ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2012 |
¾اكستان Ù |
|
١٤ اکتوبر کی صبح جامعہ اِسلامیہ بنوری ٹاؤن تشریف لائے۔ غسل فرمایا کپڑوں کو خوشبو لگوائی وہ کپڑے زیب ِ تن فرمائے۔ مولانا محمد بنوری بتلا رہے تھے کہ حضرت مفتی صاحب اُس دِن نمایاں طور پر منور چہرہ نظر آرہے تھے اَور اُن پر یہ نور یقینًا رُوحانی تھا۔ طبیعت بہت بہتر اَور بشاش تھی کچھ دیر بعد مسائل پر گفتگو کے لیے وہ میٹنگ ہونے والی تھی جس کے بارے میں مولانا تقی صاحب عثمانی نے تحریر فرمایا کہ : ''مفتی صاحب نے فرمایا سب سے پہلے تو مجھے یہ عرض کرنا ہے کہ زکات کا مسئلہ چونکہ خالص دینی مسئلہ ہے اِس لیے ہمیں اِس پر خالص فقہی نقطۂ نظر سے گفتگو کرنی چاہیے اَور کسی بھی دُوسرے نقطۂ نظر یا کسی قسم کی نفسانیت کو دَرمیان میں نہیں آنا چاہیے۔ الحمدللہ! مجھے اِس پر اطمینان ہے کہ اگر آپ کی بات میری سمجھ میں آگئی تو اُسے قبول کرنے میں مجھے کوئی عذر نہ ہوگا اَور یہی اُمید بحمدللہ آپ سے بھی ہے کہ اگر میری بات آپ کی سمجھ میں آگئی تو آپ اپنی بات پر اِصرار نہیں کریں گے اَور اِسی اُمید پر میں نے زبانی گفتگو مناسب سمجھی ہے تاکہ اگر فتوؤں میں اِتفاق کی صورت پیدا ہوجائے توزیادہ بہتر ہے۔'' مولانا تقی صاحب عثمانی لکھتے ہیں : ''حضرت مفتی صاحب نے اِس نکتے کی وضاحت بڑی تفصیل کے ساتھ مدلل اَنداز میں فرمائی اِس پوری گفتگو میں کسی اَدنیٰ کمزورغائب دماغی یا کسی جسمانی یا ذہنی تکلیف کا مطلق اِحساس نہیں ہوا۔ حضرت مفتی صاحب پہلے نکتہ سے فارغ ہو چکے تھے اَور دُوسرے نکتے کو بیان کرنے سے پہلے بات کو سمیٹ رہے تھے کہ اَحقر نے جو اُن کے بالکل سامنے بیٹھا تھا چہرہ پر اَچانک معمولی سی کمزوری اَور سفیدی محسوس کی اَور چند لمحوں کے لیے ہونٹوں میں ہلکی سی لرزش بھی پیدا ہوئی اِسی حالت میں اَچانک حضرت مفتی صاحب نے اَپنا بایاں ہاتھ پیشانی اَور سر پر رکھا اَور کچھ کہے بغیر اپنی بائیں کروٹ پر گر گئے۔''