ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2004 |
اكستان |
|
معروف بزرگ تھے آپ کا ایک واقعہ اشرف السوانح میں بھی تحریر ہے کہ حضرت اقدس مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمة اللہ علیہ ان کی علالت کے دوران ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ وہ لکھتے ہیں : ''حضرت حاجی انور صاحب دیوبندی خلیفۂ حضرت حاجی سیّد محمد عابد صاحب دیوبندی بھی بڑے صاحبِ نسبت بزرگ تھے بلکہ لوگوں کا خیال تھا کہ وہ اپنے شیخ سے بھی بڑھے ہوئے ہیں۔ حج سے واپس آنے کے بعد اُن پر ایک ایسی حالت طاری ہوئی جس سے لوگوں کو گمان ہوا کہ جنون ہوگیا ہے اپنی چیزیں لوگوں کو مفت دے ڈالتے ،کھانے بکثرت پکواکر تقسیم عام کراتے۔ اور ہروقت ایک سکر کی سی کیفیت غالب رہتی۔ اُس زمانہ میں حضرت والا اتفاق سے دیوبند تشریف لائے تو عیادت کے لیے پہنچے ،حاجی صاحب نے حضرت والا سے خلوت میں فرمایا کہ آپ سے ایک بات کہتا ہوں جو میں نے اب تک کسی سے ظاہر نہیں کی ۔ لیکن اب آپ اس کومیری زندگی میں کسی پر ظاہر نہ کریں ۔وہ بات یہ ہے کہ میںنے حرم شریف میں بعض انبیاء علیہم السلام کی بیداری میں زیارت کی ہے جو میری حالت ہے یہ انہیں حضرات کی نظر کا اثر ہے١ھ۔ حضرت والا سے لوگوں نے پوچھا کہ کیا تنہائی میں کوئی خاص بات فرمائی ہے حضرت والا نے سچی بات فرمادی کہ ہاں ایک خاص بات توفرمائی ہے لیکن مجھے ممانعت فرمادی ہے کہ میری زندگی میں کسی پر ظاہر نہ کرنا اس لیے میں اس کو ظاہر نہیں کرسکتا ۔حضرت والا نے حسب وصیت حاجی صاحب کی زندگی میں کسی پر وہ بات ظاہر نہ فرمائی البتہ بعد وفات اخفاء کا اہتمام نہیں فرمایا''۔ اس واقعہ سے بخوبی ظاہر ہے کہ حاجی صاحب نے اپنے اس خاص راز باطنی کا اہل حضرت والا کو سمجھا اور کسی پر اس کا اظہار نہ فرمایا بلکہ حضرت والا کو بھی اس کے اظہارسے ممانعت فرمادی۔( اشرف السوانح از ص١٤٩ تا ص١٥١باب دوازدہم مطبوعہ کتب خانہ اشرفیہ دہلی) حاجی محمد انور صاحب رحمة اللہ علیہ حضرت حاجی محمد عابد صاحب کے رشتہ دار بھی تھے اور ہم عمر بھی ان کا سال ولادت بھی ١٢٥٠ھ ہے لیکن وفات ٢٠جمادی الاولیٰ ١٣٨٢ھ/ ١٩ نومبر ١٨٩٤ء شب دوشنبہ میں ہوئی ۔ ملفوظاتِ انوری میں آپ کے کچھ حالات دئیے ہیں اس میں حضرت حاجی امداد اللہ صاحب نوراللہ مرقدہ کا ایک گرامی نامہ بھی دیاہے جس میں حضرت نے حاجی محمد انور صاحب کی طبع پر سی بھی فرمائی ہے اور دارالعلوم کے لیے دعائیہ جملے بھی تحریر فرمائے ہیں۔ یہ گرامی نامہ مکہ معظمہ سے ٢١ ربیع الاول ١٣١٢ھ کا تحریر فرمودہ ہے ۔اس میں حاجی محمد انور صاحب اور قافلہ والوں کے