ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2009 |
اكستان |
|
صفحہ ١٠ پر آپ نے میری بات نقل فرمائی ہے کہ : حضرت عائشہ کی ہر روایت تزوج اپنی جگہ اَصل ہے اور اِسے اُن سے سننے والے ایک دُوسرے کے متابع نہیں ہوسکتے۔ اِس پر آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ : ''آپ کا یہ اَنداز ِبیان مغالطہ آمیز ہے''۔ اس کے بعد آپ نے طویل بحث لکھی ہے اور بہت تشریح کی ہے اور تقدم و تأخر زمانی کو متابعت کی بنیاد بنایا ہے اور یہ سب صرف آپ کی اپنی ذہنی کا وش ہے جس کی حقیقت کچھ نہیں، حقیقت وہ ہے جو ابن ہمام رحمة اللہ علیہ نے فرمایا ہے آپ دیکھیں کہ نسائی نے یہ حدیث کئی طرق سے دی ہے کیا اُنہوں نے یا اِمام مسلم وغیرہ نے متابعت کا لفظ کہیں لکھا ہے جیسے کہ متابعت کے موقع پر ہر محدث لکھتا ہے ۔اور اِمام بخاری جابجا لکھتے ہیں تَابَعَہُ فُلانٍ اگر اُنہوں نے ایسا نہیں کیا تو آپ غلطی پرہیں۔ کیونکہ '' تَابَعَہ '' وہاں کہا جاتا ہے جہاں روایت کو تفرد سے نکالنے کا ثبوت دینا ہو اور یہ روایت متواتر یا مشہور ہے اِس لیے کہیں بھی کسی نے بھی ایسا نہیںفرمایا بس ذخیرہ ٔ حدیث جمع فرمادیا۔ ص ١١ کا بڑا حصہ اِسی طرح کی بحث سے بھرا ہوا ہے آخری سطر میں پھر متابعت ثابت کرنے کی ایک اور طریقہ سے سعی کی گئی ہے کہ سند کے راویوں کو گن لیا جائے۔ یہ بات آپ جیسے حنفی عالم سے بعید ہے کیونکہ اُسے مسند ابی حنیفہ تو آنی چاہیے۔ اس میں علو اَسناد کا مدار راویوں کی گنتی پر نہیں بلکہ قابلیت پر ثابت کیا گیا ہے۔ سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَةَ قَالَ اجْتَمَعَ اَبُوْحَنِیْفَةَ وَالْاَوْزَاعِیُّ فِیْ دَارِ الْحَنَّاطِیْنِ بِمَکَّةَ۔ اِس گفتگو میں اَوزاعی رحمة اللہ علیہ نے رفع یدین کی حدیث میں یہ سند پیش کی زُھْرِیْ عَنْ سَالِمٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ۖ جن میں تین واسطے ہیں۔ اِمام اعظم رحمة اللہ علیہ نے یہ سند پیش کی حَمَّاد عَنْ اِبْرَاھِیْمَ عَنْ عَلْقَمَةَ وَالْاَسْوَدِ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ۖ اور اِس سند میں چار واسطے ہیں۔ اِس کے جواب میں اَوزاعی رحمة اللہ علیہ نے کہا کہ میں عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ اَبِیْہِ کہہ رہا ہوں اور آپ کہتے ہیں حَدَّثَنِیْ حَمَّاد عَنْ اِبْرَاھِیْمَ اُن سے ابو حنیفہ رحمة اللہ علیہ نے فرمایا کہ حماد زہری سے زیادہ بڑے فقیہ ہیں اور ابراہیم سالم سے زیادہ