ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2012 |
اكستان |
|
تصریح ہو جو بیع کو لازم ہوتی ہے خواہ وہ بات کسی شرط کے ساتھ معلق ہو یا مستقبل کی طرف مضاف ہو اَلبتہ اِتنی بات جائز ہے کہ صکوک ِمضاربہ بیع کے وعدے کو متضمن ہو۔ اِس حالت میں بیع اُس قیمت پر تام ہوگی جو باخبر لوگ بتائیں اَور جس پر مضارب اَور حاملین ِصکوک دونوں راضی ہوں۔ یہ بھی جائز نہیں کہ منشور یا صکوک میں کوئی ایسی بات صراحةً ذکر ہوجو نفع میں شرکت کے اِحتمال کو قطع کرتی ہو۔ اَگر ایسی کوئی تصریح ہوگی تو عقد باطل ہوگا۔ نفع میں اِستحقاق نفع ظاہر ہونے سے ثابت ہوتا ہے جبکہ نفع میں ملکیت اُس وقت آتی ہے جب سارا مال نقدی کی صورت میںآجائے یااُس کی قیمت لگوالی جائے اَور نفع لازم ہوتا ہے تقسیم سے۔ منشور میں کوئی ایسی بات بھی ذکر نہ کی جائے جو ایک دَور کی مدت پوری ہونے پر نفع کی تقسیم کی متعین نسبت کو قطع کرے۔ منشور یا صکوک میں ایسی کوئی صراحت بھی نہ ہونی چاہیے جو شرعًا ممنوع ہو مثلًا یہ کہ عقد مضاربہ کے فریقوں سے علیحدہ ایک تیسرا فریق جو اپنی ذات اَور اپنی مالی ذمہ داری کے اِعتبار سے مستقل ہو اَور جو محض تبرع کے طور پر کسی خاص کارو بار میں ایک مخصوص حد تک نقصان کی تلافی کی ذمہ داری اِختیار کرے اَور اِس تبرع کے مقابل کوئی عوض نہ ہو۔ (جاری ہے) مخیرحضرات سے اَپیل جامعہ مدنیہ جدیدمیں بحمد اللہ چار منزلہ دارُالاقامہ (ہوسٹل )کی تعمیر شروع ہو چکی ہے پہلی منزل پر ڈھائی کروڑ روپے کی لاگت کا تخمینہ ہے، مخیر حضرات کو اِس کارِ خیر میں بڑ ھ چڑھ کر حصہ لینے کی دعوت دی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔ (اِدارہ)