ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2009 |
اكستان |
|
قاضی حسن کے بعد وکیع بن جراح کا یہی واقعہ خطیب بغدادی نے بھی کفایہ میں نقل کیا ہے اِس میں کلمات یہ ہیں : وَسُفْیَانُ فَقِیْہ وَمَنْصُوْر فَقِیْہ اِبْرَاھِیْمُ فَقِیْہ وَعَلْقَمَةُ فَقِیْہ وَحَدِیْث تَدَاوَلَہُ الْفُقَھَائُ خَیْر مِّنَ اَنْ یَّتَدَاوَلَہُ الشُّیُوْخُ ۔ پھر لکھتے ہیں : ''ابراہیم بن سعید نے کہا میں نے وکیع سے یہ بات سنی ہے کہ فقہاء کی حدیث مجھے مشائخ ِ حدیث سے زیادہ پسند ہے'' ۔ (کفایہ ص ٤٣٦) اِس لیے جس سند میں ابرا ہیم اور اَسود جیسے جلیل القدر فقہا ء آرہے ہیں چاہے اُس میںایک واسطہ زیادہ ہو لا محالہ اُس سند سے افضل ہوگی جس میں ہشام اَور عروہ آر ہے ہیں چاہے سند میں ایک واسطہ کم ہو رہا ہو۔ اور قوت و صحت کے اعتبار سے سب روایتیں اعلیٰ ہیں۔ ص ١٢ : آپ نے '' تحقیق '' کے بجائے اپنا دائرہ کار معین فرمالیا ہے کہ وہ صحاح ِ ستہ ہیں اِس لیے روایت مصعب ابن سعد اَور کلمہ مثلہ کے بارے میں گفتگو بیکار ہے۔ روایت عَبْدُ اللّٰہِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ ۔ یہ اپنے والد سے صرف پندرہ سال چھوٹے تھے مدینہ شریف ہی میں رہتے تھے ۔ بارہ تیرہ سال کے تھے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی وفات ہوئی لقاء اور سماع کا اِنکار غلط ہوگا لیکن جہاں حضرت مسروق اور اَسود جیسے حضرات شا گرد ہوں وہاں فہرست اَورگنتی میں اِن کانام نہیں لیا گیا۔ محدثین کے مذہب ِراجح کو دیکھا جائے تو عن عائشہ اتصال پر محمول ہوگا اور اِس میں کلام بے ضرورت ہوگا جبکہ بہت سے حفاظ اِسی روایت میں عن عائشہ کی تصریح پر اکتفاء کر رہے ہوں اور یہ اشکال نظر اَنداز کر کے اِسی طرح روایت دے رہے ہوں اور کوئی نوٹ نہ دے رہے ہوں گویا اُن کی رائے میں سند متصل اپنی جگہ دُرست ہے جیسے ابن ِسعد وغیرہ۔ ایسی صورت میں جس نکتہ پر آپ پہنچے ہیں اُسے غلطی پکڑنا نہیں کہا جائے گا۔ ١٣ : پر ...... '' یہ روایت کا فطری اَنداز ہے '' اِن چند سطروں میں تحقیق چھوڑ کر آپ پھر اپنے ہی ترجیح ِ میلان ِ طبع میں لگ گئے ہیں۔ ١٤ پر بھی '' فرق ایک سال ہے'' میں یہی رُجحان کا ر ِ فرما ہے۔