ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2009 |
اكستان |
|
قرار دے رہے ہیں۔ یا توآپ اساتذ ۂ امام ابو یوسف رحمة اللہ علیہ سے واقف نہ تھے یا جہاں چاہتے ہیں اپنے ہی طے کردہ قاعدہ کو توڑ دیتے ہیں۔ اعمش رحمة اللہ علیہ سے خود اِمام اعظم رحمة اللہ علیہ نے بھی روایت لی ہے۔(الرفع والتکمیل ص ٥٦) ۔ یحییٰ بن معین فرماتے ہیں کہ عمدہ ترین سند یہ ہے : '' اَلْاَعْمَشُ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ''۔ (مقدمہ ابن صلاح ص ١٢) آپ نے اپنے اِس خط کے اِسی صفحہ پر لکھا تھا : '' میرے نزدیک صحیح ، حسن، غریب ،ضعیف خالی اعتبارات ہیں اَور ذہنی تمرین ہے ''۔ اِس کا مطلب تو یہ ہے کہ یہ سب بچوں کا کھیل ہے۔ لیکن دُوسری طرف آپ اُصول ِ حدیث کابڑی تندہی سے استعمال کر رہے ہیں جہاں آپ کو اَصل اور متابع ثابت کر دینے پر اصرار ہے۔ عرض یہ ہے کہ آپ ہی نہیں بلکہ جو بھی اِس انداز ِ فکر کو اپنائے گا جو آپ نے اختیار کیا ہے اُس کا یہی حال ہو جائے گا۔ کہیں تحریر میں کچھ نظر آئے گا کہیں کچھ۔ کیونکہ اُس کے پیش ِ نظر اِثبات مدعی ہوتا ہے جہاں اُسے کسی اصول سے فائدہ معلوم ہوگا اصول کا قائل ہوجائے گا اور جہاں ہدمِ اصول میں فائدہ نظر آئے گا وہاں بے دَردی سے توڑدے گا۔ وَھَلْ ھٰذَا اِلَّا اتِّبَاعُ الْھَوٰی اَعَاذَنَا اللّٰہُ وَعَافَاکُمْ ستمبر ٨٠ ء سے مارچ ٨١ ء تک کی خط وکتابت سے واضح ہوگیا ہے کہ آپ کے پاس روایت ِ تزوج کے مقابلہ میں منقول دلیل کوئی نہیں ہے۔ اِس لیے برسوں سے اِن اَحادیث پر بے ضابطہ اور بے قاعدہ و اصول ،جرح میںمصروف رہے ہیں جو صحاح ومسانید وغیرہ سب میں موجود چلی آرہی ہے۔ یہ ہے آپ کی '' تحقیق '' کا خلاصہ اِس لیے اگر جناب کو کوئی فائدہ نظر آئے تو اِس مسئلہ کو جاری رکھیں ورنہ مجھے آپ کی ساتھ آٹھ سو صفحات کی کتاب کا بخوبی اَندازہ ہوگیا ہے کہ اُس میں ہر چیز کی نفی ہی نفی بھری ہوگی۔ اور جہاں جاکر آپ نے بزعم ِخود سب کچھ منفی اور بے اَصل قرار دے دیا ہوگا وہاں اپنا مدعیٰ ثابت