ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2011 |
اكستان |
|
اِس تقریر سے یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ یزید کے مقابلہ میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا آنا محض حصولِ خلافت کے لیے نہ تھا بلکہ اِس کا مقصد اِسلامی خلافت کا اِحیاء تھا یعنی موروثی حکومت کے اَثر سے اُس کے نظام میں جو خرابیاں پیداہو گئی تھیں اُن کو دُور کر کے پھر خلافت ِراشدہ کی یاد تازہ کردی جائے، اِس کا ثبوت اِس طرح بھی ملتا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے خود اِس کی خواہش نہیں کی بلکہ جب اہلِ عراق نے پیہم خطوط سے آپ کو اِس کا یقین دِلادیا کہ اُن کے لیے یزید کی حکومت ناقابلِ برداشت ہے، اُس وقت آپ نے کوفہ کا قصد فرمایا اِسی لیے آپ کے تشریف لانے کے بعد جب عراقیوں نے دھوکا دیا تو آپ واپس جانے پر آمادہ ہوگئے اَور فرمایا کہ تم نے اپنی شکایات کی بنا ء پر مجھے بُلایا تھا اَب جبکہ تم اِسے پسند نہیں کرتے تو مجھے بھی اِس کی خواہش نہیں ہے ،میں جہاں سے آیا ہوں واپس چلا جاؤں گا۔ دَرحقیقت حضرت اِمام حسین رضی اللہ عنہ کے دعویٔ خلافت اَور شہادت کے بارے میں اِفراط و تفریط سے پاک صحیح مسلک یہ ہے کہ نہ آپ شیعی عقیدہ کے مطابق خلیفہ ٔ برحق تھے اَور نہ خوارج کے عقیدہ کے مطابق نعوذباللہ باغی جس کا قتل رَواہو بلکہ آپ کوفیوں کی دعوت پر ایک نیک مقصد تجدید ِ خلافت کے لیے اُٹھے تھے اَور اُس کی راہ میں شہادت سے سرفراز ہوئے۔ (جاری ہے) مخیرحضرات سے اَپیل جامعہ مدنیہ جدیدمیں بحمد اللہ چار منزلہ دارُالاقامہ (ہوسٹل )کی تعمیر شروع ہو چکی ہے پہلی منزل پر ڈھائی کروڑ روپے کی لاگت کا تخمینہ ہے، مخیر حضرات کو اِس کارِ خیر میں بڑ ھ چڑھ کر حصہ لینے کی دعوت دی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔( اِدارہ)