ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2012 |
¾اكستان Ù |
|
(10) صکوک اِستصناع جب مدت ِ اِستصناع میں اعیانِ مملوکہ میں تبدیل ہوجائیں یعنی صکوک کی رقم آرڈر کے مال میں تبدیل ہوجائے اُس وقت اِن صکوک کے حاملین کے لیے اِن کا تداول جائز ہے کیونکہ اُس وقت یہ صکوک اِن موجودات کی نمائندگی کررہے ہیں جن میں تصرف کرنا جائز ہے۔ جب صکوک کی رقم کو موازی اِستصناع کی قیمت کے طور پر دے دیا ہو یا آرڈر دینے والے کو بنایا ہوا سامان سپرد کردیا گیا ہو تو اُس وقت صکوک کے تداول میں دیون میں تصرفات کے اَحکام و ضوابط کی پابندی لازمی ہوگی کیونکہ اُس وقت صکوک آرڈر دینے والے کے ذمہ ثمن کی نمائندگی کرتے ہیں اَور وہ دین ہے۔ (11) صکوک سلم کا تداول جائز نہیں ہے۔ صک دین سلم کے ایک حصہ کی نمائندگی کرتا ہے اِس لیے اِس کے تداول میں دیون کے اَحکام کی پابندی لازمی ہے۔ (12) مرابحہ کا سامان خریدار کو دیے جانے کے بعد صکوکِ مرابحہ چونکہ مشتری کے ذمہ دین کی نمائندگی کرتے ہیں اِس لیے اِن کے تداول میں دیون کے ضابطوں کی پابندی لازمی ہوگی۔ سامان خریدنے کے بعد لیکن مشتری کے ہاتھ فروخت کرنے سے پہلے صکوک کا تداول جائز ہے کیونکہ اُس وقت صکوک ایسے موجودات کی نمائندگی کرتے ہیں جن کا تداول جائز ہے۔ (13) صکوکِ مضاربت، صکوکِ مشارکت اَور سرمایہ کاری کے صکوک وکالت کی فروختگی اَور تخصیص اَور منافع واعیان میں کاروباری عمل شروع ہونے کے بعد اِن صکوک کا تداول جائز ہے۔ مجمع فقہ اِسلامی نے خاص صکوک ِمضاربت کے تداول کے بارے میں لکھا کہ : صکوکِ مضاربت کی فروخت کی مدت ختم ہونے کے بعد ہی اِن کا تداول جائز ہے جبکہ مندرجہ ذیل ضابطوں کو پورا کیا گیا ہو : (i) صکوکِ مضاربت کی فروخت سے مال مضاربت جمع ہوگا اَور کاروبار میں لگانے سے پہلے وہ نقدی کی صورت میں ہوگا۔ اِس حالت میں صکوک کے تداول کی حقیقت نقدی کے نقدی کے عوض میں تبادلہ کی ہوگی لہٰذا اِس تداول میں بیع صَرف کے اَحکام کی پابندی کرنا ہوگی۔