ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2010 |
¾اكستان Ù |
|
سامنے منہ دِکھانے کے قابل نہ سمجھیں گے لیکن جب شہر میں باکسنگ کا مقابلہ ہوگا یا کوئی ہیوی ویٹ چیمپئن آجائے گا تو اُن کا تماشا دیکھنا تہذیب وروشن خیالی میں داخل، کہیں چوری چھپے ''نوٹنکی'' دیکھنے کھڑے ہوجائیے تو خود آپ کی ثقافت اَور وضع داری آپ پر لاحول پڑھنے لگے لیکن تھیٹر میں آدھی آدھی رات بے تکلف بسر کیجیے کہ ''ڈراما'' جیسے فن شریف کی شرافت و عظمت میں کس کو کلام ہوسکتا ہے؟ اپنے دیس کے کسی بھانڈ، کسی سازندہ، کسی ڈھاڑی سے اگر آپ کی شناسائی ہے تو اُس کا ذکر آپ اپنے دوستوں اَور بے تکلف ہم عصروں کے سامنے بھی کچھ جھینپ کر ہی کرتے ہیں لیکن غیر ملکی آرٹسٹوں کے کمالات اَور آرٹ کی جتنی بھی چاہے دَاد دیجیے........ بھری محفلوں، بزرگوں اَور اُستادوں کے مجمع اَور اخبارات کے صفحات میں آپ کی نقالی ہی کو دادملتی جائے گی۔ ''نٹوں'' کا پیشہ بھی بھلا کوئی عزت کا پیشہ ہے اَور خدانخواستہ آپ کی کسی نٹ یا نٹنی سے ملاقات کیوں ہونے لگی لیکن وہی قلابازیاں کھانے والے جب سرکس والے اَور سرکس والیاں بن کر آپ کے سامنے آتے ہیں تو نہ آپ اُن سے ملنے میں شرماتے ہیں نہ تعلقات بڑھانے میں۔ جوئے یاجواریوں سے ظاہر ہے ہماری شرافت کو کیا تعلق ہو سکتا ہے؟ کوئی ہمیں جواری کہہ کر دیکھے اپنی جان اَور اُس کی جان ایک کر دیں۔ لیکن گھوڑ دوڑ کے دِنوں اَور میلے کی راتوں میں دن دہاڑے اَور بجلی کی روشنی میں یہی ذِلت ہمارے لیے عین عزت بن جاتی ہے۔ بڑے بڑے رئیس اَور معزز نہ جوئے کی بازی لگاتے ہوئے شرماتے ہیں اَور نہ اپنے کو ریس بازکہلاتے ہوئے۔چوک میں کسی حلوائی کی دُکان سے پوری مٹھائی اپنے ہاتھ سے خریدے تو نظریں بچا بچا کر لیکن حضرت گنج میں ویلر یو کی دُکان کے سامنے اپنی موٹر کھڑی کر کے کیک و پیسٹری کی خریداری بہ نفس نفیس بِلا جھجھک فرمائیے، اِس لیے کہ ''ویلر یو '' حلوائی نہیں، کنفیکشز ہے۔ کسی چوراہے پر شربت والے کی دُکان سے فالودے کا گلاس خریدنا آپ کی خودداری کے منافی لیکن حضرت گنج میں صاحب کی جگمگاتی دُکان پر آئسکریم نوش فرمانا آپ کی عزت اَور شان کے عین مطابق۔ کسی نان بائی کی دُکان کا نام اگر''ریستوران'' پڑجائے تو وہی عار فخر میں تبدیل ہوجائے، ''نائی'' بیچارہ جب تک محض نائی ہے یا حجام، اُس کے اُسترے اَور کسوت کے آگے سر جھکانا آپ کیوں کرگوارا فرما سکتے ہیں لیکن وہی جب اپنے کو''ہیئر ڈریسر'' کہلانے لگے اَور اپنے چوراہے کی دُکان پر ''ہیئرکٹنگ سیلون '' کا تختہ