ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2012 |
اكستان |
|
مجھے مولانا محمد صاحب بنوری نے بتلایا کہ بائیں جانب برابر میں وہ بیٹھے تھے ۔مفتی صاحب نے ایک بار اَللّٰہُ کہا اَور اُن کی گود میں آگئے ۔ ١ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ یہ بہت بڑا حادثہ ہے کہ حضرت مفتی صاحب ہم سے جدا ہوگئے لیکن خود اُن کی کتنی بڑی خوش نصیبی ہے کہ سفرِ حج، علمی مجلس (جو اِخلاص ِنیت سے شروع کی گئی) اَور پھر زندگی کے آخری ثانیہ میں اللہ تبارک وتعالیٰ کا نام پاک زبان پر جاری ہوا۔ سبحان اللہ! کیسی وہبی سعادت ہے۔ کَمَا تَحْیَوْنَ تَمُوْتُوْنَ وَکَمَا تَمُوْتُوْنَ تُحْشَرُوْنَ ۔''جیسے زندگی گزارو گے اُسی طرح مرو گے اَور جیسے مرو گے اُسی طرح اُٹھائے جاؤ گے۔'' حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے شہید کیے جانے سے پہلے فرمایا تھا : وَلَسْتُ اُبَالِیْ حِیْنَ اُقْتَلُ مُسْلِمًا ٍعَلٰی اَیِّ جَنْبٍ کَانَ فِی اللّٰہِ مَصْرَعِیْ ''جب میں اِسلام کی حالت میں شہید کیا جا رہا ہوں تو مجھے یہ پروا نہیں کہ کس کروٹ خدا کی راہ میں میری شہادت ہوئی۔'' اللہ تعالیٰ اُن کو بلاحساب جنت میں داخل فرمائے اَور اُن کی اَولاد کو ایسے اَوصافِ جلیلہ اَور اپنے دَربار میں قبولیت عطا فرمائے، آمین ۔ سیّد حا مد میاں غفرلہ خازن نظام العلماء پاکستان (کالعدم جمعیت علمائے اِسلام ضیائی مارشل لائ،ناقل) شنبہ ١١ صفر ١٤٠١ھ/ ٢٠ دسمبر ١٩٨٠ء ١ ٤ ذی الحجہ ١٤٠٠ ھ / ١٤ اَکتوبر ١٩٨٠ء بروز منگل