ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2003 |
اكستان |
|
درست نہ ہوگی ۔مثلاً امام ظہر کی نماز پڑھتا ہو اور مقتدی عصر کی نماز کی نیت کرے یا امام کل کی ظہر کی نماز پڑھتا ہو اور مقتدی آج کی ظہر کی ۔ہاں اگر دونوں کل کی ظہر کی قضا پڑھتے ہوں یا دونوں آج ہی کی ظہر کی قضا پڑھتے ہوں تو درست ہے۔ البتہ اگر امام فرض پڑھتا ہو اور مقتدی نفل پڑھتا ہوتو اقتداء صحیح ہے اس لیے کہ امام کی نماز قوی ہے۔ مسئلہ : مقتدی اگر تراویح پڑھنا چاہے اور امام نفل پڑھتا ہو تب بھی اقتداء صحیح نہ ہوگی کیونکہ امام کی نماز ضعیف ہے۔ (٤) امام کی نماز کا صحیح ہونا ۔اگر امام کی نماز فاسد ہوگی تو سب قتدیوں کی نماز بھی فاسدہو جائے گی خواہ یہ فساد نماز ختم ہونے سے پہلے معلوم ہو جائے یا ختم ہونے کے بعد ۔مثلاً امام کے کپڑوں میں نجاستِ غلیظہ معاف مقدار سے زیادہ تھی اور نمازختم ہونے کے بعد یا نماز کے دوران میں معلوم ہوئی یا امام کو وضو نہ تھا اور نماز کے بعد یا اثنائے نماز میں اس کو خیال آیا۔ مسئلہ : امام کی نماز اگر کسی وجہ سے فاسد ہوگئی ہو اور مقتدیوں کو معلوم نہ ہو تو امام پر ضروری ہے کہ وہ اپنے مقتدیوں کو حتی الامکان اس کی اطلاع کرے تاکہ وہ لوگ اپنی نمازوں کا اعادہ کرلیں خواہ اطلاع آدمی کے ذریعہ سے کی جائے یا خط کے ذریعہ سے ۔ (٥) مقتدی کا امام کے آگے نہ کھڑا ہونا پھر خواہ برابر کھڑا ہو یا پیچھے ۔اگر مقتدی امام سے آگے کھڑا ہوتو اس کی اقتداء درست نہ ہوگی ۔امام سے آگے کھڑا ہونااس وقت سمجھا جائے گاجب مقتدی کی ایڑی امام کی ایڑی سے آگے ہو جائے۔اگر ایڑی آگے نہ ہو اور انگلیاں آگے بڑھ جائیں خواہ پیر کے بڑے ہونے کے سبب سے یا انگلیوں کے لمبے ہونے کی وجہ سے تو یہ آگے کھڑا ہونانہ سمجھا جائے گا اوراقتداء درست ہوگی۔ (٦) مقتدی کو امام کے انتقالات کا مثل رکوع ،قومے ،سجدے، قعدے وغیرہ کا علم ہونا خواہ امام کو دیکھ کر یا کسی مکبر(تکبیر کہنے والے)کی آواز سن کر یا کسی مقتدی کو دیکھ کو ۔اگر مقتدی کو امام کے انتقالات کا علم نہ ہو خواہ کسی چیز کے حائل ہوجانے کے سبب سے یا اور کسی وجہ سے تو اقتداء صحیح نہ ہوگی اور اگر کوئی حائل مثل پردے یا دیوار وغیرہ کے ہو مگر امام کے انتقالات معلوم ہوتے ہوں اگر لائوڈسپیکر کے ذریعہ ہوں تو اقتداء درست ۔ مسئلہ : اگر امام کا مسافر یا مقیم ہونا معلوم نہ ہو لیکن قرائن سے اس کے مقیم ہونے کا خیال ہو بشرطیکہ وہ شہر یا گائوں کے اندر ہواور مسافر کی سی نماز پڑھائے یعنی چار رکعت والی نماز میں دو رکعت پر سلام پھیر دے اور مقتدی کو اس سلام سے امام کے متعلق سہو کا شبہہ ہوتو اس مقتدی کواپنی چار رکعت پوری کرلینے کے بعد امام کی حالت کی تحقیق کرنا واجب ہے کہ امام کو سہو ہوا یا وہ مسافر تھا۔ اگر تحقیق سے مسافر ہونا معلوم ہواتو نماز صحیح ہوگئی اور اگر سہو کا ہونامحقق ہوا تو نماز کا اعادہ کرے۔ مسئلہ : اگر امام کے متعلق مقیم ہونے کا خیال ہے مگر وہ نماز شہر یا گائوں میں نہیں پڑھا رہا بلکہ شہر یا گائوں سے