Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2005

¾اكستان Ù

12 - 64
ہے جو کہ جمادی الاخرٰی اور ماہِ شعبان کے درمیان آتاہے''۔
	تشریح  :  اس آیت ِمبارکہ اور حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ مہینوں کی جو ترتیب اوراِن مہینوں کے جو نام (یعنی محرم ، رجب ، ذیقعدہ ، ذی الحجہ ) اسلام میں معروف ومشہور اور رائج ہیں وہ انسانوں کے اپنے بنائے ہوئے نہیں ہیں بلکہ رب العالمین نے جس دن آسمان وزمین پیدا کیے تھے اُسی دن یہ ترتیب اور یہ نام اوران کے ساتھ خاص مہینوں کے خاص احکام بھی متعین فرمادئیے تھے ۔ان احکام کو ان مہینوں کے مطابق رکھنا ہی دین مستقیم ہے اوراِن میں اپنی طرف سے کمی زیادتی اور ترمیم وتبدیلی کرنا فہم اور طبیعت کے ٹیڑھا ہونے کی علامت ونشانی ہے اوران مہینوں میں ان متعینہ احکام واحترام کی خلاف ورزی کرنا،اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کو چھوڑ دینا، کوئی گناہ کرنا اور عبادت گزاری میں کوتاہی کرنا اپنے اُوپر ظلم ہے ۔ تمام انبیاء علیہم السلام کی شریعتوں میں سال کے بارہ مہینے مانے جاتے تھے اوراُن میںسے چار یعنی ذیقعدہ ، ذالحجہ ، محرم اور رجب کے مہینے بڑے مبارک اورفضیلت و عظمت، ادب وشرافت،اعزاز واکرام اور احترام والے مہینے سمجھے جاتے تھے۔ تمام نبیوں کی شریعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ ان چار مہینوں میں ہر عبادت کا ثواب زیادہ ہو جاتاہے اور ان مہینوں میں کوئی گناہ کرے تو اُس کا عذاب اور وبال بھی زیادہ ہوتا ہے۔ حضور  ۖ سے پہلی شریعتوں میں ان مہینوں کے اندر جہاد وقتال بھی منع تھا ان چار مہینوں کو عربی زبان میں ''اَشْھُرِ حَرَامْ ''  یعنی عظمت واحترام والے مہینے کہا جاتا ہے۔ ان چار مہینوں کو عظمت اور احترام والے مہینے دووجہ سے کہا گیا ہے ،ایک تو اس وجہ سے کہ ان مہینوں میں جہاد وقتال حرام تھا دوسرے اس وجہ سے کہ یہ مہینے عظمت وفضیلت اور ادب وشرافت والے ہیں ، ان کا احترام ضروری ہے اوران مہینوں میں عبادت کا ثواب زیادہ ملتا ہے ۔ ان دونوں حکموں میں سے پہلا حکم یعنی جہاد وقتال کا منع ہونا تو ہماری اسلامی شریعت میں منسوخ اورختم ہو گیا اور اب ان مہینوں میں جہاد وقتال جائز ہے  ١   اور دوسرا حکم یعنی ادب اوراحترام اورعبادت کا اہتمام اب بھی اسلام میں باقی ہے۔ مفسّرِ عظیم امام ابوبکر جصاص رحمہ اللہ اپنی تفسیر ''احکام القرآن'' میں فرماتے ہیں کہ ان متبرک مہینوں کاخاصہ یہ ہے کہ ان میں جو شخص کوئی عبادت کرتا ہے اس کو بقیہ مہینوں 
  ١   اگرچہ اب بھی افضل یہی ہے کہ ان مہینوں میں بطور خود بلا ضرورت پیش قدمی نہ کی جائے (شامی) اورجہاد وقتال کی ممانعت کے منسوخ اورختم ہونے سے ان مہینوں کی عظمت اورفضیلت پر کوئی اثر نہیں پڑتا اس لیے کہ ان مہینوں کا احترام جہاد وقتال کی ممانعت کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ اس کی ممانعت خود ان مہینوں کے احترام کی وجہ سے تھی یعنی ان مہینوں کے احترام کا ایک اثر اس ممانعت کی شکل میں تھا جو کہ اب باقی نہیں رہا لہٰذا اصل ان مہینوں کا عظمت واحترام والا ہونا اپنی حیثیت پر اب بھی برقرار ہے۔(م۔ر)

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 درس حدیث 5 1
4 ''جہاد ''اور'' جنگ ''میں فرق : 6 3
5 حضرت عمر اورحضرت عثمان کے زمانہ میں ایران اورسندھ 6 3
6 اتنا بڑا علاقہ فتح ہونے کے باوجود اقتصادی مشکلات پیش نہیں آئیں 7 3
7 اسلام میں فوج اورسول کے لیے الگ الگ قوانین نہیں 7 3
8 جہاد میں گردو غبار کی فضیلت : 8 3
9 بظاہر بدعاء حقیقت میں دُعاء : 9 3
10 حضرت معاویہ کو حضرت عمر کا حکم : 9 3
11 میلے کپڑے اور اِس کا تدارک : 10 3
12 یہ جان بھی تمہاری اپنی نہیں ہے : 10 3
13 ہمیشہ روزہ سے رہنا منع فرمادیا : 10 3
14 محرم الحرام کے فضائل و احکام 11 1
15 ماہِ محرم الحرام کے روزوں کی فضیلت : 13 14
16 دس محرم کا دن : 15 14
17 دس محرم کے روزہ کی فضیلت : 17 14
18 دس محرم اوراس کے روزہ کی شرعی و تاریخی حیثیت واہمیت : 18 14
19 تنہا دس محرم کا روزہ : 21 14
20 دس محرم کو اہلِ وعیال پر وسعت کرنا : 23 14
21 اسلام اپنے اعلیٰ اوصاف کی وجہ سے دوسرے سب دینوں پر غالب ہے 26 1
22 حضرت زکی کیفی 34 1
23 دینی اُمور پر اُجرت 35 1
24 منور صاحب کے دلائل : 35 23
25 (١) پہلی دلیل : 35 23
26 دوسری دلیل : 37 23
27 تیسری دلیل : 38 23
28 چوتھی دلیل : 39 23
29 پانچویں دلیل : 39 23
30 چھٹی دلیل : 40 23
31 امام اعظم رحمہ اللہ کا فتوٰی : 40 23
32 بقیہ : درس ِ حدیث 44 3
33 حکومت .....عوام ..... قادیانی..... اور پاکستان؟.....! 45 1
34 اعمالِ مغفرت 50 1
35 (١) اللہ کے راستے کا ذکر : 50 34
36 (٢) حج کرنا : 50 34
37 (٣) پچاس مرتبہ طواف کرنا : 50 34
38 (٤) مسلمان کی حاجت پوری کرنا : 51 34
39 (٥) میت کی تجہیز و تکفین : 51 34
40 (٦) بیماری پر صبر کرنا : 51 34
41 (٧) بدھ ، جمعرات اور جمعہ کا روزہ : 51 34
42 (٨) سوتے وقت کا ایک وظیفہ : 52 34
43 (٩) نماز کا اہتمام کرنا : 52 34
44 (١٠) نماز ِاشراق پڑھنا : 52 34
45 (١١) روزہ اور تراویح کا اہتمام : 52 34
46 (١٢) شش عید کے روزے : 53 34
47 (١٣) لاحول ولا قوة الا باللہ کی فضیلت : 53 34
48 (١٤) دوسو مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھنا : 53 34
49 (١٥) کامل وضو اور نفل نمازکی ادائیگی : 53 34
50 (١٧) اذان کہنے کا اجر : 54 34
51 (١٨) سجدے میں دُعاء مانگنا : 54 34
52 (١٩) ظہر سے قبل چار رکعت : 54 34
53 (٢٠) عصر سے قبل چار رکعت : 54 34
54 (٢١) مغرب کے بعد نماز پڑھنا : 54 34
55 (٢٣) جمعہ کے دن غسل کرنا : 55 34
56 (٢٤) بروز جمعہ نمازِ فجر کا اہتمام : 55 34
57 (٢٥) ہر مہینے تین روزے رکھنا : 55 34
58 (٢٦) آسان وظیفہ : 55 34
59 (٢٧) شب ِجمعہ میں ُسورہ دُخان کی تلاوت کرنا : 55 34
60 (٢٨) شبِ جمعہ میں سورۂ یٰسین پڑھنا : 56 34
61 (٢٩) صبح وشام کا وظیفہ : 56 34
62 (٣٠) ایک اور آسان وظیفہ : 56 34
63 (٣١) سورہ تبارک الذی کی فضیلت : 56 34
64 (٣٢) کامل استغفار : 56 34
65 (٣٣) اللہ سے مغفرت طلب کرنا : 57 34
66 (٣٤) جمعہ کے روز سورۂ کہف پڑھنا : 57 34
67 (٣٥) مختصر وظیفہ : 57 34
68 (٣٦) ذکر کی مجلس پرمغفرت : 57 34
69 (٣٧) نعمت پر حمد پڑھنا : 57 34
70 (٣٨) مجلس کا کفارہ : 58 34
71 (٣٩) تین بار دُرود شریف پڑھنا : 58 34
72 (٤٠) کثرت سے استغفارپڑھنا : 58 34
73 دینی مسائل 59 1
74 ( مسافرت میں نماز پڑھنے کا بیان ) 59 73
75 آدمی شرعی مسافر کب بنتا ہے : 59 73
76 تین منزل سے کیا مراد ہے؟ : 60 73
77 سفر میں نماز کا حکم : 61 73
78 وفیات 62 1
79 اخبار الجامعہ 63 1
Flag Counter