ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2012 |
¾اكستان Ù |
|
معاملات دیون کے اَحکام جاری ہوں گے۔ (ج) جب مالِ مضاربت ملی جلی موجودات کی صورت میں ہو یعنی نقدی ،دیون، اَشیاء اَور منافع ملے جلے ہوں تو : (i) اگر غالب حصہ اَشیاء اَور منافع کا ہو توصکوک کا تداول آپس میں طے کردہ قیمت پر جائز ہے۔ (ii) اَور اَگرغالب حصہ نقدی اَور دیون پر مشتمل ہو تو تداول میں بیع صرف اَور بیع دیون کے شرعی اَحکام کی رعایت کرنا ضروری ہے۔ سرمایہ کاری کے لیے یا کسی کارو باری منصوبے کو قائم رکھنے کے لیے صکوک کی فروخت سے جو شخص سرمایہ اکھٹا کرتا ہے وہ مضارب ہوتاہے۔ مضارب کاروباری منصوبے کا مالک نہیں ہوتا سوائے اُس حصے کے جس کے بقدر اُس نے خود اپنے لیے صکوک خریدے ہوں۔ علاوہ اَزیں کاروبار میں نفع ہونے پر وہ منشور میں طے شدہ نسبت سے نفع میں شریک بن جاتا ہے۔ صکوک کی فروخت سے حاصل شدہ سرمائے پر اَور اُس سے خریدے ہوئے سامان پر مضارب کا قبضہ اَمانت کا ہوتا ہے اَور اُس کے ضائع ہونے پر مضارب پر تاوان نہیں مگر صرف اُس وقت جب مضارب سے تاوان کا موجب شرعی سبب پایا گیا ہو۔ مذکورہ بالا ضوابط کا لحاظ رکھتے ہوئے صکوک کا تداول اَوراقِ مالیہ کے بازار میں جائز ہے جبکہ وہ بازار موجود ہو اَور شرعی ضابطوں کو پورا کرتا ہو۔ صکوک کے اِجراء کے منشور میں یا خود صکوک ِ مضاربہ میں یہ تصریح نہ ہونی چاہیے کہ رأس المال کا اَور قطعی نفع کا تاوان مضارب کے ذمہ ہوگا یا (اَشیاء کی قیمت بڑھ جانے سے) رأس المال میں جو نفع ہو مضارب اُس کا بھی ذمہ دار ہوگا۔ یہ بات خواہ تصریحاً ذکر ہو یا ضمنًا بہر حال تاوان کی شرط باطل ہوگی اَور مضارب اُجرتِ مثل کا حقدار ہوگا۔ یہ بھی جائز نہیں کہ منشور میں یا اُس کے موافق جاری کیے گئے صکوک میں کسی ایسی بات کی