Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2004

اكستان

34 - 65
معروف بزرگ تھے آپ کا ایک واقعہ اشرف السوانح میں بھی تحریر ہے کہ حضرت اقدس مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمة اللہ علیہ ان کی علالت کے دوران ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ وہ لکھتے ہیں  : 
''حضرت حاجی انور صاحب دیوبندی خلیفۂ حضرت حاجی سیّد محمد عابد صاحب دیوبندی بھی بڑے صاحبِ نسبت بزرگ تھے بلکہ لوگوں کا خیال تھا کہ وہ اپنے شیخ سے بھی بڑھے ہوئے ہیں۔ حج سے واپس آنے کے بعد اُن پر ایک ایسی حالت طاری ہوئی جس سے لوگوں کو گمان ہوا کہ جنون ہوگیا ہے اپنی چیزیں لوگوں کو مفت دے ڈالتے ،کھانے بکثرت پکواکر تقسیم عام کراتے۔ اور ہروقت ایک سکر کی سی کیفیت غالب رہتی۔ اُس زمانہ میں حضرت والا اتفاق سے دیوبند تشریف لائے تو عیادت کے لیے پہنچے ،حاجی صاحب نے حضرت والا سے خلوت میں فرمایا کہ آپ سے ایک بات کہتا ہوں جو میں نے اب تک کسی سے ظاہر نہیں کی ۔ لیکن اب آپ اس کومیری زندگی میں کسی پر ظاہر نہ کریں ۔وہ بات یہ ہے کہ میںنے حرم شریف میں بعض انبیاء  علیہم السلام کی بیداری میں زیارت کی ہے جو میری حالت ہے یہ انہیں حضرات کی نظر کا اثر ہے١ھ۔ حضرت والا سے لوگوں نے پوچھا کہ کیا تنہائی میں کوئی خاص بات فرمائی ہے حضرت والا نے سچی بات فرمادی کہ ہاں ایک خاص بات توفرمائی ہے لیکن مجھے ممانعت فرمادی ہے کہ میری زندگی میں کسی پر ظاہر نہ کرنا اس لیے میں اس کو ظاہر نہیں کرسکتا ۔حضرت والا نے حسب وصیت حاجی صاحب کی زندگی میں کسی پر وہ بات ظاہر نہ فرمائی البتہ بعد وفات اخفاء کا اہتمام نہیں فرمایا''۔ 
	اس واقعہ سے بخوبی ظاہر ہے کہ حاجی صاحب نے اپنے اس خاص راز باطنی کا اہل حضرت والا کو سمجھا اور کسی پر اس کا اظہار نہ فرمایا بلکہ حضرت والا کو بھی اس کے اظہارسے ممانعت فرمادی۔( اشرف السوانح از ص١٤٩ تا ص١٥١باب دوازدہم مطبوعہ کتب خانہ اشرفیہ دہلی) 
	حاجی محمد انور صاحب رحمة اللہ علیہ حضرت حاجی محمد عابد صاحب  کے رشتہ دار بھی تھے اور ہم عمر بھی ان کا سال ولادت بھی ١٢٥٠ھ ہے لیکن وفات ٢٠جمادی الاولیٰ ١٣٨٢ھ/ ١٩ نومبر ١٨٩٤ء شب دوشنبہ میں ہوئی ۔ ملفوظاتِ انوری میں آپ کے کچھ حالات دئیے ہیں اس میں حضرت حاجی امداد اللہ صاحب نوراللہ مرقدہ کا ایک گرامی نامہ بھی دیاہے جس میں حضرت نے حاجی محمد انور صاحب  کی طبع پر سی بھی فرمائی ہے اور دارالعلوم کے لیے دعائیہ جملے بھی تحریر فرمائے ہیں۔ یہ گرامی نامہ مکہ معظمہ سے ٢١ ربیع الاول ١٣١٢ھ کا تحریر فرمودہ ہے ۔اس میں حاجی محمد انور صاحب اور قافلہ والوں کے
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
64 اس شمارے میں 3 1
65 حرف آغاز 4 1
66 درسِ حدیث 10 1
67 حضرت ثا بت بن قیس کا تقوٰی اور نبی علیہ السلام کا اُن پر اعتماد 10 66
68 پہلے زمانہ میں اچھے خطیب کے لیے بلند آواز والا ہونا ضروری تھا : 10 66
69 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ : 11 66
70 اپنی تعداد پر گھمنڈ کا نقصان : 11 66
71 میدان جنگ میں اطمینان اور سکینہ کانزول : 11 66
72 رسولِ خدا پیچھے نہیں ہٹے : 12 66
73 بہادری کی انتہاء ،سواری سے اُتر گئے : 12 66
74 حضرت ثابت باکمال خطیب تھے : 12 66
75 جھوٹے نبی کا گھٹیا مقصد اور نبی علیہ السلام سے گفتگو : 13 66
76 مقاصدِ نبوت : 13 66
77 مثال سے وضاحت : 13 66
78 اُسی وقت آپ نے اُسے قتل کیوں نہ کیا : 14 66
79 حضرت ثابت بن قیس پر اعتماد : 14 66
80 حضرت ثابت بن قیس کا تقوٰی اور احتیاط : 15 66
81 علماء اور ائمہ مساجد کو بھی اِس سنت پر عمل کرنا چاہیے : 15 66
82 حضرت ثابت بن قیس کو جنت کی نوید : 15 66
83 دلائل نبوت ۖ 16 1
84 (١) قرآن مقدس، سراپا معجزہ : 16 83
85 (٢) چاند کا دو ٹکڑے ہوجانا : 17 83
86 .3پتھر کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرنا 18 83
87 4۔کنکریوں کا تسبیح پڑھنا 18 83
88 (٥) درختوں کا پیغمبر علیہ السلام کی صداقت کی گواہی دینا : 19 83
89 (٦) غروب کے بعد سورج کا لوٹ آنا : 21 83
90 (٧) کھجور کے ستون کا آپ کی جدائی پربِلک بِلک کر رونا : 21 83
91 (٨) اُنگلیوں سے پانی نکلنا : 23 83
92 (٩) برکتیں ہی برکتیں : 24 83
93 (١٠) عصا اور کوڑے کا رات میں روشن ہونا : 25 83
94 مہتمم اول دارالعلوم دیوبند جناب حضرت مولانا حاجی سیّد محمد عابد صاحب 27 1
95 ملا محمود : (وفات١٣٠٤ھ/١٨٨٦ء ) 28 94
96 قیام دارالعلوم کا ذکر بزبان مولانا ذوالفقار علی : 28 94
97 ذکر بناء جامع مسجد دیوبند : 32 94
98 مسعودیوں کے علماء دیوبند پر اعتراضات 37 1
99 (١) عرش و کعبہ و کرسی کی توہین : 37 98
100 سرکارِ دوعالم ۖ کا حلیہ مبارک 40 1
101 سیرة نبوی اور مستشرقین 41 1
102 جہاد پرمستشرقین کا اعتراض : 41 101
103 مقصد ِجہاد دین پرجبر نہیں رفع فساد ہے : 42 101
104 جامعہ مدنیہ جدید کی زیرِ تعمیر عمارت کا نقشہ 48 1
105 مصائب وآلام سے بچنے کے شرعی نسخے 49 1
106 (١) گناہوں سے بچنا اور کثرت سے استغفا ر پڑھنا : 49 105
107 (٢) اپنا فرض منصبی پورا کرنا : 52 105
108 (٣) دُعاء کا اہتمام کرنا : 53 105
109 (٤) صدقہ و خیرات کا اہتمام کرنا : 54 105
110 (٥) مسنون اور اد و وظائف کا پڑھنا : 55 105
111 تکالیف سے فوری نجات کا راستہ : 56 105
112 ہر مصیبت و تکلیف کا علاج : 56 105
113 آفات ومشکلات سے حفاظت کا نسخہ : 56 105
114 تمام بلائوں سے حفاظت : 56 105
115 سحر اور نظربد سے حفاظت : 57 105
116 انتقال پر ملال 57 1
117 ہر لمحہ پیشِ نظر مرضیِ جاناں رہے 58 1
118 دینی مسائل 60 1
119 ( نماز کو توڑنے والی چیزوں کا بیان ) 60 118
120 ١۔ نماز میں بولنا یا بِلا ضرورت آواز نکالنا : 60 118
121 ٢۔ ایسا عمل کرنا جو کثیر ہو اور نماز کی جنس سے نہ ہو : 61 118
122 (٣) نماز کے اندر کھانا پینا : 62 118
123 اخبار الجامعہ 64 1
Flag Counter