ماہنامہ انوار مدینہ لاہورستمبر 2002 |
اكستان |
|
بھی ہے اور سبب گمراہی بھی ۔ یضل بہ کثیرا و یھدی بہ کثیرا ( اللہ اس قرآن کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہت سے لوگوںکو ہدایت دیتا ہے) پس صراط الذین انعمت علیھم میں جہاں صراط مستقیم کی پہچان بتائی گئی ہے وہاں براہ راست قرآن و حدیث سے ہدایت تلاش کرنے اور مطالعہ قرآن کے ذریعے حق سمجھنے والوں کے لیے رہنمائی بھی ہے جو اوپر عرض کی گئی ہے۔ عربی گرائمر کے لحاظ سے الصراط المستقیم مبدل منہ ہے اور صراط الذین بدل ہے ۔ان میں سے مبدل منہ مقصور نہیںہوتا بلکہ بدل مقصور ہوتا ہے اور مبدل منہ کا ذکر بدل سے پہلے بطور تمہید کے ہوتا ہے جیسے نماز سے پہلے صفحہ نمبر 24 کی عبارت وضو خود مقصور نہیں ہوتا بلکہ نماز کے لیے تمہید ہوتا ہے سو صراط الذین انعمت علیھم کوبدل کی صورت میں ذکر کرکے بتا دیا گیا کہ اللہ تعالی کے ہاں مقصوداور مقبول منعم علیم کا طریق ہے اس لیے کہ وہی دراصل سبیل اللہ ، سبیل الرسول او ر سبیل المؤمنین ہے اس سے انحراف سبیل خدا اور سبیل رسول سے انحراف ہے اوریہی فرقہ واریت ہے لہٰذامنعم علیہم کے طریق او ر سبیل المؤمنین سے ہٹ جانا اور اس سے کٹ جانا فر قہ واریت ہے ۔اگر فرقہ واریت سے بچنا اورفرقہ واریت کو ختم کرنا ہے تو منعم کے طریق سے جُڑ جائیں۔ (٣) سرور کائنات ۖ کاارشاد گرامی ہے ان اللّٰہ لا یجمع اُمتی علی الضلالة (ترمذی) پکی بات ہے کہ اللہ تعالی میری اُمت کو گمراہی پر جمع نہیں کرے گا لہٰذا اُمت کا متواتر و متفقہ راستہ جو شروع سے چلا آ رہا ہے اور اُمتِ مسلمہ میں تواتر سے چلتا رہا ہے وہ حق ہے اس سے ہٹے اور کٹے ہو ئے راستے باطل ہیں اور اَن گنت ہیں لہٰذا سب کو اسی ایک راستہ پر چلنا چاہیے تاکہ ہم بھی ایک ہو جائیں اورجدید تحقیقات کرکے نئے نئے راستہ نکالنا چھوڑ دیں کہ یہ باطل اوروحدت اُمت کے لیے سم ِقاتل ہیں ۔ (٤) عن عبداللّٰہ بن مسعود قال خط لنا رسول اللّٰہ ۖ خطا ثم قال ھذا سبیل اللّٰہ ثم خط خطوطاعن یمینہ و عن شمالہ و قال ھذہ سبل علی کل سبیل منہا شیطان یدعو الیہ وقرأ وان ھذا صراطی مستقیما فا تبعو ہ ولا تتبع السبل فتفرق بکم عن سبیلہ (مشکٰوة ص ٣٠) حضرت عبداللہ