ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2012 |
¾اكستان Ù |
|
بھنک بھی اَنگریزوں کو نہ لگ سکے ورنہ وہ دارُالعلوم دیو بند کو بند کرادیں گے جو اُس وقت اِسلام اَور مسلمانوں کی حفاظت اَور مجاہدین ِآزادی کی تربیت کا واحد مرکز تھا۔ لیکن ١٩١٦ء میں حضرت شیخ الہند نے یہ اِعلان کر کے سارے لوگوں کو چونکا دیا کہ دارُالعلوم دیوبند ١٨٦٦ء میں قائم ہوا تھا، اَب ١٩١٦ء شروع ہو چکا ہے یعنی آج دارُالعلوم دیوبند کے قیام کو پورے پچاس سال ہوگئے، ہمارے اُستاذ محترم حضرت نانوتوی رحمةاللہ علیہ نے اِس کا سنگ ِ نبیاد رکھتے ہوئے دُعا فرمائی تھی کہ : ''رب العالمین تحریک تحفظِ اِسلام کے اِس نوزائدہ مرکز کی صرف پچاس سال حفاظت فرمادے تو پھر یہ تحریک دُنیا بھر میں اپنی جگہ آپ پیدا کر لے گی۔ '' اَب اِس کے قیام کو پچاس برس ہو چکے ہیں اللہ تعالیٰ نے اُستاذ مرحوم کی دُعا سن لی اَب مجھ کو اِس کی پرواہ نہیں کہ دارُالعلوم کے دَرو دِیوار اَب رہیں یا اِس کی اِینٹ سے اِینٹ بجادی جائے لیکن وطن کی آزادی جس کے لیے ہمارے اَساتذہ نے بیش بہا قربانیاں دی ہیں جو کہ اُن کی زندگی کی سب سے بڑی آرزو اَور اُن کی آنکھوں کاسب سے بڑا حسین خواب تھا اَب اِس کی تعبیر تلاش کرنے کاوقت آگیا ہے۔ اَب یہ ہماری سب سے اہم اَور سب سے پہلی ذمہ داری ہے جس کو اَب بالکل مؤخر نہیں کیا جاسکتا اَور پھر سب سے پہلے اُنہوں نے اپنے شاگردوں اَور معتقدں کی ایک ٹیم کو اَفغانستان روانہ کیا اِس ہدایت کے ساتھ کہ وہاں جا کر ایک جلاوطن آزاد ہند حکومت قائم کریں جس کے لیے اَفراد و اَسباب اَور وسائل و حالات حضرت شیخ الہند خود تیار کرا چکے تھے، آزاد ہند حکومت کے رُوحِ رَواں اِمام ِ اِنقلاب مولانا عبیداللہ سندھی فرماتے ہیں کہ ہم یہ سمجھ کر اَفغانستان گئے تھے کہ ہمیں برسوں اپنے مشن کے لیے ماحول بنانا پڑے گا لیکن حضرت شیخ الہند کی تقریبًا چالیس سالہ کوششوں کا ثمرہ ہمارے سامنے تھا جو خود اپنے کچھ معتمد رُفقاء کو لے کر حجاز ِ مقدس روانہ ہو گئے تھے جہاں خلافت ِ عثمانیہ ترکی کے اہم ذمہ داران