ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2003 |
اكستان |
|
باہر پڑھا رہا ہے اور اس نے چا رکعت والی نماز میں مسافرکی سی نماز پڑھائی اور مقتدی کو امام کے سہو کا شبہہ ہوا تو اس صورت میں بھی مقتدی چار رکعت پوری کرے اور بعد نماز کے امام کا حال معلوم کرے تواچھا ہے۔ اگر معلوم نہ کرے تو نماز فاسد نہیں ہوگی کیونکہ بستی سے باہر امام کا مسافر ہونا ہی ظاہر ہے۔ اسی طرح اگر امام چار رکعت والی نماز بستی میں یا جنگل میں پڑھائے اور کسی مقتدی کو اس کے متعلق مسافر ہونے کا شبہہ ہو لیکن امام نے پوری چار رکعت پڑھائیں تب بھی نماز کے بعد مقتدی کو امام کے بارے میں تحقیق حال کرنا واجب نہیں کیونکہ اصل یہی ہے کہ آدمی مسافر نہ ہو۔ (٧) مقتدی کو تمام ارکان میں سوائے قرأت کے امام کا شریک رہنا خواہ امام کے ساتھ ادا کرے یا اس کے بعد یا اس سے پہلے بشرطیکہ اسی رکن کے اخیر تک امام اس کا شریک ہو جائے ۔پہلی صورت کی مثال یہ ہے کہ امام کے ساتھ ہی رکوع وسجدہ وغیرہ کرے۔ دوسری صو رت کی مثال امام رکوع کرکے کھڑا ہو جائے اس کے بعد مقتدی رکوع کرے۔ تیسری صورت کی مثال یہ ہے کہ امام سے پہلے رکوع کرے مگر رکوع میں اتنی دیر تک رہے کہ امام کا رکوع اس سے مل جائے۔ مسئلہ : اگر کسی رکن میں امام کے ساتھ شرکت نہ کی جائے مثلاً امام رکوع کرے اور مقتدی رکوع نہ کرے یا امام دو سجدے کرے اور مقتدی ایک ہی سجدہ کرے یا کسی رکن کی ابتداء اس امام سے پہلے کی جائے اور اخیر تک امام اس میں شریک نہ ہو مثلاً مقتدی امام سے پہلے رکوع میں جائے اور قبل اس کے کہ امام رکوع میں جائے مقتدی کھڑا ہو جائے توان دونوں صورت میں اقتداء درست نہ ہوگی ۔ (٨) امام کا واجب الانفراد نہ ہونایعنی ایسے شخص کے پیچھے اقتداء درست نہیں جس کا اس وقت منفرد رہنا ضروری ہے جیسے کہ مسبوق کہ اس کوامام کی نماز ختم ہوجانے کے بعد اپھی چھوٹی ہوئی رکعتوں کا تنہا پڑھنا ضروری ہے ۔پس اگر کوئی شخص کسی مسبوق کی اقتداء کرے تو درست نہ ہوگی ۔ (٩) امام کو کسی کا مقتدی نہ ہونا یعنی ایسے شخص کوامام نہ بنانا چاہیے جو خود کسی کا مقتدی ہو خواہ حقیقتاً جیسے مدرک یا حکماجیسے لاحق اپنی ان رکعتوں میں جو امام کے ساتھ اس کو نہیں ملیں مقتدی کا حکم رکھتا ہے۔ (١٠) مقتدی کی حالت کاامام سے کم یا برابر ہونا ۔ مسئلہ : قیام کرنے والے کی اقتداء قیام سے عاجز کے پیچھے درست ہے۔ شرع میں معذور کا قعور بمنزلہ قیام کے ہے۔ مسئلہ : تیمم کرنے والے کے پیچھے خواہ وضو کا ہو یا غسل کا وضو اورغسل کرنے والے کی اقتدا ء درست ہے اس لیے کہ تیمم ،وضو اور غسل کا حکم طہارت میں یکساں ہے۔ کوئی کسی سے کم زیادہ نہیں ۔ مسئلہ : مسح کرنے والے کے پیچھے خواہ موزوں پر کرتا ہویا پٹی پر دھونے والے کی اقتداء درست ہے اس لیے کہ مسح کرنا اور دھونا دونوں ایک ہی درجہ کی طہارت ہیں۔