ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2009 |
اكستان |
|
لیتے تھے اور اپنی خدمت خود کر لیتے تھے۔ (ترمذی شریف ) ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ ۖ لوگوں کی طرح بات میں بات نہیںپروتے چلے جاتے تھے بلکہ آپ کا کلام ایسا سُلجھا ہوا ہوتا تھا کہ ایک ایک کلمہ علیحدہ علیحدہ ہو تا تھا جسے پاس بیٹھنے والا با آسانی یاد کر لیتا تھا۔ (ترمذی شریف) ایک مرتبہ سیّد ِ عالم ۖ کے ہنسنے کے متعلق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے آپ کو کبھی پورے دانتوں اور داڑھوں کے ساتھ ہنستے ہوئے نہیں دیکھا جس سے آپ ۖکے مبارک حلق کاکوّا دیکھا جاوے آپ تو بس مسکراتے تھے۔ (بخاری شریف ) آنحضرت ۖ کی توصیف میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بھی فرمایا کہ آپ نے کبھی کسی کو اپنے دست ِمبارک سے نہیں مارا نہ کسی بیوی کو نہ کسی خادم کو۔ ہاں اللہ کی راہ میں جہاد کر تے ہوئے (اللہ کے دُشمن کو) مارا تو وہ دُوسری بات ہے اور آپ ۖ کو کسی سے کچھ کسی قسم کی اَذیت پہنچی تو اُس کا بدلہ کبھی نہیں لیا۔ ہاں اگر اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف کسی سے کوئی کام ہوجاتا تو آپ اللہ کے لیے اُس کو سزا دیتے تھے ۔(مشکوة ) حضرت سعد بن ہشام فرما تے ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یااُمّ المؤمنین رسول اللہ ۖ کے اَخلاق و عادات کے متعلق اِرشاد فرمائیے کیسے تھے؟ اِس پر اُنہوں نے فرمایا کیا تم قرآن نہیں پڑھتے ہو؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں۔ فرمایا آنحضرت ۖ کی زندگی قرآن ہی تھی۔ (مشکوٰة شریف )یعنی اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں جن اَحکام کا حکم فرمایا ہے اور جن اَخلاق کو اختیار کرنے کا حکم فرمایا ہے وہ سب پورے آنحضرت ۖ کی ذاتِ گرامی میں موجود تھے۔ حضرت عبد العزیز بن جریج روایت فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا سید عالم ۖ کن سورتوں سے نماز ِوتر اَدا فرماتے تھے۔ اِس کے جواب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ پہلی رکعت میں سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی اور دُوسری رکعت میں قُلْ یٰآ اَیُّھَا الْکَافِرُوْنَ اور تیسری رکعت میں قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدُ پڑھا کر تے تھے۔ (مشکوة عن الترمذی وابی داود و النسائی) حضرت عفیف بن الحارث رضی اللہ عنہ بیان فرما تے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے میں نے عرض کیا یہ تو فرمایئے کہ آنحضرت ۖ پر غسل واجب ہوتا تھا تو اَوّل رات ہی میں غسل فرمالیتے تھے یا