ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2004 |
¾اكستان Ù |
|
جگہ جاکر سنگِ بنیاد رکھا۔ سنگِ بنیاد حضرت مولانا احمد علی صاحب محدث سہارنپوری رحمة اللہ علیہ سے رکھوائی گئی پھر ایک ایک اینٹ حضرت نانوتوی، حضرت گنگوہی ،حضرت مولانا محمد مظہر نانو توی نے رکھی اور حضرت میانجی منے شاہ اور حضرت حاجی محمد عابد صاحب نے بھی رکھی۔ اس موقع پر یہ روایت بھی مشہور ہے کہ جب بنیاد رکھی جا چکی تو سب لوگوں نے دارالعلوم کی بقاء و ترقی کے لیے نہایت خضوع و خشوع کے ساتھ بارگاہِ الٰہی میں دعاء کی، حضرت نانوتوی نے فرمایا کہ : ''عالم ِمثال میں اس مدرسہ کی شکل ایک معلق ہانڈی کے مانند ہے جب تک اس کا مدار توکل اور اعتماد علی اللہ پر رہے گا یہ مدرسہ ترقی کرتا رہے گا۔'' (تاریخ دارالعلوم از ص ١٨٢ ۔ ١٨٤ ،ج ١ ملخصاً) تاریخ دارالعلوم میں ہے : ''یہ عمارت آٹھ سال کی مدت میں تیئیس ہزار( ٢٣٠٠٠) روپے کے صرف سے ''نودرہ'' کے نام سے بن کر تیار ہوئی ۔روداد میں لکھا ہے کہ :''اس عمارت میں سادگی اور استواری کو مقدم رکھا گیا ہے اس کا نقشہ منجانب اللہ قلوب پر الہام ہوا تھا۔'' ''یہ عمارت مہتمم دوم حضرت مولانا رفیع الدین کے زمانہ اہتمام میں تعمیر ہوئی ۔انھوں نے آنحضرت ۖ کو خواب میں دیکھا کہ آپ ارشاد فرما رہے ہیں کہ : ''یہ احاطہ تو بہت مختصر ہے'' یہ فرماکر خود عسائے مبارک سے ایک طویل و عریض نقشہ کھینچ کر بتلایا کہ ان نشانات پر تعمیر کی جائے چنانچہ اسی کے مطابق بنیاد کھدوا کر تعمیر شروع کرائی گئی ۔دارالعلوم کی یہ جگہ احاطہ مولسری کے نام سے موسوم ہے اسی احاطہ میں وہ تاریخی کنواں ہے جو نودرے کے ساتھ بنا تھا ۔یہ کنواں بڑا بابرکت سمجھا جاتا ہے اس کا پانی نہایت شیریں اور ٹھنڈا ہے۔ مشہور عالم ومصنف مولانا مناظر احسن گیلانی نے اس کنویں کے پانی کی نسبت اپنا یہ تاثر بیان کیا ہے کہ اتنا لذیذ اتنا خوشگوار اتنا شیریں صاف وسبک اور خنک پانی میںنے اس سے پہلے نہیں پیا تھا۔ (تاریخ دارالعلوم ص١٨٥ ج ١) حضرت مولانا رفیع الدین صاحب ہی نے ایک دوسرے خواب میں یہ بھی دیکھا تھا کہ کنواں دُودھ سے بھرا ہوا ہے اورآنحضرت ۖ پیالے سے دودھ تقسیم فرمارہے ہیں ۔بعض لوگوں کے پاس چھوٹے برتن ہیں بعض کے پاس بڑے ،ہرشخص اپنا اپنا برتن دودھ سے بھر وا کر لے جارہا ہے۔مولانا نے برتنوں کے چھوٹے بڑے ہونے کی یہ تعبیر دی کہ اس سے ہر شخص کا ''ظرف علم ''