ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2011 |
اكستان |
|
اَور بعض دُوسرے بزرگ موجود تھے جن کے ہوتے ہوئے یزید کا نام کسی طرح نہیں لیا جا سکتا تھا لیکن معاویہ رضی اللہ عنہ نے اِن تمام شخصیتوں سے قطع نظر کر کے یزید کو ولی عہد بنادیا۔ اِس کے بعد جب یزید خلیفہ ہوا تو بھی اُس نے اپنے آپ کو اِس منصب کا اہل ثابت نہیں کیا، بجائے اِس کے کہ وہ اِن بزرگوں کے مشورہ سے نظام ِ حکومت چلاتا یا کم اَزکم اَمیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرح نرم پالیسی رکھتا اُس نے تخت ِخلافت پر قدم رکھتے ہی اِستبداد شروع کر دیا اَور عمائد ِمکہ سے بیعت لینے کے اَحکام جاری کیے۔ ایسی صورت میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ یا اِس نا منصفانہ حکم کو مان لیتے اَور یزید کی غیرشرعی بیعت کوقبول کر کے تاریخ اِسلام میں ظلم و نااِنصافی کے سامنے سپر ڈالنے کی مثال قائم کرتے یا اِس کے خلاف آواز بلند کر کے اِستبداد کے خلاف عملی جہاد کا سبق دیتے ۔اِن دونوں صورتوں میں آپ نے دُوسری صورت اِختیار کی اَور اُس حکومت کے خلاف اُٹھ کر جو غیر شرعی طریقہ پر قائم ہوئی تھی اَور جس نے بہت سی اِسلامی روایات کو پامال کر رکھا تھا، مسلمانوں کو ہمیشہ کے لیے حریت وآزادی کا سبق دے دیا جس کا ثبوت خود حضرت حسین رضی اللہ عنہ اَور آپ کے دُعاة کی تقریروں سے ملتا ہے۔ چنانچہ مسلم بن عقیل پر جب ابن ِزیاد نے یہ فرد ِجرم قائم کی کہ '' لوگ متحد الخیال تھے، ایک زبان تھے، تم اُنہیں پراگندہ کرنے اُن میں پھوٹ ڈلوانے اَور اُن کو آپس میں لڑانے کے لیے آئے۔ '' تو مسلم بن عقیل نے اُس کا یہ جواب دیا : ''ہر گز نہیں میں خود سے نہیں آیا بلکہ شہر (کوفہ) والوں کا خیال تھا کہ تمہارے باپ نے اِن کے بھلے آدمیوں کو قتل کیا اُن کا خون بہایا اَور اُن میں کسرٰی و قیصر کا سا طرزِ عمل اِختیار کیا، اِس لیے ہم اُن کے پاس آئے تاکہ ہم لوگوں کو اِنصاف کا حکم اَور کتاب اللہ کے حکم کی دعوت دیں۔'' مسلم بن عقیل کے بعد جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ خود تشریف لائے تو مقام ِ بیضہ میں اپنے آنے کے یہ اَسباب بیان کیے : ''اَبومخنف عقبہ بن اَبی العیزار سے روایت کرتے ہیں مقام ِبیضہ میںحسین رضی اللہ عنہ