Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2009

اكستان

18 - 64
فقیہ ہیں۔ اور علقمہ فقاہت میں ابن عمر سے کم نہیں ہیں اگر چہ حضرت ابن عمر کو فضیلت صحابیت حاصل ہے (اور دُوسرے راوی کی فقاہت کا تقابل کر تے ہوئے فرمایا ) ابن عمر کو صحابیت کی فضیلت حاصل ہے تو اَسود کو فقاہت میں بہت فضیلت حاصل ہے۔ اور عبداللہ (بن مسعود ) تو عبد اللہ ہی ہیں (علم وفقاہت میں اپنی مثال آپ ہیں ) اِس پر اَوزاعی رحمة اللہ علیہ خاموش ہوگئے۔ (مسند ابی حنیفہ  ص ٥٠) 
اِمام اعظم کی دلیل مسلمہ دلیل تھی۔ خطیب ِ بغدادی نے روایتوں میں تقابل کی صورت میں ترجیح کا ایک اُصول یہ بھی بیان کیا ہے  :
وَیُرَجَّحُ بِاَنْ یَّکُوْنَ رُوَاتُہ فُقَھَائَ  لِاَنَّ عِنَایَةَ الْفَقِیْہ بِمَا یَتَعَلَّقُ مِنَ الْاَحْکَامِ اَشَدُّ مِنْ عِنَایَةِ غَیْرِہ بِذَالِکَ ۔ (کفایہ ص ٤٣٦ ) 
اور قاضی حسن بن عبد الرحمن نے  '' المحدث الفاصل ''  میں وکیع بن جراح کا یہ واقعہ نقل کیا ہے ، وکیع بن جراح رحمة اللہ علیہ نے اپنے شاگردوں سے پو چھا کہ یہ دو سندیں ہیں اِن میں تمہیں کون سی زیادہ پسند ہے۔ 
(١)  اَعْمَشُ عَنْ  اَبِیْ وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ۔
(٢)  سُفْیَانُ عَنْ مَنْصُوْرٍ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ عَنْ عَلْقَمَةَ  عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ۔
  ہم نے کہا  اَعْمَشُ عَنْ  اَبِیْ وَائِلٍ  زیادہ قریبی سند ہے۔ اُنہوں نے فرمایا  اعمش حدیث کے شیخ ہیں اِسی طرح ابو اوائل بھی حدیث کے شیخ ہیں۔ اور سُفْیَان عَنْ مَنْصُوْرٍ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ  میں یہ فضیلت ہے کہ  فَقِیْہ عَنْ فَقِیْہٍ  عَنْ فَقِیْہٍ عَنْ فَقِیْہٍ ۔  (سب راوی فقہا ہیں) 
قابوس ابن ابی ظبیان نے اپنے والد سے پو چھا کہ آپ یہ کیسے کر تے ہیں کہ علقمہ کے پاس آتے ہیں اور اصحاب رسول اللہ  ۖ  کو چھوڑ دیتے ہیں ۔ اُنہوں کہا بیٹا یہ اِس لیے کرتا ہوں کہ اُن سے اصحاب رسول اللہ  ۖ  فتوے حاصل کر لیتے ہیں۔ (المحدث الفاصل ص ٢٣٨)

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 درس حدیث 6 1
4 فراست سے تشخیص اَور علاج : 7 3
5 حکیم نابینا مرحوم کا واقعہ : 8 3
6 حکیم اجمل خان مرحوم کا قصہ : 9 3
7 آپ ۖ کے حکم پر آپریشن : 10 3
8 آنکھوں کا آپریشن : 10 3
9 پہلے زمانے کے عام لوگ بھی انسانی اعضاء کی زیادہ معلومات رکھتے تھے 11 3
10 َُبعد میں مزید ترقی : 11 3
11 ملفوظات شیخ الاسلام 12 1
12 علمی مضامین 15 1
13 حضرت عائشہ کی عمر اور حکیم نیاز احمد صاحب کا مغالطہ 15 12
14 عبد الملک بن عمیر عن عائشہ : 20 12
15 اُمت ِمسلمہ کی مائیں 24 1
16 حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا 24 15
17 نَشْرُ الْعُلُوْم : 24 15
18 تربیت ِ اَولاد 28 1
19 چھوٹی اَولادکے مرجانے کے فضائل : 28 1
20 ایک بزرگ کی حکایت : 29 1
21 ایک حدیث ِ پاک کا مفہوم : 30 1
22 میں تو اِس قابل نہ تھا 32 1
23 قسط : ٣،آخری 38 1
24 قطع رحمی ....... قرآن وسنت کی روشنی میں 38 23
25 صلہ رحمی کر نے والے کی عظمت ِشان : 38 23
26 صلہ رحمی کوتقو یت دینے والے اُمور : 38 23
27 ۔ صلہ رحمی پر مرتب ہونے والے آثار کا اِستحضار 38 23
28 ۔ قطع رحمی کے انجام میں غور و فکر کر نا : 39 23
29 ۔ اللہ تعالیٰ سے دُعا 39 23
30 ۔ برائی کے مقابلے میں اچھائی کرنا 39 23
31 ۔ معذرت پر عذر قبول کرنا : 40 23
32 ۔ بغیر معذرت کے بھی اُن سے در گزر کرنا : 40 23
33 ۔ عاجزی ونر می اِختیار کرنا 40 23
34 ۔ چشم پوشی اختیار کرنا 40 23
35 ۔ خدمت کرنا : 41 23
36 ١٠۔ احسان نہ جتلانا اور بدلے کا طالب نہ ہونا : 41 23
37 ۔ رشتہ داروں کی طرف سے قلیل پر بھی نفس کو رضا مند کرنا 41 23
38 ۔ حال وخیریت وعافیت معلوم کرنا اور اُن کی طبیعت کے موافق معاملہ کرنا 41 23
39 ١٣۔ رشتہ داروں سے بے تکلفی : 42 23
40 ۔ زیادہ ڈانٹ نہ پلانا : 42 23
41 ۔ رشتہ داروں کے عتاب کو برداشت کرنا اور صحیح محمل پر اُسے محمول کرنا 42 23
42 ۔ رشتہ داروں کے ساتھ مزاح کر نے میں میانہ روی اختیار کرنا 43 23
43 ۔ لڑائی جھگڑے سے اِجتناب کرنا : 43 23
44 ۔ اختلاف ہونے کی صورت میں ہدیہ پیش کرنے میں جلدی کرنا 43 23
45 ۔ اِس بات کا استحضار کہ رشتہ دار جسم کا ایک حصہ ہیں 43 23
46 ۔ رشتہ داروں سے دُشمنی 43 23
47 ۔ ولیموں اور دعوتوں میں رشتہ داروں کو یاد رکھنا 43 23
48 ۔ آپس میں صلح صفائی پر منحصر رہنا : 44 23
49 ۔ تقسیم ِ میراث میں جلدی کرنا 44 23
50 ۔ شرکت میں اِتحاد و اِتفاق 44 23
51 ۔ معیاری اجلاس 44 23
52 ۔ صندوق ِقرابت 44 23
53 ۔ گائیڈ بُک 45 23
54 ۔ تکلیف اور مشقت میں مبتلا کرنے سے بچے 45 23
55 ۔ مشورہ کرنا : 45 23
56 گلدستہ ٔ احادیث 46 1
57 سات ہلاک کردینے والی چیزیں : 46 56
58 قیامت کے دِن عرشِ الٰہی کے سایہ میں جگہ پانے والے سات قسم کے لوگ 46 56
59 سات چیزوں کے کرنے اَور سات چیزوں سے بچنے کا حکم 47 56
60 دَرد کے دُور کرنے کی ایک دُعاء : 48 56
61 ٍُبیمار کی عیادت کے وقت ایک دُعاء : 49 56
62 ماہِ رجب کے فضائل واحکام 50 1
63 ماہِ رجب عظمت وفضیلت والا مہینہ : 50 62
64 جب نبی کریم ۖ رجب کے مہینے کا چاند دیکھتے تو یہ دُعا فرمایا کرتے تھے 51 62
65 رجب کی پہلی رات کی فضیلت : 51 62
66 ماہِ رجب میں روزے 51 62
67 ٢٢ رجب کے کونڈے 52 62
68 کونڈوں کی رسم کی شرعی حیثیت : 53 62
69 ٢٧ رجب کے منکرات اوررسمیں : 56 62
70 ٢٧رجب اورشب ِمعراج 56 62
71 حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہم فرماتے ہیں 57 62
72 ( دینی مسائل ) 60 1
73 طلاق ِ رَجعی میں رجعت کر لینے کا بیان 60 72
74 وفیات 62 1
75 اَخبار الجامعہ 63 1
Flag Counter