Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2011

اكستان

40 - 65
اَور بعض دُوسرے بزرگ موجود تھے جن کے ہوتے ہوئے یزید کا نام کسی طرح نہیں لیا جا سکتا تھا لیکن    معاویہ رضی اللہ عنہ نے اِن تمام شخصیتوں سے قطع نظر کر کے یزید کو ولی عہد بنادیا۔ 
اِس کے بعد جب یزید خلیفہ ہوا تو بھی اُس نے اپنے آپ کو اِس منصب کا اہل ثابت نہیں کیا، بجائے اِس کے کہ وہ اِن بزرگوں کے مشورہ سے نظام ِ حکومت چلاتا یا کم اَزکم اَمیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرح نرم پالیسی رکھتا اُس نے تخت ِخلافت پر قدم رکھتے ہی اِستبداد شروع کر دیا اَور عمائد ِمکہ سے بیعت لینے کے اَحکام جاری کیے۔ ایسی صورت میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ یا اِس نا منصفانہ حکم کو مان لیتے اَور یزید کی غیرشرعی بیعت کوقبول کر کے تاریخ اِسلام میں ظلم و نااِنصافی کے سامنے سپر ڈالنے کی مثال قائم کرتے یا اِس کے خلاف آواز بلند کر کے اِستبداد کے خلاف عملی جہاد کا سبق دیتے ۔اِن دونوں صورتوں میں آپ نے دُوسری صورت اِختیار کی اَور اُس حکومت کے خلاف اُٹھ کر جو غیر شرعی طریقہ پر قائم ہوئی تھی اَور جس نے بہت سی اِسلامی روایات کو پامال کر رکھا تھا، مسلمانوں کو ہمیشہ کے لیے حریت وآزادی کا سبق دے دیا جس کا ثبوت خود حضرت حسین رضی اللہ عنہ اَور آپ کے دُعاة کی تقریروں سے ملتا ہے۔ 
چنانچہ مسلم بن عقیل پر جب ابن ِزیاد نے یہ فرد ِجرم قائم کی کہ  ''  لوگ متحد الخیال تھے، ایک زبان تھے، تم اُنہیں پراگندہ کرنے اُن میں پھوٹ ڈلوانے اَور اُن کو آپس میں لڑانے کے لیے آئے۔ '' 
تو مسلم بن عقیل نے اُس کا یہ جواب دیا  : ''ہر گز نہیں میں خود سے نہیں آیا بلکہ شہر (کوفہ) والوں کا خیال تھا کہ تمہارے باپ نے اِن کے بھلے آدمیوں کو قتل کیا اُن کا خون بہایا اَور اُن میں کسرٰی و قیصر کا سا طرزِ عمل اِختیار کیا، اِس لیے ہم اُن کے پاس آئے تاکہ ہم لوگوں کو اِنصاف کا حکم اَور کتاب اللہ کے حکم کی دعوت دیں۔'' 
مسلم بن عقیل کے بعد جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ خود تشریف لائے تو مقام ِ بیضہ میں اپنے آنے کے یہ اَسباب بیان کیے  : ''اَبومخنف عقبہ بن اَبی العیزار سے روایت کرتے ہیں مقام ِبیضہ میںحسین رضی اللہ عنہ
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 4 1
3 درس حديث 6 1
4 سب نیک ہوں تو عمل آسان ہو جاتا ہے،بعد کے لوگوں کا اَجر : 7 3
5 جہاد کی قسمیں۔علماء کے قلم کی سیاہی اَور شہدا کا خون : 8 3
6 اگر حکومت کوتاہی کرے گی تو دُوسرے لوگوں سے اللہ دین کی خدمت لے گا : 8 3
7 دین کے خادموں کی سوچ ؟ : 8 3
8 حضرت مدنی کا دھوبی ،مخالفت کی برداشت : 9 3
9 بعد والوں کے لیے سات گنا مبارک بادی : 10 3
10 ''دَاڑھی'' پر دھمکی دینا اَور دھمکی میں آجانا دونوں باتیں غلط ہیں : 10 3
11 پنڈت کا اِسلام : 11 3
12 تقسیم سے پہلے اِسلام کی طرف رغبت : 11 3
13 صبح چار بجے قتل کیا اَور دس بجے قاتلوں کے سر قلم : 12 3
14 بچہ کا قتل اَور حضرت عمر کا فیصلہ : 13 3
15 علمی مضامین سلسلہ نمبر٤٤ (قسط : ٣،آخری ) 15 1
16 نفاذِ شریعت کا سیدھا راستہ کلمات ِچند بر قانونِ اِسلامی 15 15
17 تکمِلہ '' کلماتِ چند '' 15 15
18 مسلَّمہ فقہائِ اِسلام کی تشریحات 15 15
19 وفیات 23 1
20 قسط : ١٤ اَنفَاسِ قدسیہ 24 1
21 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمدصاحب مدنی کی خصوصیات 24 20
22 توکل : 24 20
23 قسط : ٣١ ، آخری قسط 28 1
24 تربیت ِ اَولاد 28 23
25 اگر کسی طرح اَولاد کی اِصلاح نہ ہو اَور اُس نے عاجز اَور تنگ کر رکھا ہو : 28 23
26 بچے اَگر ناجائز کام کے لیے ضد کریں : 29 23
27 ایک عبرتناک واقعہ : 29 23
28 اَولاد کی زیادہ محبت عذاب ہے : 30 23
29 مردوں کی ذمہ داری : 30 23
30 بچوں کی شوخ مزاجی اَور ایک حکایت : 31 23
31 روزہ کی رُوحانی، جسمانی اَور اِجتماعی خصوصیات 32 1
32 دُوسری جگہ اِرشاد ہوا : 34 1
33 قسط : ٢ حضرت اِمام حسین بن علی رضی اللہ عنہما 37 1
34 واقعہ شہادت پر ایک نظر : 37 33
35 قسط : ٣ ، آخر ي ا ستاذ العلماء والقراء حضرت مولانا قاری شریف اَحمد صاحب نور اللہ مرقدہ 43 1
36 حالات وخدمات 43 35
37 تاریخ وتذکرہ : 43 35
38 فضائل : 43 35
39 حقوق : 44 35
40 عمومی دِینیات : 44 35
41 خدمات کا ایک اہم گوشہ : 45 35
42 اہل علم کی آراء : 46 35
43 دارُ العلوم دیوبند سے والہانہ تعلق : 48 35
44 علالت واِنتقال : 49 35
45 نیکیوں کا موسم 50 1
46 مسلمان کا اِمتیاز : 51 45
47 اِنسانیت کامعیار : 51 45
48 دینی سیزن : 52 45
49 ہر عبادت کے لیے سیزن : 54 45
50 سیزن دَر سیزن میں سیزن : 54 45
51 قسط : ٣،آخریاِانسداد توہین ِرسالت قانون سے متعلق سوالوں کا تفصیلی جائزہ 55 1
52 : پاکستان میں توہین ِرسالت قانون کے سلسلہ میں 60 51
53 اُٹھنے والے سوالات کا تفصیلی جائزہ 60 51
54 دینی مسائل ( مسجد کے آداب و اَحکام ) 61 1
55 مسجد میں دُنیا کے مباح کام : 61 54
56 اَخبار الجامعہ 64 1
Flag Counter