ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2011 |
¾اكستان Ù |
|
قسط : ٣١ ، آخری قسط تربیت ِ اَولاد ( اَز افادات : حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی ) زیر ِنظر رسالہ '' تربیت ِ اولاد'' حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کے اِفادات کا مرتب مجموعہ ہے جس میں عقل ونقل اور تجربہ کی روشنی میں اَولاد کے ہونے ، نہ ہونے، ہوکر مرجانے اور حالت ِ حمل اور پیدائش سے لے کر زمانۂ بلوغ تک رُوحانی وجسمانی تعلیم وتربیت کے اِسلامی طریقے اَور شرعی احکام بتلائے گئے ہیں ۔ پیدائش کے بعد پیش آنے والے معاملات ، عقیقہ، ختنہ وغیرہ اُمور تفصیل کے ساتھ ذکر کیے گئے ہیں، مرد عورت کے لیے ماں باپ بننے سے پہلے اور اُس کے بعد اِس کا مطالعہ اَولاد کی صحیح رہنمائی کے لیے انشاء اللہ مفید ہوگا۔اِس کے مطابق عمل کرنے سے اَولاد نہ صرف دُنیا میں آنکھوں کی ٹھنڈک ہوگی بلکہ ذخیرہ ٔ آخرت بھی ثابت ہوگی اِنشاء اللہ۔اللہ پاک زائد سے زا ئد مسلمانوں کو اِس سے استفادہ کی توفیق نصیب فرمائے۔ اگر کسی طرح اَولاد کی اِصلاح نہ ہو اَور اُس نے عاجز اَور تنگ کر رکھا ہو : بچہ کی تعلیم کرنا چاہیے (لیکن) یہ ایسی چیز ہے کہ کسی کے قبضہ و اِختیار میں نہیں بعض دفعہ لاکھ کوشش کرو مگر اَولاد نالائق ہی ہوتی ہے۔ فرمایا ایک صاحب نے تحریر کیا کہ میرا لڑکا آوارہ ہوگیا ہے مجھ کو اُس سے بہت پریشانی ہے کیا تدبیر کروں۔ میں نے جواب میں لکھا دیا کہ تدبیر تو کرو مگر اُس پر مرتب ثمرہ (یعنی نتیجہ مرتب ہونے) کااِنتظار نہ کرو، پریشانی ختم ہونے کی تدبیر اِس کے سوا اَور کچھ نہیں ہے کہ تدبیر تو کرتا رہے مگر ثمرہ مرتب ہونے کی (یعنی یہ کہ اِس کی مکمل اِصلاح ہوجائے) اَور جیسا میں چاہتاہوں ویسا ہوجائے اِس بات کی فکر چھوڑدے۔ یہ جواب نصوص (یعنی قرآن و حدیث )کے موافق ہے۔ کوئی آزاد مشرب ہوتا تویہ جواب لکھتا کہ تدبیر ہی چھوڑ دو مگر ایسا کرناحق ِشفقت کے خلاف ہے۔ باقی ثمرہ کی فکر سوبات یہ ہے کہ اَگر محبوب سے (یعنی