Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2012

¾اكستان Ù

9 - 64
 ہیں کہ جو میں نے رسول اللہ  ۖ  سے آپ کی زبانِ مبارک سے خود سن کر سیکھی ہیں یاد کی ہیں، بہت بڑی خوش نصیبی ہے اِتنا بڑا حصہ علم کا رسول اللہ  ۖ کی ذاتِ گرامی سے حاصل ہونا یہ بہت بڑی     خوش نصیبی ہے۔ 
حضرت عمر   اَور  اِبن مسعود  :
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اِنہیں کوفہ بھیجا ،کوفہ بھیجا تو پھر لکھا اہلِ کوفہ کو  آثَرْتُکُمْ لِعَبْدِاللّٰہِ عَلٰی نَفْسِیْ  ١  میں نے تمہارے پاس جو بھیجا ہے اِنہیںعبداللہ کو تو میں نے تمہیں اَپنے اُوپر ترجیح دی   ہے کہیں کہتے ہیں کہ  کُنَیْف  مُلِیَٔ عِلْمًا  ٢     عبداللہ اِبن مسعود علم سے بھرے ہوئے کوٹھا  ٣  ہیں   یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے ہے۔ اِن کے بارے میں رسول اللہ  ۖ  اَور جواُن کے بعد  آئے سب کے سب اِن کی فضیلت کے، تقوے کے ،بلندیٔ نظر، فقاہت، دین کی سمجھ، گہرائی ہر چیز  کے قائل رہے ہیں۔
ایک صاحب ہیں بڑے درجے کے محدث بہت بڑے آدمی ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں مختلف حلقوں میں بیٹھا، ایک دفعہ بات ہو رہی تھی تو حضرت عبداللہ اِبن ِمسعود رضی اللہ عنہ نے ایک بات فرمائی اُنہوں نے کہا کہ  فَذٰلِکَ الْمَحْفُوْظُوْنَ مِنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ  ۖ  اَنِّیْ مِنْ اَعْلَمِھِمْ وَلَسْتُ بِاَفْضَلِھِمْ  جتنے بھی صحابہ کرام ہیں جو خدا کے فضل سے محفوظ ہیں وہ سب کے سب یہ بات جانتے ہیں کہ میں اِن میں سب سے زیادہ علم والا ہوں (مگر) اَفضل نہیں ہوں۔
 اَفضلیت کا تعلق ہماری رائے سے نہیں اَللہ کی پسند سے ہے  :اَفضلیت کو اَپنی نہیں بتا رہے جو بات سچ مچ ہے بس اُتنی بتا رہے ہیں ۔اَفضل کون ہے وہ تو اللہ جان سکتا ہے کیونکہ اَفضلیت کا مدار ہماری رائے پر نہیں ہے وہ خدا کی پسند پر ہے تو اِس لیے فرمایا کہ وَلَسْتُ بِاَفْضَلِھِمْ میں یہ نہیں کہتا کہ میں اُن میں اَفضل ہوں لیکن سب یہ جانتے ہیں کہ میں اُن سب 
   ١   نصب الرایة ج  ١َوّل  منزلة الکوفة من علوم الاجتہاد   ٢   اَیضًا   ٣   ذخیرہ ،گودام 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 4 1
3 درس حدیث 6 1
4 اِن کی بلند فکر اَور آپ ۖ کا اِن پر اعتماد : 8 3
5 قرآن اَور اِبن مسعود : 8 3
6 حضرت عمر اَور اِبن مسعود : 9 3
7 اَفضلیت کا تعلق ہماری رائے سے نہیں اَللہ کی پسند سے ہے : 9 3
8 اَفضلیت کا تعلق ہماری رائے سے نہیں اَللہ کی پسند سے ہے : 9 3
9 اِن کی کوفہ آمد اَور خدمات : 10 3
10 کافروں کی تعزیرات کی اِسلامی قوانین پر ترجیح : 10 3
11 حضرت اِبن مسعود اَور کوفہ : 10 3
12 اِسلام کا عدالتی نظام ،یہودی مسلمان ہوگیا : 11 3
13 اَسماء الرجال میں اِن کا مقام : 12 3
14 اِن کی تواضع اَور ہدایات : 13 3
15 صحابہ کرام کا مقام اِبن ِمسعود کی زبانی : 14 3
16 اللہ سے اُمید بھی خوف بھی : 15 3
17 علمی مضامین سلسلہ نمبر ٥٣ ، قسط : ١ 16 1
18 حضرت مولانا مفتی محمود صاحب نوراللہ مرقدہ 16 17
19 ایک جامع صفات شخصیت 16 17
20 اَساتذہ 16 17
21 تعظیم ِاَساتذہ : 20 17
22 قسط : ٢٤ اَنفَاسِ قدسیہ 22 1
23 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین اَحمدصاحب مدنی کی خصوصیات 22 1
24 تعلیم ِ سلوک : 22 23
25 تسبیحات ِ ستہ : 22 23
26 قسط : ١٠ پردہ کے اَحکام 25 1
27 چہرہ کا پردہ واجب ہونے کی شرعی دَلیل : 25 26
28 ایک شبہ اَور اُس کا جواب : 26 26
29 چہرہ کا پردہ واجب ہونے کی قطعی دلیل : 26 26
30 چہرہ کا پردہ ضروری ہونے کی ایک اَور دَلیل : 27 26
31 عورت کے لیے چہرہ کھولنے اَور مردوں کو دیکھنے کا شرعی حکم : 27 26
32 قسط : ٦ مروجہ محفل ِمیلاد 29 1
33 بریلوی حضرات کا شیخ عبد الحق محدث دہلوی کی ایک عبارت سے اِستدلال اَور اُس کا جواب : 29 32
34 حضرت شیخ کی پوری عبارت ملاحظہ ہو : 29 32
35 قسط : ٦سیرت خلفائے راشدین 32 1
36 حالات بعد ِ ہجرت : 32 35
37 غزوۂ بدر : 32 35
38 غزوۂ اُحد : 34 35
39 غزوۂ خندق و خیبر : 34 35
40 قسط : ٣ اِسلامی صکوک (SUKUK) : تعارف اَورتحفظات 35 1
41 صکوک کے اِجراء کا منشور 36 40
42 تداولِ صکوک (صکوک کی خریدو فروخت ) 37 40
43 اِسلامی صکوک کے تداول کے شرعی ضابطے : 37 40
44 (1 ) جب اَکثر موجودات نقدی ہوں : 38 40
45 (2) جب اَکثر موجودات دیون ہوں : 38 40
46 (3) جب موجودات اعیان و منافع ہوں : 40 40
47 (4) جب موجودات میں نقود، دیون، اعیان اَور منافع مِلے جُلے ہوں : 40 40
48 منقبت خالُ المؤمنین سیّدنا اَمیر معاویہ رضی اللہ عنہ 45 1
49 قسط : ٢، آخری بنیادپرستی کامصداق ! مغرب کی نظرمیں 47 1
50 حصولِ علم کے لیے ضروری چیز : 47 49
51 طالب ِعلمی کے زمانہ میں حصولِ علم کے علاوہ دیگر مشغولیات سے بچنا : 48 49
52 طلب ِعلم کے زمانہ میں غیر علمی سرگرمی اپنے آپ کو خراب کرنا ہے : 50 49
53 نصابِ تعلیم کا مقصد : 51 49
54 مدرسے کو ہرقسم کی تحریک سے پاک رکھیں : 53 49
55 قسط : ٢شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی کی زندگی ایک نظر میں 54 1
56 قسط : ٣ عربی زبان کی خصوصیات و اِمتیازات 57 1
57 (٣) نئے کلمات کی گنجائش : 57 56
58 (٤) قابلِ قبول صوتی نظام : 58 56
59 اَخبار الجامعہ 62 1
Flag Counter