Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2007

¾اكستان Ù

16 - 64
پذیر ہوتی رہی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مصاحف کو منضبط کردینے کی بناء پر پورے اطمینان اور وثوق کے ساتھ اِس پر توجہ ہوگئی مگر یہ تحریریں محض یاد داشت اور مسودے کے طور پر تھیں کوئی ترتیب نہ تھی۔ 
٭  تدوین ِاحادیث کا ابتدائی دَور جناب ِ رسول اللہ  ۖ  کی وفات سے پہلے ہی حسب الحکم شروع ہوجاتا ہے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مصاحف کی ترتیب کے بعد اِس میں ترقی ہوجاتی ہے۔  عمر بن عبد العزیز رحمة اللہ علیہ کے زمانہ میں عام طور پر تسوید اور ترتیب ِ ابواب جاری ہوگئی اور روز افزوں   ترقی کے ساتھ اخیر صدی تک بڑی بڑی کتابیں مرتب اور مہذب ہوکر وجود میں آگئیں۔ ہر حدیث کے معلم کے یہاں اِملاء کا طریقہ جاری تھا۔ اُن محدثین کی کیفیت جوکہ پہلی ہی صدی اور زمانہ صحابہ کرام میں مشہور بالروایت اور تدریس ِحدیث ہیں ،تاریخ میں ملاحظہ فرمائیے۔ صرف یہی طریقہ نہیں تھا کہ احادیث مجمع تحدیث میں سنادی جائیں اور اُن کی تفسیر کردی جائے بلکہ عمومًا قلم دوات اور کاغذ ہر طالب علم کے پاس ہوتا اور اُستاد کی مرویات کا ایک خزانہ جمع ہوجاتا تھا جس کی یادگار معجمات ہیں۔ معجم صغیر و کبیر، اَوسط طبرانی کی اُسی (دَور) کی یادگار ہیں۔ اِن معجمات میں اُستاد کی جملہ روایات رطب و یابس لکھی جاتی تھیں۔ امام مالک نے اوّلاً یہ قدم اُٹھایا کہ اِن روایات کی چھان پچھوڑ اور کانٹ چھانٹ کی اور اِسی وجہ سے اُن کی کتاب مؤطا وظیفۂ محدثین   میں بہت مقبول ہوئی۔ 
٭  جو کچھ بھی جناب رسول اللہ  ۖ  از قسم ِتفسیر کلام اللہ اور از قسم ِدینیات اِرشاد فرمائیں گے وہ سب وحی ہے۔ ہاں بعض وحی اِس قسم کی ہے جس کے الفاظ بھی اِلقاء فرمائے گئے ہیں اور بعض وہ ہے جس کے معنی اِلقاء کیے گئے ہیں اور الفاظ میں اختیار دیا گیا ہے۔ اُن معنی کو جناب رسول اللہ  ۖ  اپنے الفاظ میں  اَدا فرماتے ہیں، پھر وہ الفاظ دو قسم کے ہیں۔ بعض وہ ہیں جن کی نسبت جناب باری عز اسمہ' کی طرف ہے اور  اکثر وہ ہیں جن کی نسبت جناب باری عزوجل کی طرف نہیں۔ اوّل الذکر'' قرآن ''ہے، ثانی ''حدیث قدسی'' ہے ،ثالث ''عام حدیث ِقولیہ'' ہیں ۔سب واجب التسلیم ہیں مگر فرق ثبوت کے درجات میں ہے۔ 
٭  قرآن جنابِ رسول اللہ  ۖ  سے تواترًا منقول ہے۔ یعنی اِس کو نقل کرنے والے ہر  زمانے میں اِس قدر نفوسِ کثیرہ رہے ہیں جن میں جھوٹ بولنے یا غلطی کرنے کا احتمال باقی نہیں رہتا اِس لیے اِس کا منکر کافر ہے اور اِس کا ماننا عقلاً نقلاً ضروری ہے اور احادیث ِ قدسیہ ہوں یا غیر قدسیہ، اِن کو نقل کرنے
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
3 حرف ٓغاز 3 1
5 حضرت علی کی برتری اور بالآخر باقیوں کا اُن کی طرف رجوع : 7 61
6 حضرت علی کا موقف : 8 4
7 حضرت علی کا موقف : 8 61
8 اصل قاتلین اُسی وقت مارے گئے تھے : 8 61
9 بہت اچھی تدبیر : 9 61
10 حضرت زبیر نے رجوع کرلیا : 9 61
11 وفات کے وقت حضرت علی کے ہاتھ پر بیعت : 10 61
12 خارجی نے نماز کی حالت میں شہید کیا : 10 61
13 باغی قرآن کی تفسیر اپنی سمجھ سے کرتے تھے : 11 61
14 جَمَل کے بعد معرکہ صفین : 12 61
15 حضرت حسن کا دَورِ خلافت : 12 61
16 اپنے ساتھی کے مقابلہ میں حضرت معاویہ کی رائے بہتر تھی۔ جنگ اورمعاشی مسائل : 13 61
17 آخر میں حضرت معاویہ نے بھی وہی موقف اختیار کیا جو حضرت علی کا تھا : 13 61
18 موازنہ کیا جائے تو حضرت علی اور اُن کے ساتھی افضل ہیں : 13 61
19 اہل ِ بدر بھی حضرت علی کی طرف تھے : 14 61
20 حضرت علی کے فرامین ہمیشہ کے لیے باغیوں کے قوانین بن گئے : 14 61
21 ملفوظات شیخ الاسلام 15 1
22 مسائل ِعلمیہ : 15 21
23 محمود احمد عباسی کی تاریخی بد دیانتی 19 1
24 حضرت علی نے جواب دیا : 24 23
25 ابن خلدون لکھتے ہیں : 25 23
26 اور خود قاضی ابوبکر بن العربی یہ لکھتے ہیں : 27 23
27 بیعت ابن ِعمر رضی اللہ عنہما : 29 23
28 بقیہ : درس حدیث 34 3
29 صلاح ِخواتین 35 1
30 شوہر سے متعلق عورتوں کی کوتاہیاں 35 29
31 شوہر کی غلطی اور بے جا غصہ اور ناراضگی کے وقت عورت کو کیا کرنا چاہیے؟ 35 29
32 بدزبانی و زبان درازی کا مرض : 36 29
33 عورتوں کو ضروری تنبیہ : 37 29
34 شوہروں کو حقیر نہ سمجھو : 37 29
35 شوہر کی سفر سے واپسی کے وقت عورتوں کی کوتاہی : 38 29
36 شوہر کے مال میں تصرف : 38 29
37 درس ِ حدیثکریم پارک اور ڈیفنس 39 1
38 اَللَّطَائِفُ الْاَحْمَدِےَّہ فِی الْمَنَاقِبِ الْفَاطِمِےَّہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مناقب 40 1
39 تحقیق اِس بات کی کہ جس عورت کے دُنیا میں کئی نکاح ہوئے وہ جنت میں کس خاوند کو ملے گی : 40 38
40 تنبیہ : 44 38
41 فائدہ : 44 38
42 قارئین انوارِمدینہ کی خدمت میں اپیل 44 1
43 گلدستہ ٔ احادیث 45 1
45 تین قسم کے لوگ جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دِن کلام نہیں فرمائیںگے : 45 43
46 تین چیزیں نجات دینے والی اور تین ہلاک کرنے والی ہیں : 46 43
47 نامۂ اعمال تین طرح کے ہیں : 47 43
48 اِجماع اُمت اور قیاس شرعی کے منکر غیر مقلدین (اہل حدیثوں) سے چند سوالات 49 1
49 یہودی خباثتیں 54 1
51 یہودیوں کی خونخواری : 54 49
52 دینی مسائل 58 1
53 ( کافروں کے نکاح کا بیان ) 58 52
55 بقیہ : اجماع ِاُمت اور قیاس ِشرعی کے منکر 59 48
56 لمی خبریں 60 1
57 پاسبان مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے 60 56
58 ایسی آزادی پر ہزار بار لعنت 60 56
59 اخبار الجامعہ 61 1
60 انتقال پر ملال 62 1
61 درس حدیث 6 1
Flag Counter