ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2004 |
اكستان |
|
تعمیر تھی اس لیے یہ طے پایا کہ جامع مسجد میں اس مقصد سے حجرے اور دالان بنائے جائیں چنانچہ اس کا اعلان کردیا گیا اور چندے کے لیے اپیل کی گئی اور جب ١٢٩٠ھ میں جامع مسجد تیار ہوگئی تو دارالعلوم کو اس میں منتقل کردیا گیا۔ اسی سال مولانا رفیع الدین صاحب کی واپسی پر اہتمام دارالعلوم حاجی صاحب کے پاس کام زیادہ ہونے کی وجہ سے انہیں دیدیاگیا البتہ اہم امور کی نگرانی حاجی صاحب سے متعلق رکھی گئی ۔ ١٢٨٩ھ....... عطاء اسناد : مولانا احمد حسن امروہی ،مولانا خلیل احمد انبہٹوی، مولانا فخرالحسن گنگوہی ،مولانا عبداللہ انصاری انبہٹوی، مولانا فتح محمد تھانوی ،مولانامحمد فاضل پھلتی ،مولانا احمد حسن دیوبندی، قاضی جمال الدین ،مولانا عبداللہ جلال آبادی رحمہم اللہ اور ١٦ حضرات اس وقت موجود نہ تھے۔ ١٢٩٠ھ....... جلسہ تقسیم انعام : اس جماعت میں حضرت شیخ الہند بھی شامل تھے۔ ١٩ ذیقعدہ ١٢٩٠ھ جمعہ کے دن جامع مسجد میں جہاں دارالعلوم منتقل ہوگیا تھا جلسہ عطاء سند و تقسیم انعام منعقد ہوا۔شرکاء جلسہ میں حضرت نانوتوی ، حضرت گنگوہی ،حضرت قاضی محمد اسمٰعیل صاحب منگلوری، مولانا محمد مظہر صاحب مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور وغیرہم تھے رحمہم اللہ۔ بعد نمازِ جمعہ حضرت نانوتوی قدس سرہ نے ایک معرکة الآراء تقریر فرمائی ۔ یہ تقریر تاریخ دارالعلوم ج١ میں ص ١٦٩ سے ١٧٣ تک تحریر ہے ۔علوم مروجہ کی تعلیم پر بھی آپ نے روشنی ڈالی ہے (یہ آج کل طبع ہونے کے قابل ہے )۔ جلسہ میں حسب ِذیل حضرات کے سروں پر دستارِ فضیلت باندھی گئی : ''مولانا محمود حسن دیوبندی، مولانا عبدالحق پور قاضوی، مولانا فخرالحسن گنگوہی ،مولانا فتح محمد تھانوی اور مولانا عبداللہ جلال آبادی۔'' ١٢٩١ھ میں مدرسہ تھانہ بھون کا دارالعلوم دیوبند سے الحاق ہوا۔ اسی سال حضرت شیخ الہند اعزازی (بلا تنخواہ ) دارالعلوم کے معین مدرس مقرر ہوئے۔ ١٢٩١ھ/ ١٨٧٥ء میں انگریز کا جاسوس ''جان پا مر'' آیا اُس کی رپورٹ تاریخ دارالعلوم میں ص٧٥ ١ ج ١ میں ملاحظہ ہو، دلچسپ اور علمی ہے۔ ١٢٩٢ھ میں جلسۂ تقسیم اسناد ٢ ذی الحجہ جمعہ کے دن ہوا ۔اس جلسہ میں حضرت نانوتوی کی تحریر حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب نانوتوی رحمة اللہ علیہما نے پڑھ کر سنائی ۔حضرت مولانا احمد علی صاحب نے دستار بندی فرمائی پھر مجمع نے نئی