ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2012 |
¾اكستان Ù |
|
اَب اِس عریضہ سے اَحقر کا مقصد ِوحید یہ ہے کہ اِس عاجز سے جس نوع کی خدمت متصور ہو سکتی ہے اِس میں کسی قسم کا دریغ ممکن نہیں ۔آپ یوں تصور کریں کہ یہاں پاکستان میں میرا ایک اَیسا خادم بھی موجود ہے جس کی تمام طاقتیں آپ کی مملوکہ ہیں اَور جوہر مصیبت غم ودَرد (اَعاذنا اللہ) میں آپ کے ساتھ شریک ہو سکتا ہے۔ عاجز کے قلب میں آپ کے لیے جو جگہ ہے اُس کی تعبیر قالب ِاَلفاظ میں ڈھل نہیں سکتی اَور نہ قلم اَیسے نقوش لکھنے پر قادر ہے جو مطابقةًاِس پردلالت کرتے ہوں۔ حضرت الاستاذ جناب مولانا محمد میاں صاحب دامت برکاتہم کے اَلطاف و عنایات اِس حقیر پر اِتنے ہیں جن کا واجبی تقاضا ہے کہ میں بِلا چوں چرا اَپنے کو آپ کے لیے وقف کر دُوں، میرے عریضہ کو تصنع اَور عرفی تحریروں سے کوسوں دُور سمجھیے نہایت سادہ اَلفاظ میں پھر آپ سے اِستدعا کروں گا کہ جو بھی اَحقر کے لائق خدمت ہوسکے بِلاتکلف اَحقر کو لکھیں حسب الاستطاعت اِس اہم فریضہ کے اَدا کرنے کو فخر سمجھوں گا، اَبھی پرسوں حضرت الاستاذ مدظلہم کا والانامہ موصول ہوا تھامحبت آمیز الفاظ سے اَحقر کو نوازا گیا تھا۔بالکل عافیت سے ہیں ،الحمد للہ۔ اُستاذ محترم حضرت مولانا محمد عجب نور صاحب بنوں شہر میں ایک مدرسہ عربیہ کی بنیاد ڈال چکے ہیں ۔اہتمام کی خدمت اُن کے سپرد ہے خوش و خرم ہیں واپس مراد آباد جانے کا خیال ترک کرچکے ہیںاُن کے صاحبزادے حافظ عبدالحلیم یہاں میر ے پاس مقیم ہیں۔مختصر المعانی، سُلّم، نور الا نوار پڑھتے ہیں ۔ اَحقر کے مختصر حالات یہ ہیں کہ پہلے تین سال میانوالی کے ایک مدرسہ میں خدمت تدریس اَنجام دیتا رہا ۔پھر اِس کے بعد اپنے صوبہ سرحد میں خدمت ِعلوم باقاعدہ کرتا رہا نیز سیاسی خدمات بھی حتی الوسع کرتا رہا۔ پاکستان بن جانے کے بعد سیاسی تعطل