ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2011 |
¾اكستان Ù |
|
ہمارے خیال میں اِس طرح کی شکست خوردگی کے بجائے جوابی دلائل سوچنی چاہییں اَحکام اِلٰہیہ کا فلسفہ تلاش کرنے پر اپنی قوت صرف کرنی چاہیے۔ اگر ہم ایسا کریں تو ترقی یافتہ دُنیا کو خاموش کرسکتے ہیں۔ مثلاً آپ آج کی ترقی یافتہ دُنیا سے یہ سوال کر سکتے ہیں کہ اُن کے مذہب یا مذہبی قانون یا غیر مذہبی قانون میں ایسے مصیبت زدہ خاندان کی مالی اِمداد کی کیا صورت ہے کہ جس کے اَفراد خانہ میں سے ایک عورت قتل ہوگئی ہواَور قاتل کا کوئی پتہ نہ چل رہا ہو۔ ظاہر ہے ایسی صورت میں مہذب دُنیا کے پاس تعزیتی بیان کے سوا اَور کچھ نہیں ہے لیکن اِسلام ایسی صورت میں حکم دیتا ہے کہ اُس کا خون رائیگاں نہیں جاسکتا۔ بیت المال (اسٹیٹ بنک) اُس کی دیت اَدا کرے گا۔ اَب سوال یہ ہوتا ہے کہ عورت سے بیت المال کو کیا ملتا تھا۔ جواب ہوگا ''کچھ نہیں'' کیونکہ اِسلام نے عورت کے ذمہ کمانا رکھا ہی نہیں اُس کا خرچ یاماں باپ اَور ذی رحم محرم کے ذمہ ہے یا شوہر کے ذمہ بلکہ اِسلام نے گھر میں بھی عورت پر زیادہ مشقت نہیں ڈالی۔ اگر وہ یہ کہتی ہے کہ میں بچوں کی تربیت نہیں کر سکتی تو شوہر دُودھ پلانے والی '' مُرْضِعَہْ '' یعنی بچوں کو دُودھ پلانے والی عورت کا اِنتظام کرے گا بیوی کو مجبور نہیں کرسکتا۔ غرض بیت المال عورت سے کسی آمدنی کی توقع وابستہ نہیں رکھتا اَور اِسلام عورت کو طرح طرح کی سہولتیں دِلا تا ہے۔ وراثت میں بھی مرد سے نصف دلاتا ہے جبکہ مصارف خانہ داری اُس کے ذمہ نہیں ڈالتا۔ اگر عورت کماتی ہے تو اُس کی اپنی مرضی، اِنکم ٹیکس اِسلام میں نہیں ہے جو اُس سے لیا جائے نہ سیل ٹیکس ہے نہ ہائوس ٹیکس سوائے اِس کے کہ اُس کے پاس عشری یا خراجی زمین ہو یا بہت جانور ہوں۔ لہٰذا اَگر کوئی عورت قتل ہوجاتی ہے اَور قاتل کا پتہ ہی نہیں چلتا تو ایسی صورت میں یا تو بیت المال اُس کے خون کو رائیگاں جانے دے یا کچھ نہ کچھ اُس کے وارِثوں کو دے پھر اَگر دیتا ہے تو کتنا دے۔ اِن سب باتوں کا جواب یہ ہے کہ اُس کی مرد سے نصف دیت دے دی جائے گی۔ اَب غور کریں کہ اِسلامی قوانین کے تحت بیت المال کو عمومًا مرد سے آمدنی ہوتی ہے عورت سے نہیں مگر پھر بھی قانون یہی رکھا گیا کہ جس سے آمدنی نہیں ہوتی اُس کی بھی دیت اَدا کی جائے اَور جس سے آمدنی ہوتی ہے اُس سے نصف اَدا کی جائے جو معقول رقم ہوگی تو اِنصاف سے غور کریں کہ اِسلام نے عورت کو اِس