ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2007 |
¾اكستان Ù |
|
پذیر ہوتی رہی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مصاحف کو منضبط کردینے کی بناء پر پورے اطمینان اور وثوق کے ساتھ اِس پر توجہ ہوگئی مگر یہ تحریریں محض یاد داشت اور مسودے کے طور پر تھیں کوئی ترتیب نہ تھی۔ ٭ تدوین ِاحادیث کا ابتدائی دَور جناب ِ رسول اللہ ۖ کی وفات سے پہلے ہی حسب الحکم شروع ہوجاتا ہے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مصاحف کی ترتیب کے بعد اِس میں ترقی ہوجاتی ہے۔ عمر بن عبد العزیز رحمة اللہ علیہ کے زمانہ میں عام طور پر تسوید اور ترتیب ِ ابواب جاری ہوگئی اور روز افزوں ترقی کے ساتھ اخیر صدی تک بڑی بڑی کتابیں مرتب اور مہذب ہوکر وجود میں آگئیں۔ ہر حدیث کے معلم کے یہاں اِملاء کا طریقہ جاری تھا۔ اُن محدثین کی کیفیت جوکہ پہلی ہی صدی اور زمانہ صحابہ کرام میں مشہور بالروایت اور تدریس ِحدیث ہیں ،تاریخ میں ملاحظہ فرمائیے۔ صرف یہی طریقہ نہیں تھا کہ احادیث مجمع تحدیث میں سنادی جائیں اور اُن کی تفسیر کردی جائے بلکہ عمومًا قلم دوات اور کاغذ ہر طالب علم کے پاس ہوتا اور اُستاد کی مرویات کا ایک خزانہ جمع ہوجاتا تھا جس کی یادگار معجمات ہیں۔ معجم صغیر و کبیر، اَوسط طبرانی کی اُسی (دَور) کی یادگار ہیں۔ اِن معجمات میں اُستاد کی جملہ روایات رطب و یابس لکھی جاتی تھیں۔ امام مالک نے اوّلاً یہ قدم اُٹھایا کہ اِن روایات کی چھان پچھوڑ اور کانٹ چھانٹ کی اور اِسی وجہ سے اُن کی کتاب مؤطا وظیفۂ محدثین میں بہت مقبول ہوئی۔ ٭ جو کچھ بھی جناب رسول اللہ ۖ از قسم ِتفسیر کلام اللہ اور از قسم ِدینیات اِرشاد فرمائیں گے وہ سب وحی ہے۔ ہاں بعض وحی اِس قسم کی ہے جس کے الفاظ بھی اِلقاء فرمائے گئے ہیں اور بعض وہ ہے جس کے معنی اِلقاء کیے گئے ہیں اور الفاظ میں اختیار دیا گیا ہے۔ اُن معنی کو جناب رسول اللہ ۖ اپنے الفاظ میں اَدا فرماتے ہیں، پھر وہ الفاظ دو قسم کے ہیں۔ بعض وہ ہیں جن کی نسبت جناب باری عز اسمہ' کی طرف ہے اور اکثر وہ ہیں جن کی نسبت جناب باری عزوجل کی طرف نہیں۔ اوّل الذکر'' قرآن ''ہے، ثانی ''حدیث قدسی'' ہے ،ثالث ''عام حدیث ِقولیہ'' ہیں ۔سب واجب التسلیم ہیں مگر فرق ثبوت کے درجات میں ہے۔ ٭ قرآن جنابِ رسول اللہ ۖ سے تواترًا منقول ہے۔ یعنی اِس کو نقل کرنے والے ہر زمانے میں اِس قدر نفوسِ کثیرہ رہے ہیں جن میں جھوٹ بولنے یا غلطی کرنے کا احتمال باقی نہیں رہتا اِس لیے اِس کا منکر کافر ہے اور اِس کا ماننا عقلاً نقلاً ضروری ہے اور احادیث ِ قدسیہ ہوں یا غیر قدسیہ، اِن کو نقل کرنے