ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2009 |
اكستان |
|
فقیہ ہیں۔ اور علقمہ فقاہت میں ابن عمر سے کم نہیں ہیں اگر چہ حضرت ابن عمر کو فضیلت صحابیت حاصل ہے (اور دُوسرے راوی کی فقاہت کا تقابل کر تے ہوئے فرمایا ) ابن عمر کو صحابیت کی فضیلت حاصل ہے تو اَسود کو فقاہت میں بہت فضیلت حاصل ہے۔ اور عبداللہ (بن مسعود ) تو عبد اللہ ہی ہیں (علم وفقاہت میں اپنی مثال آپ ہیں ) اِس پر اَوزاعی رحمة اللہ علیہ خاموش ہوگئے۔ (مسند ابی حنیفہ ص ٥٠) اِمام اعظم کی دلیل مسلمہ دلیل تھی۔ خطیب ِ بغدادی نے روایتوں میں تقابل کی صورت میں ترجیح کا ایک اُصول یہ بھی بیان کیا ہے : وَیُرَجَّحُ بِاَنْ یَّکُوْنَ رُوَاتُہ فُقَھَائَ لِاَنَّ عِنَایَةَ الْفَقِیْہ بِمَا یَتَعَلَّقُ مِنَ الْاَحْکَامِ اَشَدُّ مِنْ عِنَایَةِ غَیْرِہ بِذَالِکَ ۔ (کفایہ ص ٤٣٦ ) اور قاضی حسن بن عبد الرحمن نے '' المحدث الفاصل '' میں وکیع بن جراح کا یہ واقعہ نقل کیا ہے ، وکیع بن جراح رحمة اللہ علیہ نے اپنے شاگردوں سے پو چھا کہ یہ دو سندیں ہیں اِن میں تمہیں کون سی زیادہ پسند ہے۔ (١) اَعْمَشُ عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ۔ (٢) سُفْیَانُ عَنْ مَنْصُوْرٍ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ۔ ہم نے کہا اَعْمَشُ عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ زیادہ قریبی سند ہے۔ اُنہوں نے فرمایا اعمش حدیث کے شیخ ہیں اِسی طرح ابو اوائل بھی حدیث کے شیخ ہیں۔ اور سُفْیَان عَنْ مَنْصُوْرٍ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ میں یہ فضیلت ہے کہ فَقِیْہ عَنْ فَقِیْہٍ عَنْ فَقِیْہٍ عَنْ فَقِیْہٍ ۔ (سب راوی فقہا ہیں) قابوس ابن ابی ظبیان نے اپنے والد سے پو چھا کہ آپ یہ کیسے کر تے ہیں کہ علقمہ کے پاس آتے ہیں اور اصحاب رسول اللہ ۖ کو چھوڑ دیتے ہیں ۔ اُنہوں کہا بیٹا یہ اِس لیے کرتا ہوں کہ اُن سے اصحاب رسول اللہ ۖ فتوے حاصل کر لیتے ہیں۔ (المحدث الفاصل ص ٢٣٨)