Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2004

¾اكستان Ù

51 - 65
خود پریشان ہے۔ جس کے پاس بیٹھنے والا پریشان ہوجاتا ہے وہ خود کس قدر پریشان ہوگا؟
	اس کے برعکس جو شخص گناہوں سے بچتا ہو اُس کے پاس بیٹھنے سے دل کو چین و سکون نصیب ہوگا۔ اِس سے اندازہ لگائیں کہ خود اُس کے قلب میں سکون کے کتنے بڑے خزانے ہیں''۔ (جواہر الرشید) 
	دُنیا بھر کے تمام تفکرات او رپریشانیوں کا واحد علاج یہ اور صرف یہ ہے کہ مالک کوراضی کرلیا جائے۔
کسی کو رات دن سرگرم فریاد و فغاں پایا	کسی کو فکر گونا گوں سے ہردم سرگراں پایا
کسی کو ہم نے آسودہ نہ زیرِ آسماں پایا 		بس اک مجذوب کو اس غم کدہ میں شادماں پایا
غموں سے بچنا ہو تو آپ کو دیوانہ ہو جائے
	آج کی پریشان حال اور ابتر دنیا اگر فی ا لحقیقت ایک خوش وخرم اور پر سکون زندگی چاہتی ہے تو اپنا رُخ بدلے اور اُس کے بھیجے ہوئے مستند قانون کو اپنا کر راہ ِعبدیت اختیار کرے کہ اُس بارگاہ سے نہ کبھی کوئی مایوس لوٹا ہے اور نہ لوٹے گا اور اُس سے کٹ کر نہ کبھی کوئی کامیاب ہواہے نہ ہوگا ۔ (فلسفہ نعمت و مصیبت)
	 حق تعالیٰ صاف فرماتے ہیں کہ جو کچھ مصیبت تم پر آتی ہے وہ تمہارے گناہوں کی وجہ سے آتی ہے۔ مااصابکم من مصیبة فبما کسبت ایدیکم ویعفوعن کثیر ۔معلوم ہوا کہ ہماری ہرخطا پر مواخذہ نہیں فرماتے بلکہ بہت سے گناہوں سے درگزر بھی فرمادیتے ہیں مگر جب ہم بہت ہی گناہوں میں منہمک ہوجاتے ہیں تو اُس وقت مصائب کا نزول ہوتا ہے تاکہ ہم کچھ اپنی حالت پر توجہ کریں اور سنبھل جائیں مگر ہم اتنے غافل ہیں کہ تنبیہ سے بھی متنبہ نہیں ہوتے اور جب مصیبت آتی ہے تو سوچتے ہیں کہ ہم سے ایسا کیا قصور ہوگیا جو یہ بلائیں ہمارے اُوپر نازل ہوئیں۔مگر حق تعالیٰ کے ارشادسے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب بلائیں ہمارے گناہوں ہی کی بدولت ہیں ۔(مفاسد ِگناہ )
	پس جب مصیبت بحالہ رہے تو دشمن تو تمہارے گھر کے اندر ہے باہر کے انتظام سے کیا ہوتا ہے ۔
 	مولانا فرماتے ہیں   :
در بہ بست و دشمن اندر خانہ بود		حیلۂ فرعون زیں افسانہ بود
(دروازہ بند کرلیا لیکن دشمن گھر کے اندر تھا۔ فرعون کا حیلہ محض افسانہ تھا) 
 	یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قصہ میں ہے کہ فرعون نے اپنے دشمن کو یعنی موسیٰ علیہ السلام کو گھر کے اندر رکھا اور اُن کو پرورش کیا اور دشمنوں کا انتظام کرتا تھا ۔صاحبو ! لوگ باوجود اصلاح نہ کرنے کے جوتدبیر کررہے ہیں یہ فرعونی تدبیر ہے کہ خدا تعالیٰ کی نافرمانی جواصلی سبب ہے پریشانیوں کا اُس کو چھوڑتے نہیں اور بالائی تدبیر کرتے ہیں۔یاد رکھو جب تک کہ مرض کے اصلی سبب کا استیصال نہ کیا جائے مرض نہ جائے گا ۔پس جب تک معصیت نہ چھوڑیں گے اِن بلائوں سے
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
64 اس شمارے میں 3 1
65 حرف آغاز 4 1
66 درسِ حدیث 10 1
67 حضرت ثا بت بن قیس کا تقوٰی اور نبی علیہ السلام کا اُن پر اعتماد 10 66
68 پہلے زمانہ میں اچھے خطیب کے لیے بلند آواز والا ہونا ضروری تھا : 10 66
69 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ : 11 66
70 اپنی تعداد پر گھمنڈ کا نقصان : 11 66
71 میدان جنگ میں اطمینان اور سکینہ کانزول : 11 66
72 رسولِ خدا پیچھے نہیں ہٹے : 12 66
73 بہادری کی انتہاء ،سواری سے اُتر گئے : 12 66
74 حضرت ثابت باکمال خطیب تھے : 12 66
75 جھوٹے نبی کا گھٹیا مقصد اور نبی علیہ السلام سے گفتگو : 13 66
76 مقاصدِ نبوت : 13 66
77 مثال سے وضاحت : 13 66
78 اُسی وقت آپ نے اُسے قتل کیوں نہ کیا : 14 66
79 حضرت ثابت بن قیس پر اعتماد : 14 66
80 حضرت ثابت بن قیس کا تقوٰی اور احتیاط : 15 66
81 علماء اور ائمہ مساجد کو بھی اِس سنت پر عمل کرنا چاہیے : 15 66
82 حضرت ثابت بن قیس کو جنت کی نوید : 15 66
83 دلائل نبوت ۖ 16 1
84 (١) قرآن مقدس، سراپا معجزہ : 16 83
85 (٢) چاند کا دو ٹکڑے ہوجانا : 17 83
86 .3پتھر کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرنا 18 83
87 4۔کنکریوں کا تسبیح پڑھنا 18 83
88 (٥) درختوں کا پیغمبر علیہ السلام کی صداقت کی گواہی دینا : 19 83
89 (٦) غروب کے بعد سورج کا لوٹ آنا : 21 83
90 (٧) کھجور کے ستون کا آپ کی جدائی پربِلک بِلک کر رونا : 21 83
91 (٨) اُنگلیوں سے پانی نکلنا : 23 83
92 (٩) برکتیں ہی برکتیں : 24 83
93 (١٠) عصا اور کوڑے کا رات میں روشن ہونا : 25 83
94 مہتمم اول دارالعلوم دیوبند جناب حضرت مولانا حاجی سیّد محمد عابد صاحب 27 1
95 ملا محمود : (وفات١٣٠٤ھ/١٨٨٦ء ) 28 94
96 قیام دارالعلوم کا ذکر بزبان مولانا ذوالفقار علی : 28 94
97 ذکر بناء جامع مسجد دیوبند : 32 94
98 مسعودیوں کے علماء دیوبند پر اعتراضات 37 1
99 (١) عرش و کعبہ و کرسی کی توہین : 37 98
100 سرکارِ دوعالم ۖ کا حلیہ مبارک 40 1
101 سیرة نبوی اور مستشرقین 41 1
102 جہاد پرمستشرقین کا اعتراض : 41 101
103 مقصد ِجہاد دین پرجبر نہیں رفع فساد ہے : 42 101
104 جامعہ مدنیہ جدید کی زیرِ تعمیر عمارت کا نقشہ 48 1
105 مصائب وآلام سے بچنے کے شرعی نسخے 49 1
106 (١) گناہوں سے بچنا اور کثرت سے استغفا ر پڑھنا : 49 105
107 (٢) اپنا فرض منصبی پورا کرنا : 52 105
108 (٣) دُعاء کا اہتمام کرنا : 53 105
109 (٤) صدقہ و خیرات کا اہتمام کرنا : 54 105
110 (٥) مسنون اور اد و وظائف کا پڑھنا : 55 105
111 تکالیف سے فوری نجات کا راستہ : 56 105
112 ہر مصیبت و تکلیف کا علاج : 56 105
113 آفات ومشکلات سے حفاظت کا نسخہ : 56 105
114 تمام بلائوں سے حفاظت : 56 105
115 سحر اور نظربد سے حفاظت : 57 105
116 انتقال پر ملال 57 1
117 ہر لمحہ پیشِ نظر مرضیِ جاناں رہے 58 1
118 دینی مسائل 60 1
119 ( نماز کو توڑنے والی چیزوں کا بیان ) 60 118
120 ١۔ نماز میں بولنا یا بِلا ضرورت آواز نکالنا : 60 118
121 ٢۔ ایسا عمل کرنا جو کثیر ہو اور نماز کی جنس سے نہ ہو : 61 118
122 (٣) نماز کے اندر کھانا پینا : 62 118
123 اخبار الجامعہ 64 1
Flag Counter