ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2007 |
¾اكستان Ù |
|
بیعت کی۔ جنہوں نے سب سے پہلے بیعت کی وہ حضرت طلحہ اور زبیر تھے اور حضرت علی انہیں خود خلیفہ ہوجانے کا اختیار پہلے دے چکے تھے۔ عباسی صاحب نے اپنے خارجی رجحان کی وجہ سے ہر جگہ یہی لکھا ہے کہ مدینہ شریف میں حضرت علی سے باغی بیعت ہوئے تھے۔ اہل ِ حل و عقد نے بیعت نہیں کی تھی۔ انہوں نے اعلی اور بلند پایہ روایات سرے سے حذف ہی کردی ہیں جن میں پہلے اہل ِ حل و عقد کی بیعت اور پھر بیعت عامہ دونوں بتلائی گئی ہیں۔ دیکھئے : عباسی صاحب نے العواصم من القواصم کے حاشیہ نگار کی بہت تعریف کی ہے۔ انہیں ''حقیقت ِخلافت و ملوکیت'' میں علامہ کا خطاب بھی دیا ہے (ص ٧٩۔٨٠۔٩٩) وہ لکھتے ہیں کہ مہاجرین و اَنصار سب نے بیعت کی تھی۔ ذیل میں اُس کا ترجمہ ہے جس میں اُس واقعہ کا خلاصہ بھی ہے : شہادت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے بعد پانچ دن (دارُالخلافہ) مدینہ منورہ اِس حالت میں رہا کہ اُس کا امیر غافقی بن حرب تھا۔ وہ تلاش کرتے تھے کہ کوئی آدمی ایسا مل جائے جو امارت سنبھال لے لیکن کوئی نہ ملتا تھا۔ مصری لوگ (جو باغی تھے) حضرت علی کی تلاش میں آتے تو وہ اِن سے بچنے کے لیے مدینہ شریف کے باغات میں چھپ جاتے۔ جب کہیں اِن باغیوں کا سامنا ہوتا تو آپ اُن سے دُور رہتے۔ ان کے جرم اور باتوں سے اپنی براء ت کا اظہار کرتے، بار بار اِسی طرح ہوتا رہا۔ باغیوں کی کوفی جماعت حضرت زبیر کو ڈھونڈتے تو وہ نہ ملتے۔ باغیوں نے اُن کے پاس اپنے آدمی بھیجے، انہوں نے بھی ان کے جرم اور باتوں سے براء ت کا اظہار کیا۔ بصرہ کے باغی حضرت طلحہ کے پاس جاتے تھے۔ جب کہیں وہ ملتے تو یہ اُن سے دُور ہوجاتے اور براء ت کا اظہار فرماتے۔ پھر انہوں نے حضرت سعد کے پاس آدمی بھیجے اور ان سے کہا کہ آپ حضرت عمر کی نامزد شورٰی کے حضرات میں سے ہیں۔ ہماری نظر میں یہ ہے کہ آپ پر سب جمع ہوجائیں گے۔ تشریف لائیے ہم آپ سے بیعت ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہلابھیجا کہ میں اور ابن عمر دونوں اِس معاملہ کو چھوڑچکے ہیں، مجھے اِس کی کوئی ضرورت