ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2007 |
¾اكستان Ù |
|
٭ فلسفہ خواہ یونانی ہو یا یورپی اِس حالت میں تغیر پیدا کرتا ہے جو شرعی اور آسمانی تعلیمات سے ہونی چاہیے۔ ٭ جو بنک ریاست ِ اسلامیہ کے ہیں اُن سے سُود لینا سمجھ میں نہیں آتا۔ ٭ اجابت ِ دُعاء کا اثر یہی نہیں کہ جوہم مانگتے ہیں بعینہ وہی چیز حاصل ہو، حکیم و رحیم مقتضائے حکمت و رَحمت جو بھی ہماری بہبودی کی چیز عطا فرمائے اجابت ِ دُعاء ہی میں سے ہوگا۔ ٭ معاصی میں کمی اور صدور گاہے گاہے پر شرمندگی اور نفس کو ملامت علامات ِکمالِ ایمانی میں سے ہے اِنْ سَرَّتْکَ حَسَنَتُکَ وَسَائَتْکَ سَیِّأَتُکَ فَقَدِ اسْتَکْمَلْتَ الْاِیْمَانَ (الحدیث) اَوْ کَمَا قَالَ ۔ ٭ حصول ِقوالب ِاعمال پر شکر گزار رہیے لَاِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ قوالب کے بعد ہی نفخ رُوح ہوتا ہے۔ ٭ تفسیر ''اَولیائ'' میں ایمان اور تقوٰی کو ذکر فرمایا ہے اور دونوں قلبی اُمور میں سے ہیں۔ ایمان کا قلبی ہونا ظاہر ہے فرماتے ہیں قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلٰکِنْ قُوْلُوْا اَسْلَمْنَا وَلَمَّایَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ ۔۔۔۔ الاٰیة ۔ اور تقوٰی کے لیے اِرشاد ہے اَ لَا اِنَّ التَّقْوٰی ھٰھُنَا وَاَشَارَ اِلٰی قَلْبِہ (اَوْکَمَاقَالَ) ٭ مدارِ ولایت حقیقت میں موجود اعمال ،احوال ،صفات ِ ظاہرہ اور باطنہ پر نہیں ہے بلکہ حسن ِ خاتمہ پر ہے۔ فرمایا جاتا ہے وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ اور حدیث شریف میں ہے اِنَّمَاالْاَعْمَالُ بِالْخَوَاتِیْمِ ۔ (جاری ہے)