ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2004 |
اكستان |
|
الی خاتم بین کفیہ ۔ ( مسلم شریف٢/٥٩٧ ۔ بخاری شریف ١/٣٥٤ ) حضرت جعید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سائب بن یزید سے سنا انھوں نے فرمایا کہ میری خالہ مجھے نبی اکرم ۖ کی خدمت میں لے گئیں اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول یہ میرا بھانجا بیمار ہے ، یہ سن کر پیغمبر علیہ السلام نے میرے سرپر ہاتھ پھیرااور برکت کی دعا کی اور وضو فرمایا میں نے وضو کا بچاہوا پانی پی لیا اس کے بعد میں آپ ۖ کے پیچھے کھڑا ہو گیا تو میں نے آپ کے مونڈھے کے درمیان ایک مہر دیکھی جو مسہری کی گھنڈی کی طرح تھی۔ جناب رسول اللہ ۖ کے چلنے کی کیفیت : (٢٦) عن علی رضی اللّٰہ عنہ قال: کان رسول اللّٰہ ۖ '' اذا مشی تکفا کانما ینحط من صبب ''۔ ( شمائل ترمذی ص ٨ ) حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ۖ ذرا جھک کر متواضعانہ انداز میں چلتے گویا آپ بلندی سے نیچے اُتر رہے ہیں ۔ (٢٧) وجاء فی روایة ابی ھریرة رضی اللّٰہ عنہ : وما رأیت احدا اسرع فی مشیہ من رسول اللّٰہ ۖ کانما الارض تطوی لہ انا لنجھد انفسنا وانہ لغیرمکترثٍ (ای غیر مبال )۔ ( شمائل ترمذی ص٨ ) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضورپاک ۖ سے زیادہ تیز چلتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا گویا کہ زمین کو آپ کے لیے لپیٹ دیاجاتا ہے۔ ہم اپنے آپ کو مشقت میں ڈالے دیتے ہیں اور آپ کوئی پروانہیں کرتے۔ جناب رسول اللہ ۖ کالباس مبارک : (٢٨) عن اُم سلمة رضی اللّٰہ عنھا قالت: کان احب الثیاب الی رسول اللّٰہ ۖ القمیص ۔ ( شمائل ترمذی ص ٥ ) حضرت اُم سلمہ فرماتی ہیں کہ جناب رسول اللہ ۖ کا محبوب ترین لباس قمیص تھی۔ (٢٩) عن سمرة بن جندب رضی اللّٰہ عنہ قال : قال رسول اللّٰہ ۖ البسوا البیاض فانھا اطھر واطیب وکفنوا فیھا موتاکم ۔ ( شمائل ترمذی ص٥ )