ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2004 |
¾اكستان Ù |
|
خود پریشان ہے۔ جس کے پاس بیٹھنے والا پریشان ہوجاتا ہے وہ خود کس قدر پریشان ہوگا؟ اس کے برعکس جو شخص گناہوں سے بچتا ہو اُس کے پاس بیٹھنے سے دل کو چین و سکون نصیب ہوگا۔ اِس سے اندازہ لگائیں کہ خود اُس کے قلب میں سکون کے کتنے بڑے خزانے ہیں''۔ (جواہر الرشید) دُنیا بھر کے تمام تفکرات او رپریشانیوں کا واحد علاج یہ اور صرف یہ ہے کہ مالک کوراضی کرلیا جائے۔ کسی کو رات دن سرگرم فریاد و فغاں پایا کسی کو فکر گونا گوں سے ہردم سرگراں پایا کسی کو ہم نے آسودہ نہ زیرِ آسماں پایا بس اک مجذوب کو اس غم کدہ میں شادماں پایا غموں سے بچنا ہو تو آپ کو دیوانہ ہو جائے آج کی پریشان حال اور ابتر دنیا اگر فی ا لحقیقت ایک خوش وخرم اور پر سکون زندگی چاہتی ہے تو اپنا رُخ بدلے اور اُس کے بھیجے ہوئے مستند قانون کو اپنا کر راہ ِعبدیت اختیار کرے کہ اُس بارگاہ سے نہ کبھی کوئی مایوس لوٹا ہے اور نہ لوٹے گا اور اُس سے کٹ کر نہ کبھی کوئی کامیاب ہواہے نہ ہوگا ۔ (فلسفہ نعمت و مصیبت) حق تعالیٰ صاف فرماتے ہیں کہ جو کچھ مصیبت تم پر آتی ہے وہ تمہارے گناہوں کی وجہ سے آتی ہے۔ مااصابکم من مصیبة فبما کسبت ایدیکم ویعفوعن کثیر ۔معلوم ہوا کہ ہماری ہرخطا پر مواخذہ نہیں فرماتے بلکہ بہت سے گناہوں سے درگزر بھی فرمادیتے ہیں مگر جب ہم بہت ہی گناہوں میں منہمک ہوجاتے ہیں تو اُس وقت مصائب کا نزول ہوتا ہے تاکہ ہم کچھ اپنی حالت پر توجہ کریں اور سنبھل جائیں مگر ہم اتنے غافل ہیں کہ تنبیہ سے بھی متنبہ نہیں ہوتے اور جب مصیبت آتی ہے تو سوچتے ہیں کہ ہم سے ایسا کیا قصور ہوگیا جو یہ بلائیں ہمارے اُوپر نازل ہوئیں۔مگر حق تعالیٰ کے ارشادسے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب بلائیں ہمارے گناہوں ہی کی بدولت ہیں ۔(مفاسد ِگناہ ) پس جب مصیبت بحالہ رہے تو دشمن تو تمہارے گھر کے اندر ہے باہر کے انتظام سے کیا ہوتا ہے ۔ مولانا فرماتے ہیں : در بہ بست و دشمن اندر خانہ بود حیلۂ فرعون زیں افسانہ بود (دروازہ بند کرلیا لیکن دشمن گھر کے اندر تھا۔ فرعون کا حیلہ محض افسانہ تھا) یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قصہ میں ہے کہ فرعون نے اپنے دشمن کو یعنی موسیٰ علیہ السلام کو گھر کے اندر رکھا اور اُن کو پرورش کیا اور دشمنوں کا انتظام کرتا تھا ۔صاحبو ! لوگ باوجود اصلاح نہ کرنے کے جوتدبیر کررہے ہیں یہ فرعونی تدبیر ہے کہ خدا تعالیٰ کی نافرمانی جواصلی سبب ہے پریشانیوں کا اُس کو چھوڑتے نہیں اور بالائی تدبیر کرتے ہیں۔یاد رکھو جب تک کہ مرض کے اصلی سبب کا استیصال نہ کیا جائے مرض نہ جائے گا ۔پس جب تک معصیت نہ چھوڑیں گے اِن بلائوں سے