ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2009 |
اكستان |
|
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تو خود آدمی بھیج کر اُن سے مسائل معلوم کرا تے تھے۔حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے زمانۂ ا َمارت میں دمشق میں مقیم تھے اوروقت ِ ضرورت قاصد بھیج کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسئلہ معلوم کر کے عمل کر تے تھے۔ قاصد شام سے چل کر مدینہ منورہ آتا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکے مسکن کے دروازے کے سامنے کھڑے ہوکر سوال کا جواب لے کر واپس چلاجاتا تھا ۔( ماخوذ من ابن سعد) بہت سے لوگ خطوط لکھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دینی معلومات حاصل کر تے تھے اور وہ اُن کو جواب لکھا دیتی تھیں۔ عائشہ بنت طلحہ جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خصوصی شاگرد ہیں فرماتی ہیں : وَیَکْتُبُوْنَ اِلَیَّ مِنَ الْاَمْصَارِ فَاَقُوْلُ لِعَائِشَةَ یَاخَالَةُ ھٰذَا کِتَابُ فُلانِ وَھَدْیَتُہ فَتَقُوْلُ لِیْ عَائِشَةُ اَیْ بُنَیَّةُ اَجِیْبِیْہِ وَاَثِیْبِیْہِ۔ لوگ مجھے دُور دُور کے شہروں سے خطوط لکھتے تھے (اور ہدایا بھیجتے تھے ) میں عرض کرتی تھی کہ جان یہ فلاں شخص کا خط اور اُس کا ہدیہ ہے(فرمایئے اِس کا کیا جواب لکھوں ) وہ فرما دیتی تھیں کہ اے بیٹا اِسے (یہ) جواب لکھ دو اور ہدیہ کا بدلہ دے دو۔ حدیث شریف کی کتابوں میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکے فتاوٰی بکثرت آتے ہیں۔ لوگ اُن سے خصوصیت کے ساتھ آنحضرت ۖ کی اَندرونِ خانہ زندگی کے متعلق معلومات کیا کرتے تھے اور وہ بہت بے تکلفی کے ساتھ جواب دیا کر تی تھیں۔ چونکہ آنحضرت ۖ سب کچھ سکھانے اور عمل کر کے دِکھانے کے لیے اللہ رب العزت کی طرف سے بھیجے گئے تھے اِس لیے آپ کی زندگی کے کسی پہلو کو آپ کی اَزواج ِمطہرات رضی اللہ عنہن نہیں چھپا تی تھیں۔ حضرت اَسود فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے سوال کیا کہ رسول اللہ ۖ اپنے گھر میں کیا کر تے تھے؟ اُنہوں نے فرمایا اپنے گھر کے کام کاج میں مشغول رہتے تھے اور جب نماز کا وقت ہوجاتا تو نماز کے لیے تشریف لے جاتے تھے۔ (بخاری شریف) ایک مرتبہ اُنہوں نے ذرا تفصیل سے یوں بیان فرمایا کہ آنحضرت ۖ اپنی جوتی کی مرمت خود کیا کر تے تھے اور اپنا کپڑا خود سی لیتے تھے اور اپنے گھر میں اِس طرح خانگی کام کاج میں مشغول رہتے تھے جیسے تم لوگ اپنے گھروں میں کام کر تے ہو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بھی فرمایا آنحضرت ۖ اِنسانوں میں سے ایک اِنسان تھے۔ اپنے کپڑوں میں جوں خود دیکھ لیتے تھے اور اپنی بکری کا دُودھ خود دَوھ