ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2010 |
¾اكستان Ù |
|
قسط : ١٤ تربیت ِ اَولاد ( اَز افادات : حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی ) زیر ِنظر رسالہ '' تربیت ِ اولاد'' حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کے افادات کا مرتب مجموعہ ہے جس میں عقل ونقل اور تجربہ کی روشنی میں اَولاد کے ہونے ، نہ ہونے، ہوکر مرجانے اور حالت ِ حمل اور پیدائش سے لے کر زمانۂ بلوغ تک رُوحانی وجسمانی تعلیم وتربیت کے اِسلامی طریقے اور شرعی احکام بتلائے گئے ہیں ۔ پیدائش کے بعد پیش آنے والے معاملات ، عقیقہ، ختنہ وغیرہ اُمور تفصیل کے ساتھ ذکر کیے گئے ہیں، مرد عورت کے لیے ماں باپ بننے سے پہلے اور اُس کے بعد اِس کا مطالعہ اولاد کی صحیح رہنمائی کے لیے انشاء اللہ مفید ہوگا۔اِس کے مطابق عمل کرنے سے اَولاد نہ صرف دُنیا میں آنکھوں کی ٹھنڈک ہوگی بلکہ ذخیرہ ٔ آخرت بھی ثابت ہوگی اِنشاء اللہ۔اللہ پاک زائد سے زا ئد مسلمانوں کو اِس سے استفادہ کی توفیق نصیب فرمائے۔ عقیقہ کا بیان : ٭ عقیقہ کر دینے سے بچے کی سب اَلا بَلا دُور ہو جاتی ہے اَور آفتوں سے حفاظت رہتی ہے۔ ٭ جس سے کوئی لڑکا یا لڑکی پیدا ہو تو بہتر ہے کہ ساتویں دِن اُس کا نام رکھ دے اَور عقیقہ کردے۔ ٭ عقیقہ کا طریقہ یہ ہے کہ اگر لڑکا ہو تو دو بکری اَور اگر لڑکی ہو تو ایک بکری یا بڑے جانور میں لڑکے کے واسطے دو حصّے اَور لڑکی کے واسطے ایک حصہ کردے اَور سر کے بال مونڈ دے اَور بال کے برابر چاندی تول کر خیرات کردے اَور بچہ کے سر میں اَگر دل چاہے تو زعفران لگادے۔ ٭ کسی کو زیادہ توفیق نہیں اِس لیے اُس نے لڑکے کی طرف سے ایک ہی بکری کا عقیقہ کیا تو اِس کا بھی کچھ حرج نہیں اَور اگر بالکل عقیقہ ہی نہ کرے تو بھی کچھ حرج نہیں۔ ٭ اگر ساتویں دِن عقیقہ نہ کرے تو جب کرے ساتویں دِن ہونے کا خیال کرنا بہتر ہے اَور اِس