ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2005 |
¾اكستان Ù |
|
ہے جو کہ جمادی الاخرٰی اور ماہِ شعبان کے درمیان آتاہے''۔ تشریح : اس آیت ِمبارکہ اور حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ مہینوں کی جو ترتیب اوراِن مہینوں کے جو نام (یعنی محرم ، رجب ، ذیقعدہ ، ذی الحجہ ) اسلام میں معروف ومشہور اور رائج ہیں وہ انسانوں کے اپنے بنائے ہوئے نہیں ہیں بلکہ رب العالمین نے جس دن آسمان وزمین پیدا کیے تھے اُسی دن یہ ترتیب اور یہ نام اوران کے ساتھ خاص مہینوں کے خاص احکام بھی متعین فرمادئیے تھے ۔ان احکام کو ان مہینوں کے مطابق رکھنا ہی دین مستقیم ہے اوراِن میں اپنی طرف سے کمی زیادتی اور ترمیم وتبدیلی کرنا فہم اور طبیعت کے ٹیڑھا ہونے کی علامت ونشانی ہے اوران مہینوں میں ان متعینہ احکام واحترام کی خلاف ورزی کرنا،اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کو چھوڑ دینا، کوئی گناہ کرنا اور عبادت گزاری میں کوتاہی کرنا اپنے اُوپر ظلم ہے ۔ تمام انبیاء علیہم السلام کی شریعتوں میں سال کے بارہ مہینے مانے جاتے تھے اوراُن میںسے چار یعنی ذیقعدہ ، ذالحجہ ، محرم اور رجب کے مہینے بڑے مبارک اورفضیلت و عظمت، ادب وشرافت،اعزاز واکرام اور احترام والے مہینے سمجھے جاتے تھے۔ تمام نبیوں کی شریعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ ان چار مہینوں میں ہر عبادت کا ثواب زیادہ ہو جاتاہے اور ان مہینوں میں کوئی گناہ کرے تو اُس کا عذاب اور وبال بھی زیادہ ہوتا ہے۔ حضور ۖ سے پہلی شریعتوں میں ان مہینوں کے اندر جہاد وقتال بھی منع تھا ان چار مہینوں کو عربی زبان میں ''اَشْھُرِ حَرَامْ '' یعنی عظمت واحترام والے مہینے کہا جاتا ہے۔ ان چار مہینوں کو عظمت اور احترام والے مہینے دووجہ سے کہا گیا ہے ،ایک تو اس وجہ سے کہ ان مہینوں میں جہاد وقتال حرام تھا دوسرے اس وجہ سے کہ یہ مہینے عظمت وفضیلت اور ادب وشرافت والے ہیں ، ان کا احترام ضروری ہے اوران مہینوں میں عبادت کا ثواب زیادہ ملتا ہے ۔ ان دونوں حکموں میں سے پہلا حکم یعنی جہاد وقتال کا منع ہونا تو ہماری اسلامی شریعت میں منسوخ اورختم ہو گیا اور اب ان مہینوں میں جہاد وقتال جائز ہے ١ اور دوسرا حکم یعنی ادب اوراحترام اورعبادت کا اہتمام اب بھی اسلام میں باقی ہے۔ مفسّرِ عظیم امام ابوبکر جصاص رحمہ اللہ اپنی تفسیر ''احکام القرآن'' میں فرماتے ہیں کہ ان متبرک مہینوں کاخاصہ یہ ہے کہ ان میں جو شخص کوئی عبادت کرتا ہے اس کو بقیہ مہینوں ١ اگرچہ اب بھی افضل یہی ہے کہ ان مہینوں میں بطور خود بلا ضرورت پیش قدمی نہ کی جائے (شامی) اورجہاد وقتال کی ممانعت کے منسوخ اورختم ہونے سے ان مہینوں کی عظمت اورفضیلت پر کوئی اثر نہیں پڑتا اس لیے کہ ان مہینوں کا احترام جہاد وقتال کی ممانعت کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ اس کی ممانعت خود ان مہینوں کے احترام کی وجہ سے تھی یعنی ان مہینوں کے احترام کا ایک اثر اس ممانعت کی شکل میں تھا جو کہ اب باقی نہیں رہا لہٰذا اصل ان مہینوں کا عظمت واحترام والا ہونا اپنی حیثیت پر اب بھی برقرار ہے۔(م۔ر)