ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2010 |
اكستان |
|
قراردادِ پاکستان منظور ہونے کے بعد اَخباروں میں یہ مطالبات پیش ہونے لگے کہ جناح صاحب قرارداد کے مطابق سکیم کی تفصیلات اَور پیچیدگیوں کی وضاحت کریں۔ قائد اعظم نے یہ بات ماننے سے اِنکار کردیا اُن کا کہنا تھا پہلے علیحدگی کا اُصول تسلیم کرلیا جائے تفصیلات کے لیے بہت وقت پڑا ہے۔ ایک دفعہ بابو راجندر پرشاد نے اِس پر کہا ''اگر کوئی اسکیم موجود ہے تو مسلم لیگ کے صدر کا تفصیلات بتانے سے گریز سمجھ میں نہیں آتا'' قائد اعظم خاموش رہے اَور اُنہوں نے اِس سلسلہ میں کچھ کہنے سے اِنکار کردیا۔''( قائد اعظم جناح مصنفہ جی الانا مترجمہ رئیس اَمروہوی مطبوعہ فیروز سنز لمیٹڈ لاہور تیسرا اَیڈیشن ص ٣٨٦) اِس سے واضح ہوتا ہے کہ ٤٠ ء سے ٤٦ ء تک طویل عرصہ میں فارمولے کے مطابق نقشہ نہیں طے کیا گیا نہ ہی مذاکرات میں کہیں پیش کیا گیا حالانکہ آدمی چھوٹا یا بڑا مکان اور چھوٹی یا بڑی زمین خریدتا یا بیچتا ہے تو اُس کا نقشہ حدودِ اَربعہ اَور محل وقوع سب سے پہلے سامنے رکھے جاتے ہیں چہ جائیکہ ایک مملکت کا مطالبہ ہورہا ہو اور اُس کی حد بندی موقوف رکھی جائے وہ واضح اَور معلوم نہ ہو۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اُن علاقوں کی آبادیوں کی ذہن سازی نہیں ہوسکی جس کے نتیجہ میں لاکھوں جانیں ضائع اَور عزتیں لُوٹی گئیں وغیرہ وغیرہ۔ اگر ذہن سازی ہوئی ہوتی تو بہت ہی بہتر ہوتا اَور کیا ہی اچھا ہوتا کہ مسلم لیگ مرکزی سطح پر ایک نقشہ پاس کرکے جَم جاتی کہ یہی لینا ہے خصوصًا جبکہ قائد اعظم کے سامنے مارچ ٤٦ء میں سکھوں کا مسئلہ آیا جیسے کہ جی الانا نے ص ٤٧٣ پر لکھا ہے۔ بسا غنیمت ہوتا کہ اِس کے بعد زیادہ سے زیادہ علاقہ اپنانے کے لیے وہاں آباد غیر مسلموں سے معاملہ طے کرنے میں مسلم لیگ کے تمام زُعماء اپنی پوری قوت صَرف کردیتے مگر معلوم ہوتا ہے کہ اِس طرف توجہ ہی نہیں کی گئی۔ ہندئووں سکھوں کے علاوہ قادیانیوں نے بھی پاکستان سے اپنے آپ کو نکالنے کی کوشش کی۔ اُنہوں نے خود کو مسلمانوں کے علاوہ کوئی اَور قوم قراردیا اَور اِن کی وجہ سے گرد اسپور پاکستان سے نکل گیا، اِسی ضلع میں نکل کر کٹھوعہ روڈ جموں و کشمیر جاتی ہے۔ اگر وہ اِنڈیا کے پاس نہ ہوتا تو اُس کے پاس کشمیر کے لیے کوئی راستہ نہ ہوتااَور گرد اسپور کے ساتھ خود بخود کشمیر پاکستان میں آجاتا۔ حتی کہ مارچ ٤٧ ء آگیا اَور بقول جی الانا اِس میں بنگال اَور پنجاب کی تقسیم کا مسئلہ شباب پر پہنچ گیا۔ (دیکھیں مذکورہ تصنیف جی الانا ص ٥٢٣)