ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2011 |
اكستان |
|
نے اپنے اَور حُر کے ساتھیوں کے سامنے خطبہ دیا اَور حمدو ثنا کے بعد کہا کہ لوگو! رسول اللہ ۖ نے فرمایا ہے کہ جس نے ایسے بادشاہ کو دیکھا جو ظالم ہے، خدا کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال کرتا ہے، خدا کے عہد کو توڑتا ہے، سنت رسول ۖ کی مخالفت کرتا ہے، خدا کے بندوں میں گناہ اَور زیادتی کے ساتھ حکومت کرتا ہے اَور دیکھنے والے کو اِس پر عملاً یا قولاًغیرت نہ آئی تو خدا کو یہ حق ہے کہ اُس بادشاہ کی جگہ اُس دیکھنے والے کو دوزخ میں داخل کردے ،میں تم کو آگاہ کرتا ہوں کہ اِن لوگوں (بنی اُمیہ) نے شیطان کی اِطاعت قبول کر لی ہے اَور رحمن کی اِطاعت چھوڑ دی ہے۔ خدا کی زمین پر فتنہ و فساد پھیلا رکھا ہے ،حدود اللہ کو بیکار کردیا ہے، مالِ غنیمت میں اپنا حصہ زیادہ لیتے ہیں، خدا کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال اَور اُس کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام کردیا ہے، اِس لیے مجھے اِن باتوں پر غیرت آنے کازیادہ حق ہے، میرے پاس بُلاوے کے تمہارے خطوط آئے ، بیعت کا پیام لے کر تمہارے قاصد آئے اُنہوں نے کہا کہ تم مجھے دُشمنوں کے حوالہ نہ کرو گے اَور بے یارو مدد گار نہ چھوڑوگے، پس اگر تم اپنی بیعت کے حقوق پورے کرو گے تو ہدایت پاؤ گے۔ میں حسین بن علی اِبن ِاَبی طالب اَور فاطمہ بنت ِرسول اللہ ۖ کا بیٹا ہوں۔ میری جان تمہاری جانوں کے ساتھ اَور میری اہلیت تمارے گھروالوں کے ساتھ ہیں۔ تمہارے لیے میری ذات نمونہ ہے اَب اگر تم اپنے فرائض پورے نہ کرو گے اَور اپنا عہد و پیما ن توڑ کر اپنی گردنوں سے میری بیعت کا حلقہ اُتاروگے تو خدا کی قسم تم سے یہ بھی بعید نہیں، تم میرے باپ بھائی اَور میرے ابن ِعم مسلم کے ساتھ ایسا کر چکے ہو، وہ فریب خوردہ ہے جو تمہارے فریب میں آگیا، تم نے نقض عہد کر کے اپنا حصہ ضائع کردیا جو شخص عہد توڑتا ہے اُس کا وبال اُسی پر ہوتا ہے اَور عنقریب خدا مجھ کو تمہاری اِمداد سے بے نیاز کردے گا۔ ''والسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ (طبری ج ٧ ص ٣٠٠)