ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2012 |
¾اكستان Ù |
|
ہیں کہ جو میں نے رسول اللہ ۖ سے آپ کی زبانِ مبارک سے خود سن کر سیکھی ہیں یاد کی ہیں، بہت بڑی خوش نصیبی ہے اِتنا بڑا حصہ علم کا رسول اللہ ۖ کی ذاتِ گرامی سے حاصل ہونا یہ بہت بڑی خوش نصیبی ہے۔ حضرت عمر اَور اِبن مسعود : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اِنہیں کوفہ بھیجا ،کوفہ بھیجا تو پھر لکھا اہلِ کوفہ کو آثَرْتُکُمْ لِعَبْدِاللّٰہِ عَلٰی نَفْسِیْ ١ میں نے تمہارے پاس جو بھیجا ہے اِنہیںعبداللہ کو تو میں نے تمہیں اَپنے اُوپر ترجیح دی ہے کہیں کہتے ہیں کہ کُنَیْف مُلِیَٔ عِلْمًا ٢ عبداللہ اِبن مسعود علم سے بھرے ہوئے کوٹھا ٣ ہیں یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے ہے۔ اِن کے بارے میں رسول اللہ ۖ اَور جواُن کے بعد آئے سب کے سب اِن کی فضیلت کے، تقوے کے ،بلندیٔ نظر، فقاہت، دین کی سمجھ، گہرائی ہر چیز کے قائل رہے ہیں۔ ایک صاحب ہیں بڑے درجے کے محدث بہت بڑے آدمی ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں مختلف حلقوں میں بیٹھا، ایک دفعہ بات ہو رہی تھی تو حضرت عبداللہ اِبن ِمسعود رضی اللہ عنہ نے ایک بات فرمائی اُنہوں نے کہا کہ فَذٰلِکَ الْمَحْفُوْظُوْنَ مِنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ۖ اَنِّیْ مِنْ اَعْلَمِھِمْ وَلَسْتُ بِاَفْضَلِھِمْ جتنے بھی صحابہ کرام ہیں جو خدا کے فضل سے محفوظ ہیں وہ سب کے سب یہ بات جانتے ہیں کہ میں اِن میں سب سے زیادہ علم والا ہوں (مگر) اَفضل نہیں ہوں۔ اَفضلیت کا تعلق ہماری رائے سے نہیں اَللہ کی پسند سے ہے :اَفضلیت کو اَپنی نہیں بتا رہے جو بات سچ مچ ہے بس اُتنی بتا رہے ہیں ۔اَفضل کون ہے وہ تو اللہ جان سکتا ہے کیونکہ اَفضلیت کا مدار ہماری رائے پر نہیں ہے وہ خدا کی پسند پر ہے تو اِس لیے فرمایا کہ وَلَسْتُ بِاَفْضَلِھِمْ میں یہ نہیں کہتا کہ میں اُن میں اَفضل ہوں لیکن سب یہ جانتے ہیں کہ میں اُن سب ١ نصب الرایة ج ١َوّل منزلة الکوفة من علوم الاجتہاد ٢ اَیضًا ٣ ذخیرہ ،گودام