وقت تک بھی حدبند نہ تھا۔اُنہوںنے دینی نقطۂ نظر سے غورکیا اوراُنہیں پوری اُمید ہوگئی کہ اِس طرح مسلمانوں کی آزاداَور خاصی قومی مملکت بھی معرضِ وجود میں آجائے گی۔ جی الانا نے اپنی کتاب میں ص ٣٥٩ سے لے کر ص٣٧٧تک پاکستان کے فارمولے سمیت بہت سے فارمولے جمع کردیے ہیںاُن میںچودھری رحمت علی کے فارمولے کا ذکر تقریباً دس صفحات میں کیا ہے ، ہم بھی مدارجِ سیاست قائداعظم سامنے رکھنے کے لیے مسلم لیگ اَور جمعیة علماء ِہند کا رشتہ اَورکچھ نکات سامنے لانا چاہتے ہیں۔ قائداعظم کی سیاسی منزلیں : مسٹر جناح سیاست ِوطن سے بددِل ہوکرترک ِوطن کرکے لندن چلے گئے تھے اَور وہاں پریکٹس شروع کردی ( ١٩٢٨ء خطبات قائداعظم مؤلفہ رئیس احمد جعفری ص٩٣) پھر١٩٣٥ء میںجب حکومت برطانیہ کانگریسی سامراج کے سامنے سرنگوںہو رہی تھی توقائداعظم دوبارہ ہندوستان آئے ۔ ابتدائی دور میںایسا ہوا کہ مسٹر جناح اَز خود جمعیة علماء کے اِجلاس میں شریک ہوئے پھر علماء نے دعوت دینی شروع کی اس طرح قریب ہوتے گئے اَور جمعیة اَورمسلم لیگ نے مل کرکچھ نکات طے کیے جن میںمسلمانوں کے مذہبی اُمور تھے اور ایک شرط یہ بھی تھی کہ اراکین ِعاملہ میںایسے لوگ نہ لیے جائیں جوانگریز کے وفادار ہیں۔ اس کے بعد دونوںنے مل کرپورے ملک میںکام کیا ۔ مسلم لیگ بہت مختصرجماعت تھی حتی کہ اُس کے ساتھ مذکورہ بالا معاہدہ کے تحت جمعیة علماء ِہند نے پوری طرح تعاون کیا ۔لیگ کا تعارف عوام سے کرایا۔ لیگ کی آواز کو ہر جگہ پہنچایا اور اُسے عوامی جماعت بنا دیا اور لیگ کے مقابلہ میں ایگریکلچرسٹ پارٹی اوردُوسرے رُجعت پسند اُمیدواروں کو شکست ہوئی اور تقریباً تیس یا اِس سے زائد ممبران لیگ کامیاب ہوگئے ۔چودھری خلیق الزماں صاحب نے مولانا حسین احمد مدنی کو خط میں لکھا کہ'' تیس برس کی مُردہ لیگ کو آپ نے زندہ کردیا'' اُس وقت مسٹرجناح نے جمعیة کا تیارکیا ہوامینی فسٹو قبول کر لیا اِسی کو اخبار'' قیج '' دہلی میں شائع کیا جس کی پہلی دفعہ یہ تھی کہ اسمبلیوں اَور کونسلوں میں اگر کوئی خالص