Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2004

اكستان

38 - 65
لیے آپ  ۖ  اِ ن سے افضل ہیں اور آپ  ۖ  کی وجہ سے آپ کا روضۂ اطہر کا مخصوص حصہ بھی اِن سے افضل ہے کیونکہ عرش و کعبہ و کرسی اللہ تعالیٰ کے ٹھہرنے کی جگہیں نہیں ہیں۔ ٹھہرنا ،بیٹھنا ذوجسم کی خصوصیت ہے اور اللہ تعالیٰ جسم سے پاک ہیںاور روضۂ اطہر تو نبی علیہ السلام کے تشریف رکھنے کی جگہ ہے ۔عرش و کعبہ و کرسی پر اللہ تعالیٰ کی تجلی اور انوارات کی بارش ہوتی ہے لیکن نبی علیہ السلام کے سینہ مبارکہ پر بھی تو انوارات کی بارش ہوئی ہے اور آج روضۂ مبارکہ پر بھی انوارات اور رحمتوں کی بارش ہے   ان اللّٰہ وملائکتہ یصلون علی النبی الآیة   اور عرش و کعبہ وکرسی ان انوارات کو جذب نہیں کر سکتے جبکہ نبی علیہ السلام کے سینہ نے جذب کرلیا، باقی رہی صفات تو اگر عرش عظیم ہے تو نبی علیہ السلام بھی عظمت والے ہیں عرش کریم اور معزز ہے تو آپ  ۖ  بھی کریم ہیں اور بیت اللہ مبارک ہے تو آپ  ۖ  بھی بابرکت ذ ات ہیں کعبة اللہ ہدایت ہے تو آپ  ۖ  بھی ہدایت اور ہادی ہیں کعبة اللہ حرمت وعزت والا ہے تو آپ  ۖ  بھی حرمت و عزت والے ہیں تو جو فضیلت ان چیزوں کو حاصل ہے وہ بھی اور اس سے زائد فضیلت بھی آپ  ۖ  کو حاصل ہے۔
	اللہ تعالیٰ نے فرمایا  ورفعنالک ذکرک ہم نے آپ کی خاطر آپ کا ذکر بلند کردیا ۔تو جس کا ذکر بلند ہے وہ خود صاحبِ ذکر بلند شان والا کیسے نہیں ہے، عرش وکعبہ وکرسی کا ذکر تو آپ  ۖ  کے ذکر سے بلند نہیں تو اُن کی ذات آپ  ۖ سے کیسے بلند ہوئی؟یہ درست ہے کہ کعبة اللہ کی طرف منہ کیے بغیر نماز نہیںہوتی لیکن کعبة اللہ کو یہ شرف حضور  ۖ  کی بدولت حاصل ہوا پہلے تو بیت المقدس کی طرف منہ کیا جاتا تھا قد نرای تقلب وجھک فی السماء الآیة  تو کوئی آیت یا حدیث شریف ایسی نہیں ہے جو علماء دیوبند کے اِس عقیدے کے خلاف ہو۔
	اور پھر یہ عقیدہ علماء دیوبند ہی کا نہیں ہے صحابہ کرام سے چلا آرہا ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے  :
''انہ لیس فی الارض بقعة اکرم علی اللّٰہ من بقعة قبض فیھا نفس نبیہ  صلی اللّٰہ علیہ وسلم ''(خلاصة الوفاء ص١٠)
''اللہ تعالیٰ کے نزدیک زمین میں کوئی حصہ اِس خطے سے زیادہ معزز نہیں ہے جس میں اپنے نبی  ۖ  کی رُوح قبض فرمائی''۔
	امام نووی شافعی   فرماتے ہیں   :
اجمعوا علٰی ان موضع قبرہ  صلی اللّٰہ علیہ وسلم افضل بقاع الارض'' (شرح مسلم  ص ٤٤٦  ج١ ) 
''سب علماء کا اجماع ہے کہ آپ  ۖ  کی قبر کی جگہ زمین کے سب خطوں سے افضل ہے ''۔
	امام قاضی عیاض مالکی   فرماتے ہیں  :

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
64 اس شمارے میں 3 1
65 حرف آغاز 4 1
66 درسِ حدیث 10 1
67 حضرت ثا بت بن قیس کا تقوٰی اور نبی علیہ السلام کا اُن پر اعتماد 10 66
68 پہلے زمانہ میں اچھے خطیب کے لیے بلند آواز والا ہونا ضروری تھا : 10 66
69 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ : 11 66
70 اپنی تعداد پر گھمنڈ کا نقصان : 11 66
71 میدان جنگ میں اطمینان اور سکینہ کانزول : 11 66
72 رسولِ خدا پیچھے نہیں ہٹے : 12 66
73 بہادری کی انتہاء ،سواری سے اُتر گئے : 12 66
74 حضرت ثابت باکمال خطیب تھے : 12 66
75 جھوٹے نبی کا گھٹیا مقصد اور نبی علیہ السلام سے گفتگو : 13 66
76 مقاصدِ نبوت : 13 66
77 مثال سے وضاحت : 13 66
78 اُسی وقت آپ نے اُسے قتل کیوں نہ کیا : 14 66
79 حضرت ثابت بن قیس پر اعتماد : 14 66
80 حضرت ثابت بن قیس کا تقوٰی اور احتیاط : 15 66
81 علماء اور ائمہ مساجد کو بھی اِس سنت پر عمل کرنا چاہیے : 15 66
82 حضرت ثابت بن قیس کو جنت کی نوید : 15 66
83 دلائل نبوت ۖ 16 1
84 (١) قرآن مقدس، سراپا معجزہ : 16 83
85 (٢) چاند کا دو ٹکڑے ہوجانا : 17 83
86 .3پتھر کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرنا 18 83
87 4۔کنکریوں کا تسبیح پڑھنا 18 83
88 (٥) درختوں کا پیغمبر علیہ السلام کی صداقت کی گواہی دینا : 19 83
89 (٦) غروب کے بعد سورج کا لوٹ آنا : 21 83
90 (٧) کھجور کے ستون کا آپ کی جدائی پربِلک بِلک کر رونا : 21 83
91 (٨) اُنگلیوں سے پانی نکلنا : 23 83
92 (٩) برکتیں ہی برکتیں : 24 83
93 (١٠) عصا اور کوڑے کا رات میں روشن ہونا : 25 83
94 مہتمم اول دارالعلوم دیوبند جناب حضرت مولانا حاجی سیّد محمد عابد صاحب 27 1
95 ملا محمود : (وفات١٣٠٤ھ/١٨٨٦ء ) 28 94
96 قیام دارالعلوم کا ذکر بزبان مولانا ذوالفقار علی : 28 94
97 ذکر بناء جامع مسجد دیوبند : 32 94
98 مسعودیوں کے علماء دیوبند پر اعتراضات 37 1
99 (١) عرش و کعبہ و کرسی کی توہین : 37 98
100 سرکارِ دوعالم ۖ کا حلیہ مبارک 40 1
101 سیرة نبوی اور مستشرقین 41 1
102 جہاد پرمستشرقین کا اعتراض : 41 101
103 مقصد ِجہاد دین پرجبر نہیں رفع فساد ہے : 42 101
104 جامعہ مدنیہ جدید کی زیرِ تعمیر عمارت کا نقشہ 48 1
105 مصائب وآلام سے بچنے کے شرعی نسخے 49 1
106 (١) گناہوں سے بچنا اور کثرت سے استغفا ر پڑھنا : 49 105
107 (٢) اپنا فرض منصبی پورا کرنا : 52 105
108 (٣) دُعاء کا اہتمام کرنا : 53 105
109 (٤) صدقہ و خیرات کا اہتمام کرنا : 54 105
110 (٥) مسنون اور اد و وظائف کا پڑھنا : 55 105
111 تکالیف سے فوری نجات کا راستہ : 56 105
112 ہر مصیبت و تکلیف کا علاج : 56 105
113 آفات ومشکلات سے حفاظت کا نسخہ : 56 105
114 تمام بلائوں سے حفاظت : 56 105
115 سحر اور نظربد سے حفاظت : 57 105
116 انتقال پر ملال 57 1
117 ہر لمحہ پیشِ نظر مرضیِ جاناں رہے 58 1
118 دینی مسائل 60 1
119 ( نماز کو توڑنے والی چیزوں کا بیان ) 60 118
120 ١۔ نماز میں بولنا یا بِلا ضرورت آواز نکالنا : 60 118
121 ٢۔ ایسا عمل کرنا جو کثیر ہو اور نماز کی جنس سے نہ ہو : 61 118
122 (٣) نماز کے اندر کھانا پینا : 62 118
123 اخبار الجامعہ 64 1
Flag Counter