ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2012 |
¾اكستان Ù |
|
مولانا حافظ اَحمد صاحب جو حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی رحمة اللہ علیہما کے صاحبزادے اَور موجودہ مہتمم مولانا قاری محمد طیب صاحب مدظلہم کے والد ماجد تھے، یہیں کے فاضل تھے۔ مفتی اعظم ہند مولا نا مفتی کفایت اللہ صاحب، مولانا عبدالغفور صاحب غزنوی (سابق قاضی القضاة غزنی)، حضرت مولانا محمود صاحب طرزئی (سابق وزیرِ اعظم اَفغانستان) یہ سب حضرات اِسی مدرسہ کے فارغ التحصیل تھے۔ حضرت مولانا فخرالدین صاحب نے اِس معیاری درسگاہ میں بہت طویل عرصہ پڑھایا کہ مراد آباد وہی گویا اُن کے لیے وطن بن گیا ۔١٩٤٤ء میں حضرت مولانا سیّد حسین اَحمد صاحب مدنی رحمة اللہ علیہ کے زمانۂ اِسارت میں اَور پھر اُن کی وفات کے بعد سے لے کر خود اپنی وفات تک دارُالعلوم دیو بند میں بخاری شریف پڑھاتے رہے ،دارُ العلوم کے شیخ الحدیث رہے اَور جمعیة علمائِ ہند کے صدر رہے اُنہوں نے بخاری شریف (مراد آباد اَور دیو بند میں مِلا کر) تقریبًا ساٹھ سال پڑھائی ہے۔ ٧٢ء میںعلالت بڑھنے پر مراد آباد گئے وہیں وفات پائی اَور مدفون ہوئے۔ رحمہ اللہ (تاریخ ِ وفات: ٢٠ صفر ١٣٩٢ھ ) مدارسِ عربیہ میں ریٹائر منٹ اَور زیادہ عمر ہوجانے پر'' عالم'' کی صلاحیتیں ختم ہوجانے کا عقیدہ نہیں ہے۔ اِس لیے ہر عالم بحمداللہ تا وفات پڑھاتا رہتا ہے اُس کی جسمانی کمزوری کی یہ رعایت کردی جاتی ہے کہ اَسباق کی تعداد کم کردی جاتی ہے۔ مولانا فخرالدین صاحب کی وفات اُن دنوں میں ہوئی جب مفتی صاحب وزیرِاعلیٰ ہونے ہی والے تھے۔ تقریب ِ وزارت کے موقع پر (جمعیة علمائے اِسلام ) موجودہ نظام العلماء کے سب اَراکین وغیرہ پشاور گئے تھے میں نے اِسی موقع پر حضرت مفتی صاحب کو اِن کی وفات کی اِطلاع دی تھی۔ (٢) حضرت مفتی صاحب کے دُوسرے اُستاذِ جلیل حضرت مولانا عجب نور صاحب رحمة اللہ علیہ تھے۔ مولانا عجب نور صاحب بنوں کے رہنے والے تھے۔ علومِ عقلیہ کی تحصیل ریاست بھوپال میں نہایت قابل اَساتذہ سے کی تھی فلکیات میں بہت مہارت تھی خود بھی بہت مطالعہ کرتے تھے اَور ایسے طلبہ سے بہت خوش رہتے تھے جو اُن سے دَورانِ سبق میںدَقیق سوالات کرے گذشتہ پڑھی ہوئی کتابیں