ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2004 |
اكستان |
|
ضلیع الفم ، اشنب مفلج الاسنان ''۔ ( دلائل النبوة للبیھقی١/٢١٤ ) حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما اپنے ماموں سے نقل کرتے ہوئے بیان فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ۖ کی پیشانی مبارک نہایت کشادہ ،اَبروخم دار باریک اورگنجان تھے ۔دونوںاَبرو جدا جدا تھے۔ ایک دوسرے سے ملے ہوئے نہیں تھے ۔ان دونوں کے درمیان ایک رگ تھی جو غصہ کے وقت اُبھرتی جاتی تھی ۔آپ کی ناک مبارک بلندی مائل تھی اور اس پر ایک چمک اورنور تھا۔ غورسے نہ دیکھنے والا آپ کو بڑی ناک والا سمجھتا (لیکن غور کرنے سے معلوم ہوتا کہ حسن و چمک کی وجہ سے بلند معلوم ہوتی ہے ورنہ فی نفسہ زیادہ بلند نہیں )۔ آپ کے رُخسار مبارک ہموار ہلکے تھے ۔آپ کا دہن مبارک قدرے کشادہ تھا ۔آپ کے دندان مبارک باریک آبدار تھے اور ان میں سے سامنے کے دانتوں میں ذرا ذرا فصل بھی تھا۔ جناب رسول ۖ کی آنکھ اور دہن مبارک کا بیان : (١١) عن جابر بن سمرة رضی اللّٰہ عنہ قال : '' کان رسول اللّٰہ ۖ ضلیع الفم، اشکل العینین و منھوس العقبین ''۔ ( مسلم شریف ٥٩٥٦ ) حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ۖ فراخ دہن تھے۔ آنکھوں کی سفیدی میں سرخ ڈورے پڑے ہوئے تھے اور ایڑی مبارک پر بہت کم گوشت تھا۔ وجاء فی مسند احمد : '' اشھل العینین '' قال ابوعبیدة : الشکلة : کھیئة : الحمرة تکون فی بیاض العین ، والشھلة : غیر الشکلة وھی حمرة فی سواد العین۔ ( دلائل النبوة للبیھقی ١/٢١٢ ) اورمسند احمد میں اشہل العینین کے الفاظ آئے ہیں۔ ابو عبیدہ فرماتے ہیں کہ شکلة جو ہیئة کے وزن پر ہے اسکے معنی ہیں آنکھوں کی سفیدی میں سرخی کا ہونا اور شہلة کے معنی ہیں آنکھوں کی سیاہی میں سرخی کا ہونا ۔ وقال الحافظ ابن کثیر : وقول ابی عبید حمرة فی بیاض العین اشھر و اصح وذالک یدل علی القوة والشجاعة ، واللّٰہ تعالیٰ اعلم ۔( شمائل الرسول ٢٧ ) حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو عبیدہ کا قول آنکھوں کی سفیدی میں سرخی کا ہونا زیادہ مشہوراورصحیح ہے جوبہادری اور شجاعت پر دال ہے۔ واللہ اعلم